امریکی صدارتی انتخاب: وہ عالمی رہنما جنہوں نے جو بائڈن و مبارکباد نہیں دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Joe Biden meets Vladimir Putin - 2011 picture
Reuters
جوبائیڈن ماسکو کے کھلے ناقد ہیں
سنیچر کو امریکی رہنما جوبائڈن کی امریکی صدارتی انتخاب میں کامیابی کے امکانات واضح ہونے کے بعد کئی عالمی رہنماؤں نے انہیں مبارکباد دی تاہم کئی رہنما مبارکباد دیتے ہوئے جھجھکتے رہے۔

ایسے ہی چند رہنماؤں کا ذکر جنہوں نے یا تو ان کے لیے خیرسگالی کے پیغامات بھیجے یا پھر مبارکباد کے معاملے میں زیادہ گرمجوشی نہیں دکھائیں آئی۔

اسی بارے میں

ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے انھیں متحد کرے: جو بائیڈن

جو بائیڈن صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے کیا کریں گے؟

صدر ٹرمپ کے ساتھ گزرا وہ دن جب وہ انتخاب ہارے

امریکی صدارتی انتخاب 2020: ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست کیوں ہوئی؟

روس کے صدر ولادمیر پوتن

چار سال قبل پوتن ان اولین رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو الیکشن میں جیت کی مبارکباد دی۔

اس بار جو بائیڈن کے لیے کوئی ٹویٹ، ٹیلی گرام یا فون کال نہیں تھی۔ کریملین کے ترجمان دمیتری پیسکوف کا کہنا ہے اس تاخیر کی وجہ کی وجہ ٹرمپ کی جانب سے کچھ ریاستوں میں نتائج کو قانونی طور پر چیلنج کیا جانا ہے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارا خیال ہے کہ صحیح چیز یہ ہوگی کہ ہم سرکاری نتائج کا اعلان کریں۔

تاہم ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسا شبہ ہے کہ مبارکباد نہ دیے جانے کی وجہ یہ ہے کہ ماسکو ان نتائج پر زیادہ پرجوش نہیں ہے۔

دراصل جوبائیڈن ماسکو کے کھلے ناقد ہیں اور حال ہی میں انھوں نے روس کو امریکہ کے خلاف سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔

اس کی نسبت ٹرمپ نے روس پر بہت کم تنقید کی اور روس پر یہ الزام بھی تھا کہ اس نے سن دو ہزار سولہ کے الیکشن میں مداخلت کی تاکہ ٹرمپ انتخاب جیت جائیں۔

سلوینیا کے وزیر اعظم جینز جانسا

Janez Jansa

Reuters

جانسا نے کبھی بھی ٹرمپ کے لیے اپنی حمایت کو نہیں چھپایا حتی کہ انہوں نے بدھ کو صدر ٹرمپ کو مبارکباد کے لیے ٹویٹ بھی کر دیا تھا حالانکہ اس وقت ووٹوں کی گنتی بھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔

تب سے اب تک وہ ڈیموکریٹس کے خلاف ووٹنگ میں دھوکہ دہی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ تاہم سنیچر کو انہوں نے ذرا صلح جوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ صدر کوئی بھی ہو سلووینیا اور امریکہ اسٹریٹیجک پارٹنر رہیں گے اور دوستانہ تعلقات قائم رہیں گے۔ تاہم انھوں نے ابھی جوبائیڈن کو مبارکباد نہیں دی۔

جانسا امیگریشن کی مخالف سلووینیا کی ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن ہیں وہ ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربن کے اتحادی بھی ہیں جو صدر ٹرمپ کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ سلووینیا کی باشندہ ہیں۔

تاہم سونیا کے دیگر رہنماؤں نے جو بائیڈن کو مبارکباد دی ہے جن میں سلونیا کے صدر بھی شامل ہیں۔

ایسٹونیا کے وزیر داخلہ مارٹ ہیلمے

اتوار کو ایک ریڈیو ٹاک شو کے دوران ہیلمے اور ان کے بیٹے وزیر خزانہ مارٹن ہیلمے نے امریکی انتخابات میں بڑے پیمانے پر فراڈ کے الزامات عائد کیے۔ جس کے بعد پیر کو ہیلمے نے استعفے کا اعلان کردیا۔

ہیلمے بارہا مسٹر بائڈن اور ان کے بیٹے ہنٹر پر پر بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

ان کے بیٹے کا کہنا تھا ’ تمام لوگوں کو اس مبینہ دھوکہ دہی کے بارے میں بات کرنی چاہیے‘۔

ان کا کہنا تھا جب انتخابات میں اتنے بڑے پیمانے پر دھاندلی کی جائے تو جمہوریت کے بارے میں یا قانون کی بالادستی کے بارے میں بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘

وزیراعظم جوری ریٹس نے دونوں سیاستدانوں پر تنقید کی اور مسٹر بائڈن کو مبارکباد بھی دی تاہم انھوں نے تنقید کے باوجود انہیں برخاست نہیں کیا، کیونکہ ان کا اقتدار میں رہنا ان کی جماعت کے حمایت پر منحصر ہے۔

مسٹر ہیلمے کا کہنا تھا کہ وہ اس لیے استعفی دے رہے ہیں کیونکہ کہ انہیں اسٹونیا کے میڈیا کی جانب سے اعانت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

برازیل کے صدر جائر بولسنارو

بولسناروکو صدر ٹرمپ کا اتحادی سمجھا جاتا ہے بلکہ انہیں ٹراپکس کا ٹرمپ بھی کہا جاتا ہے۔

ان کا جو بائیڈن کو مبارکباد نہ دینا کوئی حیران کن نہیں ہے کیونکہ ماضی میں بھی وہ سابق امریکی نائب صدر جوبائیڈن سے دوبدو ہو چکے ہیں۔

انھوں نے صدارتی بحث کے دوران جو بائیڈن کے اس بیان کو تباہ کن اور غیر ضروری قرار دیا تھا جس میں انھوں نے کہا کہ امریکہ ایمیزون کے جنگلات کے تحفظ کے لیے برازیل پر دباؤ ڈالے۔

برازیل کے میڈیا نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ مسٹر بولسنارو کا ارادہ ہے کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے قانونی چارہ جوئی مکمل ہونے تک انتظار کریں گے۔

میکسیکو کے صدر آندریس مینوئل لوپار ابرایڈر

صدر ٹرمپ کی کی پناہ گزینوں کے حوالے سے سخت موقف کے باوجود لاطینی امریکہ کے رہنما نے ان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کی کی کوشش کی خاص طور پر صدر ٹرمپ کی جانب سے دونوں ممالک کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے باوجود بھی بھی۔

تاہم میکسیکو کے رہنما امریکی انتخابات کے بارے میں کافی محتاط رہے اتوار کو ان کا کہنا تھا کہ وہ وہ اس حوالے سے قانونی مسائل کے حل تک انتظار کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم کوئی بے وقوفی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتے ہیں، اور نہ ہی ہم کوئی سطحی اقدام کرنا چاہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دونوں ہی صدارتی امیدواروں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

ان کے اس مبہم موقف پر پر کئی سینئر امریکی کی ڈیموکریٹ نے تنقید کی اور اسے ایک سفارتی ناکامی قرار دیا۔

Benjamin Netanyahu and Joe Biden in 2010

Reuters

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو

بنیامن نیتن یاہو بھی ایک ایسے عالمی رہنما ہیں جنہوں نے صدر ٹرمپ کے لیے اپنی پسندیدگی کو کبھی نہیں چھپایا۔

اگرچہ انھوں نے مسٹر بائڈن کو مبارکباد دی تاہم مبصرین نے ان کے الفاظ میں منتخب صدر سر یا منتخب نائب صدر جیسے الفاظ کی کمی کو محسوس کیا۔

اپنے ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ میں جو بائیڈن اور کمالا ہیرس کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، میرے چالیس سال سے جو بائیڈن کے ساتھ گرم جوش تعلقات ہیں، میں انہیں اسرائیلی ریاست کے دوست کی حیثیت سے جانتا ہوں۔‘

پیغام کے آخر میں انھوں نے صدر ٹرمپ کو ان کی دوستی کے لیے خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کی حیثیت سے قبول کرنے پر ان کے شکر گزار ہیں۔ اور یہ کہ انہوں نے کئی دہائیوں پر مبنی امریکی پالیسی کو تبدیل کیا اور ان کے حوالے سے ان کے سخت موقف پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی جوبائیڈن کو انتخاب میں کامیابی کی مبارکباد دی تاہم اس خبر کے آنے کے چوبیس گھنٹوں کے بعد۔ جبکہ مشرق وسطی کے دیگر رہنماؤں نے سنیچر کو ہی اس خبر پر پر ردعمل دیا تھا۔

اس بات کو بھی اجاگر کیا گیا کہ محمد بن سلمان نے تو تنزانیہ کے صدر کے دوبارہ انتخاب پر وقت ضائع کیے بنا ہی مبارکباد دی تھی۔

جو بائڈن نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر دوبارہ غور کرنے کا عندیہ دیا تھا خاص طور پر سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل اور یمن کی خانہ جنگی کے بعد۔

چینی صدر شی جن پنگ

شی جن پنگ نے صدر ٹرمپ کی سن 2016 میں کامیابی کے اگلے روز ہی انہیں مبارکباد دی تھی تاہم اس مرتبہ چین نے امریکہ کے انتخابات پر پر کوئی بھی ردعمل نہیں دیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن کا کہنا تھا کہ بیجنگ امریکہ کی قانونی کارروائی کے دوران صرف ایک ناظر کا کردار ادا کرے گا۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جو بائڈن چین کے معاملے میں سخت موقف کو برقرار رکھیں گے۔

ٹرمپ نے چین کو کورونا وائرس کے معاملے میں کافی تنقید کا نشانہ بنایا اور چین کے ساتھ تجارتی جنگ میں بھی بھی ملوث رہے اور چینی درآمدات پر محصولات عائد کیں۔

Kim Jong-un and Donald Trump in Vietnam - February 2019

Reuters

کوریا رہنما کم جونگ ان

کوریا کے رہنما کی جانب سے بھی امریکی انتخاب پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا یا پیر کی صبح تک کوریا کے ریاستی میڈیا میں امریکی انتخابات کے حوالے سے خاموشی چھائی رہی۔

ہم سن دو ہزار سولہ میں بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے دو دن بعد تک کوئی ذکر نہیں ہوا تھا۔

ڈونلڈ ٹرپ اور کم جونگ ان کی طوفانی قیادت میں دونوں کی تین تاریخی بالمشافہ ملاقاتیں ہوئیں۔ تاہم جو بائیڈن نے مسٹر کم کو ایک ٹھگ قرار دیا اور کہا کہ وہ ان کے ساتھ ذاتی سفارتی تعلقات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ جواباً شمالی کوریا کے رہنما نے مسٹر بائڈن کو ایک بیوقوف اور کم عقل انسان قرار دیا۔


Link box banner top

BBC
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16602 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp