کورونا وائرس: برطانیہ کووڈ 19 ویکسین فراہم کرنے کے لیے تیار، پاکستان کے فائزر کی نئی ویکسین پر تحفظات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

A woman receiving the coronavirus vaccine
BioNTech
برطانوی سیکریٹری صحت میٹ ہین کوک نے کہا ہے کہ برطانیہ کا ادارہ صحت نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کورونا وائرس کے علاج کے لیے جلد از جلد ویکسین فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ادویات ساز بین الاقوامی کمپنیوں فائزر اور بائوٹیک بھی اعلان کیا تھا کہ ان کی جانب سے بنائی گئی ویکسین کے ابتدائی تجرباتی نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ وہ نوے فیصد لوگوں کو کووڈ کی لپیٹ میں آنے سے بچا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں ایک درجن سے زیادہ ویکسینوں پر کام ہو رہا ہے جو کہ تجربات کے تیسرے اور آخری مرحلے میں ہیں لیکن یہ پہلی ویکسین ہے جس کے نتائج سامنے آئے ہیں۔

برطانوی سیکریٹری صحت میٹ ہین کوک کا کہنا تھا کہ دوا کو عوام تک پہنچانے کے لیے ویکسینیشن کلینک ہفتے کے ساتوں دن کھلیں گے اور مختلف مقامات پر قائم کیے جائیں گے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

پاکستان میں ویکسین کی آزمائش: ویکسین کون سی ہے اور آزمائش کا طریقہ کار کیا ہے

’میں آکسفورڈ کی کورونا ویکسین کے تجربے کا حصہ ہوں‘

کووڈ ویکسین: پہلی ’سنگ میل‘ ویکسین 90 فیصد تحفظ فراہم کرتی ہے

کورونا ویکسین کے پیچھے ترک نژاد جوڑے کی کہانی

انھوں نے عوام سے درخواست کی کہ تحمل سے کام لیں اور مزید کہا کہ ‘ہمیں نہیں علم ہے کہ کتنے لوگوں کو اس ویکسین کی ضرورت ہوگی’ جس کے بعد یہ کہا جا سکے کہ زندگی معمول پر واپس آ جائے۔

برطانوی حکومت نے اس ویکسین کے چار کروڑ آرڈر پہلے ہی دے دیے ہیں جس کی مدد سے دو کروڑ افراد کو یہ ویکسین دی جا سکے گی کیونکہ ایک انسان کو محفوظ کرنے کے لیے ویکسین کی کم از کم دو خوراک دینی ضروری ہو گی۔

ویکسین

EPA

یاد رہے کہ اب تک دنیا بھر میں کووڈ-19 یا کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 12 لاکھ 60 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

امریکہ میں اس وائرس کے باعث اب تک دو لاکھ 38 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ ایک کروڑ سے زیادہ سے زیادہ متاثرین کے ساتھ امریکہ ہی دنیا میں اس وبا کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

انڈیا 85 لاکھ سے زائد متاثرین کے ساتھ دنیا میں دوسرے نمبر پر سب سے متاثرہ ملک ہے جبکہ اموات کے اعتبار سے برازیل ایک لاکھ 62 ہزار سے زیادہ ہلاکتوں کے ساتھ دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔

فائزر کی ویکیسن پر پاکستان کا ردعمل

دوسری جانب فائزر کی ویکسین کے اعلان پر پاکستان حکومت کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر عطا الرحمان نے کہا ہے کہ فی الوقت اس ویکسین سے متعلق امید لگانے قبل از وقت ہوگا۔

نجی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عطا الرحمان نے کہا کہ اس ویکسین کو ابھی تک امریکہ کے دواؤں کے نگراں ادارے نے ابھی منظور نہیں کیا ہے اور اس میں مزید دو مہینے لگیں گے۔

ڈاکٹر عطا الرحمان نے مزید کہا کہ اس ویکسین کو منفی 80 ڈگری پر رکھنا ہوگا اور پاکستان سمیت تیسری دنیا کے ممالک میں منفی 80 ڈگری پر رکھنے کی سہولیات موجود نہیں ہیں جبکہ یہ بھی اس وقت نہیں معلوم کہ اس ویکسین کا اثر کتنی دیر قائم رہے گا۔

پاکستان میں چینی ویکسین کے جاری تجربے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اس میں کافی کامیابی ہوئی ہے۔

کورونا وائرس، پاکستان

EPA

کورونا وائرس کی پاکستان میں صورتحال اور ملک میں نئے لاک ڈاؤن

ادھر پاکستان میں تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کے فعال کیسز کی تعداد 20 ہزار سے زائد ہوگئی جب کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 23 افراد کورونا کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق گذشتہ دن پاکستان میں 31 ہزار سے زیادہ ٹیسٹس کیے گئے جن کے نتیجے میں 1637 متاثرین کی تشخیص ہوئی۔

اس کے علاوہ 23 ہلاکتوں کے بعد اب پاکستان میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 7000 ہو گئی ہے۔

ان حالات کے سبب پنجاب حکومت نے صوبے کے بڑے شہروں جیسے لاہور، ملتان اور راولپنڈی کے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا۔

محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ سمارٹ لاک ڈاؤن 19 نومبر تک جاری رہے گا۔

لاہور میں لاک ڈاؤن ہونے والے علاقے

  • نیو مسلم ٹاؤن سی بلاک
  • علامہ اقبال ٹاؤن کے رضا بلاک، سکندر بلاک اور عمر بلاک
  • گارڈن ٹاؤن
  • کیولری گراؤنڈ
  • ڈی ایچ اے فیز ون اے اے بلاک
  • ایچ بی ایف سی بلاک بی
  • ڈی ایچ اے فیز 6 کے سیکٹر اے اور ایل
  • عسکری 11
  • انار کلی
  • مزنگ
  • شادمان
  • گلشن راوی

ملتان میں لاک ڈاؤن ہونے والے علاقے

  • نقش آباد کالونی
  • گلگشت کالونی خیر آباد
  • مپکو کالونی
  • خواجہ آباد
  • ملتان کچہری
  • سادات کالونی

راولپنڈی میں لاک ڈاؤن ہونے والے علاقے

  • فوجی فاؤنڈیشن یونیورسٹی
  • نیولالہ زار
  • گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کہوٹہ
  • سیٹلائٹ ٹاؤن
  • عباسی آباد

حکومت پنجاب کے نوٹیفکیشن کے مطابق ان علاقوں میں مارکیٹس، شاپنگ مالز، ریسٹورینٹس، نجی اور سرکاری دفاتر بند رہیں گے جب کہ عوامی اجتماعات اور لوگوں کی آمد و رفت پر بھی پابندی ہوگی۔

تاہم طبی ادارے ، میڈیکل سٹورز، لیبارٹریاں اور کلیکشن پوائنٹس 24 گھنٹے کھلے رہیں گے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ لاک ڈاؤن والے علاقوں میں دودھ کی دکانیں، اشیا خورد و نوش کی دکانیں، بیکریاں صبح سات سے شام سات بجے تک کھلی رہیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16635 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp