جڑانوالہ: سیاست، ثقافت اور تاریخ کے آئینے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جڑانوالہ فیصل آباد سے تقریباً 35 کلومیٹر پر واقع ہے۔ یہ فیصل آباد کی مشہور اور سب سے بڑی تحصیل ہے۔ پاکستان کے صنعتی مرکز فیصل آباد کے قریب ہونے کے باعث فیکٹریوں۔ یہ شہر تقریباً 400 سال پرانا ہے۔ اس کے آس پاس کئی نہریں بہتی ہیں جو انگریز دور میں زراعت کے شعبہ میں بہتری کے لیے دریاؤں پہ بیراج بنا کر نکالی گئی تھیں۔ جڑانوالہ دو پنجابی لفظوں کا مجموعہ ہے، جڑاں اور والا، جہاں جڑاں کے معنی ہیں ”جڑیں“ اور ”والا“ کا مطلب جگہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ چک نمبر 240 جی بی کے قریب ایک تالاب کے کنارے پر ایک برگد کا درخت لگا ہوا تھا جس کی جڑیں آس پاس پھیلی ہوئی تھیں یہی درخت اس نام کی وجہ بنا۔

جڑانوالہ ایک قدیم شہر ہے۔ انگریز دور میں یہاں قابل ذکر ترقیاتی کام ہوئے اور آبادکاری کی گئی۔ یہاں ریل بازار کے سامنے ایک 100 سال پرانا گیٹ، پاکستان گیٹ ہے۔ شہر کی تاریخ بھی اسی دروازے پر درج ہے۔ جنوری 1917 ء میں، سردار ہربیل سنگھ نے جڑانوالہ میں پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر سر مائیکل فرانسس اوڈوئیر کے استقبال کے لئے لکڑی کے پھاٹک کی تعمیر کا آغاز کیا۔ گورنر کے دورے کے بعد، گیٹ کا نام اوڈوئیر گیٹ رکھا گیا۔ تاہم، جلیانوالہ باغ میں عام شہریوں کے قتل عام کے بعد پورے برصغیر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جڑانوالہ کے شہریوں نے بھی اس دروازے کا نام بدل کر ریلوے پھاٹک کر دیا گیا۔ یکم جون 1936 کو کانگریس کے لیڈر جواہر لال نہرو اپنے سیاسی جلسے کے لیے جڑانوالہ آئے تو شہریوں نے اس گیٹ کا نام بدل کر نہرو گیٹ رکھ دیا اور جڑانوالہ میونسپل کمیٹی کے صدر لالہ ہرنام داس نے 30 مارچ 1937 کو اس نام کی منظوری دے دی۔ ملک آزاد ہوا تو کئی شہروں، جگہوں اور عمارات کے نام بدلے گئے ان میں ایک جگہ یہ تاریخی دروازہ بھی شامل تھا۔ جڑانوالہ کی میونسپل کمیٹی کے صدر سید الطاف حسین نے اس کا نام پاکستانی گیٹ تجویز کیا، جسے باقاعدہ منظور کر لیا گیا۔

اس شہر بے مثال کی تاریخ کو سامنے رکھیں تو ایک ترقی یافتہ باشعور شہریوں پر مشتمل شہر کا نقشہ سامنے آتا ہے۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ شہر کی نمائندگی کے لیے کوئی قابل اور عوام دوست لیڈر اسمبلی کی دہلیز پار نا کر سکا۔ ہر مرتبہ مفاد پرست اور موقع پرست ٹولے نے عوام الناس کو ترقی و خوشحالی کے خواب دکھا کر اپنی جائیدادیں اور اپنے قریبی احباب کے لیے مراعات کا سامان پیدا کیا۔ ہوتا یہ کہ ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا آنے والا کل ان کے گزرے ہوئے کل سے بہتر ہو۔ مگر یہاں جڑانوالہ کے شہریوں کے حساب سے یہ معاملہ مختلف ہے۔ اس شاندار ماضی کے حامل شہر کے باسی یہ چاہتے ہیں کہ ان کا آنے والا کل ان کے گزرے ہوئے کل جیسا ہو۔

ماضی میں جڑانوالہ کے مشہور سیاستدانوں میں میاں غلام باری جیسے باریک بین عوام پسند دوست رہنما بھی گزرے ہیں جو قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھی تھے۔ تاریخ آزادی کی مشہور شخصیت سردار بھگت سنگھ کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔ مگر اب یہاں آرائیں، جاٹ، کھرل، بھٹی، راجپوت، سید اور ملک برادریاں ایک دوسرے کے خلاف مقدمے بازی اور اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کو ہی سیاست سمجھتے ہیں۔

کارخانوں اور فیکٹریوں کا ایندھن بننے والے یہاں کے کچھ عوام پیپلز پارٹی کی مزدور دوست پالیسیوں سے آس لگائے بیٹھے ہیں۔ کچھ عوام مذہبی جماعتوں کا جھنڈا اٹھا کر اپنی آخرت سنوارنے اور دنیا کو بہتر بنانے کی دعائیں کر رہے ہیں۔ مگر عوام کے یہ دو نوں طبقات تاحال مایوس ہیں اور انہیں ان کی مشکلات کا حل ان جماعتوں میں نظر نہیں آ رہا۔ یہاں کے مشہور سیاستدان رائے اسلم کھرل پیپلز پارٹی سے نون لیگ میں آ گئے مگر کسی بھی وعدے کی تکمیل میں کامیاب نا ہو سکے۔ ان کی جگہ رائے عارف حسین بھی آئے دونوں نے ایک دوسرے کی پارٹی بدلیں، اگر اسلم کھرل پیپلز پارٹی میں ہے تو عارف حسین آئی جے آئی میں۔ پھر 1997 ء کے الیکشن میں راؤ صلاح الدین کھرل آتے ہیں لیکن اپنے حصے کا کوئی کام کیے بنا چلے جاتے ہیں۔ 2002 ء میں چوہدری وصی ظفر میدان میں آتے ہیں اور کھرل برادری کے ووٹ تقسیم ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کامیاب ہو جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے قانون کا قلمدان تو سنبھال لیا مگر عوام کی آواز بننے کا علم نا سنبھال سکے۔ اس کے بعد سابق تحصیل ناظم اکرم چوہدری کے بھتیجے طلال چوہدری سیاسی میدان میں آتے ہیں۔ پارٹی کے حق میں اور مخالفین کے خلاف بیان بازی بڑی محنت اور لگن سے کرتے ہیں مگر جڑانوالہ کے عوام بتاتے ہیں کہ انہوں نے جڑانوالہ کو بھی تحریک انصاف سمجھا ہوا تھا اور اس شہر کے عوام کو سیاسی مخالف ہی سمجھا۔ کسی قسم کے ترقیاتی کام کے لیے کوشش نا کرسکے۔

رائے عارف وزیر ریلوے، چوہدری وصی ظفر وزیر قانون، رائے حیدر علی مشیر وزیراعلیٰ اور چوہدری ظہیر الدین وزیر پراسیکیوشن کے اس شہر میں اب عوام کسی نئی آواز کی تلاش میں ہیں جو ان کے مسائل کے حل کے لیے حکومتی ایوانوں میں گونج سکے۔ برادریوں، مذہبی فرقہ بندیوں اور سیاسی گروہوں کی اندرون خانہ اکھاڑ پچھاڑ کے دوران کئی نئے چہرے ابھر کر سامنے آئے ہیں جو اپنے ہونے کا یقین دلانے میں ناکام رہے۔

سیاست فہم و فراست اور تدبیر کا دوسرا نام ہے اور جمہوریت رائے عامہ کے احترام کا۔ شہر میں مقیم لوگوں کے مسائل وہ لوگ نہیں سمجھ سکتے جنہوں نے اپنا وقت اسلام آباد کے ایم این اے لاجز یا عالی شان گھروں میں قید رہ کر گزارا ہو۔ شہری ترقی و فلاح و بہبود کے لیے ایک نظر دوڑانے کی ضرورت ہے۔ وہ چہرے ڈھونڈنے کی ضرورت ہے جو کونسلر اور ناظم کی حیثیت سے الیکشن کا حصہ بنے۔ انہیں آگے لانا چاہیے کیونکہ وہ عوام الناس کا نمائندہ چہرہ ہوتے ہیں۔

نواب شیر وسیر، طلال چوہدری، اکرم چوہدری اور محمد شاہجہاں خان کے علاوہ کئی بہتر امیدوار اپنے عوام دوست ہونے کا ثبوت لیے پھرتے ہیں۔ چوہدری ثناءاللہ باجوہ، عمر وصی اور عرفان شاہد وصیر بھی تو عوامی چہرے ہیں۔ انہیں بھی تو آزمایا جائے۔ یہی لوگ ہیں جو عرصہ دراز سے علاقے میں فلاحی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔ گلیوں کی مرمت سے لے کر مستحق افراد کے لیے دسترخوان کا اہتمام کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کو آگے لایا جائے جو عوام الناس کی محرومیوں کو دور کرتے ہوئے ان کے زخموں پر مرہم رکھیں اور اس بے مثال ماضی کے حامل شہر کو ترقی اور خوشحالی کے ٹریک پر لائیں گے۔ فیکٹریوں اور کارخانوں کے مالکان سے بات کر کے مزدوروں کے حقوق دلائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی ادارے قائم کرنے اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے ساتھ ساتھ شہر میں سرمایہ کاری بھی لائیں گے۔ سیاستدان عوام الناس اور حکومتی ایوانوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •