ڈونلڈ ٹرمپ: امریکہ کے موجودہ صدر نے اگر صدارتی انتخاب کے نتائج تسلیم کرنے اور وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے انکار کر دیا تو کیا ہوگا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

            <figure>
  <img alt="ڈونلڈ ٹرمپ" src="https://c.files.bbci.co.uk/4272/production/_115301071_gettyimages-1229485853.jpg" height="549" width="976" />
  <footer>Getty Images</footer>
  <figcaption>متوقع نتائج کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ منتخب ہونے میں ناکام ہوگئے ہیں</figcaption>
</figure>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجمان نے کہا ہے کہ صدارتی انتخاب 2020 میں جو بائیڈن کی فتح کے خلاف قانونی جنگ ’صرف شروعات ہے۔‘

وائٹ ہاؤس میں پریس سیکریٹری کے مطابق ’الیکشن ابھی اختتام سے بہت دور ہے۔ یہ ختم نہیں ہوا۔‘

انھوں نے بغیر شواہد کے انتخاب میں بے ضابطگیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ تاحال منظم دھاندلی کے ثبوت نہیں مل سکے اور یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ نتائج پر اثر ڈالا گیا۔

رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ٹرمپ نے صدارتی دوڑ میں ہار تسلیم نہیں کی۔

کیا امریکہ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے؟

امریکہ کی 244 سالہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک صدر نے الیکشن ہارنے کے بعد وائٹ ہاؤس نہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہو۔

امریکہ کی جمہوریت اسی اصول پر قائم سمجھی جاتی ہے کہ یہاں اقتدار ایک فرد سے دوسرے فرد تک قانون کے تحت اور پُرامن انداز میں منتقل ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی صدارتی انتخاب 2020: ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست کیوں ہوئی؟

صدر ٹرمپ کے ساتھ گزرا وہ دن جب وہ انتخاب ہارے

جو بائیڈن: وہ سیاستدان جنھیں قسمت کبھی عام سا نہیں رہنے دیتی

امریکہ کی پہلی خاتون اور غیر سفیدفام نائب صدر منتخب ہونے والی کملا ہیرس کون ہیں؟

اسی وجہ سے صدر ٹرمپ کے اعلان نے ملک میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ مبصرین اب ایسے حالات پیدا ہونے سے متعلق اپنی رائے دے رہے ہیں جس کا گمان پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔

’الیکشن ابھی اختتام سے بہت دور‘

7 نومبر کو جب بڑے امریکی ذرائع ابلاغ نے جو بائیڈن کی متوقع فتح کی خبریں دیں تو اس وقت ٹرمپ واشنگٹن ڈی سی کے قریب گالف کھیلتے نظر آئے۔

ان کی انتخابی مہم کی ٹیم نے بیان جاری کیا کہ یہ الیکشن ابھی اختتام سے بہت دور ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ

Getty Images
جب بائیڈن کی متوقع فتح کا اعلان ہوا تو اس وقت ٹرمپ گالف کھیل رہے تھے

ایک بیان میں کہا گیا کہ ’بائیڈن جھوٹ بول کر خود کو فاتح قرار دے رہے ہیں اور ذرائع ابلاغ میں ان کے دوست ان کی مدد کر رہے ہیں۔ وہ سچ سے پردہ اٹھانا نہیں چاہتے۔‘

اس میں کہا گیا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ الیکشن ابھی ختم ہونے سے بہت دور ہے۔‘ انھوں نے عندیہ دیا کہ ٹرمپ قانونی چارہ جوئی کے ذریعے نتائج کی مخالفت کریں گے اور مختلف ریاستوں میں ووٹنگ کے عمل میں بدعنوانی کا دعویٰ دائر کریں گے۔

امریکی آئین کے مطابق یہ واضح ہے کہ موجودہ صدارتی دور 20 جنوری کی شام کو اختتام پذیر ہوجائے گا۔

جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق 270 سے زیادہ الیکٹورل کالج ووٹ جیت لیے ہیں۔ تو اگلے چار برسوں تک انھیں صدر رہنے کا حق ہوگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس قانونی حق اور وسائل ہیں کہ وہ ووٹنگ کے نتائج کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ مستقبل قریب میں انھیں عدالتوں میں شواہد کی بنیاد پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ’الیکشن میں فراڈ ہوا‘ ہے لیکن اب تک انھوں نے کسی ثبوت کے بغیر یہ دعویٰ کیا ہے۔

اگر وہ 20 جنوری تک ایسا نہ کرسکے تو نئے صدر کا اعلان ہوجائے گا اور ٹرمپ کو دفتر چھوڑنا ہوگا۔

ٹرمپ، وائٹ ہاؤس

Getty Images
</figure><p>ٹرمپ نے اپنی مہم کے دوران واضح طور پر کہا تھا کہ وہ اپنے اعتراضات کی بنیاد پر ’شکست تسلیم نہیں کریں گے۔‘

انھوں نے بارہا کہا تھا کہ الیکشن حکام جو مرضی کہیں وہ صدر کے منصب پر قائم رہیں گے۔ انھوں نے عندیہ دیا تھا کہ وہ صرف اس صورت میں ہار سکتے ہیں اگر الیکشن ’چوری کیا گیا ہو۔‘

تو اس سب کے پیش نظر ملک میں اس بارے میں بحث جاری ہے کہ ایسے حالات میں کیا ہوگا اگر ٹرمپ صدر برقرار رہنے کا خود ہی فیصلہ کر لیتے ہیں۔

اس ممکنہ صورتحال کے مفروضے پر جو بائیڈن سے بھی پوچھا گیا تھا۔

11 جون کو نشر ہونے والے انٹرویو میں کامیڈین ٹریور نواح نے بائیڈن سے اس بارے میں پوچھا تھا۔ اس کے جواب میں بائیڈن نے کہا تھا کہ ’ہاں میں نے اس بارے میں سوچا ہے۔

’مجھے یقین ہے کہ ایسی صورتحال میں فوج انھیں دفتر میں رہنے سے روکے گی اور آسانی سے انھیں وائٹ ہاؤس نے نکال دے گی۔‘

بائیڈن کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ووٹرز نے کرنا ہے، نہ کہ امیدواروں نے کہ انتخاب کے نتائج کیا ہوں گے۔ انھوں نے جمعے کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’امریکی عوام اس انتخاب کے نتائج طے کرے گی۔ امریکہ کی حکومت اس قابل ہے کہ وائٹ ہاؤس میں موجود کسی گھس بیٹھیے کو باہر نکال سکے۔‘

ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کام امریکی مارشلز یا سیکرٹ سروس کے پاس جائے کہ وہ ٹرمپ کو صدارتی رہائش گاہ سے باہر لے آئیں۔

سیکرٹ سروس ایک سویلین ادارہ ہے جو صدر کو سکیورٹی فراہم کرتا ہے۔ قانون کے تحت اسے تمام سابق صدور کو بھی محفوظ رکھنا ہوتا ہے اور وہ 20 جنوری کے بعد بھی ٹرمپ کو سکیورٹی فراہم کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ

Getty Images
اگر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جانے سے انکار کیا تو یہ کام سیکرٹ سروس کو دیا جاسکتا ہے

جب سے بائیڈن نو منتخب صدر بنے ہیں، سیکرٹ سروس نے ان کی سکیورٹی بھی بڑھا دی ہے۔ حکام کے مطابق اب ان کی سکیورٹی کسی صدر جتنی ہی ہے، اس بات سے قطعہ نظر کے ٹرمپ نے زور دیا ہے کہ ڈیموکریٹ امیدوار الیکشن ہار چکے ہیں۔

ایسے حالات جن کے بارے میں کبھی سوچا نہ گیا ہو

سب سے پیچیدہ صورتحال اس وقت پیدا ہوسکتی ہے کہ اگر صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے انکار کردیتے ہیں اور یہ رویہ جاری رکھتے ہیں۔

بی بی سی نے ماہرین سے دریافت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر ٹرمپ نے اپنی صدارت برقرار رکھنے کے لیے ریاستی سکیورٹی فورسز کو استعمال کیا تو پھر کیا ہوگا۔

پروفیسر ڈکوٹا روڈسل امریکہ میں قومی سلامتی کی پالیسی اور قانون سازی کے ماہر ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اقتدار میں رہنے کے لیے اگر ایک صدر بظاہر شکست کے بعد بھی اپنی طاقتوں کا ناجائز استعمال کرتا ہے تو اس سے اہم (جمہوری) روایات تباہ ہوجائیں گی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ایسا ہونا ’ناقابل فہم نہیں۔‘

وہ کہتے ہیں ’اس سے ملک، سول ملٹری تعلقات کے اہم اصولوں اور عالمی سطح پر جمہوریت کے تصور کو بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘

تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ان کی رائے میں ایسا ہونے کے امکانات بہت کم ہیں کہ ٹرمپ صدارت سے جڑے رہیں گے اور انھیں سکیورٹی فورسز کی حمایت حاصل ہوگی۔

’فوجی اہلکار آئین سے وفاداری کا حلف لیتے ہیں، نہ کہ کسی سیاستدان سے وفاداری کا جو اُس وقت اقتدار میں ہو۔ ملک میں سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز فوجی اہلکار، جوائنٹ چیفس آف سٹاف چیئرمین جنرل مارک ملی نے بارہا کہا ہے کہ امریکی انتخاب میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔‘

پروفیسر روڈسل واحد فرد نہیں جو ان مسائل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کیشا بلین، جو یونیورسٹی آف پٹسبرگ کی پروفیسر اور سماجی جدوجہد کی خاطر ہونے والے مظاہروں پر نظر رکھتی ہیں، کا کہنا ہے کہ ’صرف یہ بات کہ ہم اس چیز پر غور کر رہے ہیں کہ آیا فوج انتخاب میں مداخلت کرے گی، اس سے ملک کی افسوسناک صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔‘

’چار سال قبل اکثر امریکی اس بات پر غور نہیں کر رہے تھے۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ ٹرمپ نے کیسے پورٹ لینڈ اور واشنگٹن میں مظاہروں کے دوران وفاقی اہلکاروں کو تعینات کیا۔ یہ ایک سنجیدہ مقاملہ ہے۔

’مجھے نہیں لگتا کہ یہ صورتحال ہوگی لیکن رواں سال جو کچھ بھی ہوا ہے اس کے تناظر میں ہم اس کے امکانات کو رد نہیں کر سکتے۔‘

نسلی تعصب کے خلاف مظاہروں کے دوران ٹرمپ نے مظاہرین کو روکنے کے لیے فوج کی مدد لینے پر غور کیا تھا۔

جون 5 کو نیو یارک ٹائمز کی ایک خبر میں دعویٰ کیا گیا کہ جنرل ملی نے ٹرمپ کو قائل کیا کہ وہ 1807 میں بغاوت روکنے کے لیے بننے والے ایکٹ کا استعمال نہ کریں جس سے پورے ملک میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فوجی اہلکاروں کو متحرک کیا جاسکتا ہے۔

اخبار کے مطابق ’یہ وہ حد ہے جو کئی امریکی فوجی عبور کرنا نہیں چاہتے، اگر صدر اس کا حکم دے تب بھی نہیں۔‘

آخر میں ٹرمپ نے نیشنل گارڈ کے دستوں کو استعمال کرنے کا حکم دیا۔ صدر یا ریاست کے گورنر ان دستوں کو حالات کے تناظر میں استعمال کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ، مارک ملی

Getty Images
مارک ملی نے جون 2020 کے دوران ٹرمپ کے ساتھ ایک تباہ حال گرجا گھر کا دورہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تصویر سے ‘یہ تاثر پیدا ہوا جیسے فوج مقامی سیاست میں ملوث ہے۔’

یاد رہے کہ مارک ملی نے جون 2020 کے دوران ٹرمپ کے ساتھ ایک تباہ حال گرجا گھر کا دورہ کیا تھا۔ اس گرجا گھر کو جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد بدامنی کے دوران نقصان پہنچا تھا۔

لیکن بعد میں مارک ملی نے اپنے اس عمل پر معافی مانگ لی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تصویر سے ‘یہ تاثر پیدا ہوا جیسے فوج مقامی سیاست میں ملوث ہے۔۔۔ مجھے وہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ ایک حاضر سروس فوجی افسر ہونے کی حیثیت سے یہ ایسی غلطی ہے جس سے میں نے سیکھا ہے۔ مجھے امید ہے ہم سب اس سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔’

واشنگٹن اور پورٹ لینڈ سمیت دیگر امریکی شہروں میں مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے غیر فوجی سکیورٹی فورسز کو استعمال کیا گیا تھا جو محکمۂ ہوم لینڈ سکیورٹی کو جوابدہ ہوتی ہیں۔

کچھ لوگوں نے الیکشن سے قبل یہ قیاس آرائی کی تھی کہ ٹرمپ ان اہلکاروں کو ممکنہ طور پر اپنی مرضی سے تعینات کر سکتے ہیں۔

اگر یہ مان لیا جائے کہ فوج صدر کا سیاسی اثر و رسوخ قائم رکھنے کے لیے ان کا ساتھ نہیں دے گی، تو یہ تصور کرنا مشکل ہوگا کہ ٹرمپ اقتدار میں رہنے کے لیے کون سی کامیاب چال چل سکتے ہیں۔

کیا پُر تشدد واقعات پیش آسکتے ہیں؟

پروفیسر روڈسل موجودہ حالات پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہیں۔

سیاسی امور کے اس ماہر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’میں نے اس بارے میں لکھا کہ صدر ٹرمپ ایک صدارتی حکمنامہ استعمال کر سکتے ہیں یا ان کے حامیوں کے زیر اثر محکمۂ قانون ایک حکم جاری کر سکتا ہے۔ اس سے عندیہ ملے گا کہ انتظامیہ ٹرمپ کو اس متنازع انتخاب کا فاتح سمجھے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ یہ ’بالکل غلط اور ناقابل منظور ہوگا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’20 جنوری کی شام کے بعد بھی اگر فوج کو حکم دیا جاتا ہے کہ صدر کو سیلوٹ کریں تو اس سے فوج ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہوجائے گی۔‘

منی سوٹا میں ٹرمپ کا حامی

Getty Images
ماہرین کے مطابق صدر کے اعلان نے شہروں میں پُرتشدد واقعات کے امکان بڑھا دیے ہیں

پروفیسر روڈسِل نے کہا کہ ’ملک کے نصف شہری اور دنیا بھر میں کئی لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ غیر سیاسی امریکی فوج کسی ایک فریق کے حق میں جانبدار ہوگئی ہے۔ فوج کو کبھی بھی ایسا حکم نہیں ملنا چاہیے۔‘

سیاسی جماعتوں کے آپسی تنازعات کی وجہ سے مسلح افواج کی خود مختاری بھی خطرے میں محسوس ہو رہی ہے۔ لیکن موجودہ سیاسی حالات کی وجہ سے کئی علاقوں میں پُرتشدد واقعات بڑھ سکتے ہیں۔

کیشا بلین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایسی صورتحال جس میں صدارتی امیدوار نتائج میں اپنی ہار تسلیم کرنے سے انکار کر دے تو ملک میں شدید انتشار پھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔‘

ان کے مطابق صدر کے بیانیے نے مظاہروں اور پُرتشدد واقعات کے امکانات بڑھا دیے ہیں۔

گذشتہ مہینوں کے دوران امریکی شہروں میں کئی پُرتشدد واقعات سامنے آئے۔ مسلح مظاہرین نے صدر کے حق میں اظہار خیال کیا جبکہ نسلی تعصب کی مخالفت میں بھی احتجاج دیکھے گئے۔ یہ اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں بھی سیاسی تناؤ کے نتیجے میں تشدد کی فضا پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16633 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp