صائب عریقات: کورونا کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہارنے والے فسلطینی رہنما کون تھے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Saeb Erekat
Reuters
صائب عریقات نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں چیف مذاکرات کار کے طور پر حصہ لیا
فلسطین کے ایک ممتاز رہنما صائب عریقات کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد منگل کے روز یورشلم کے ایک ہسپتال میں وفات پا گئے ہیں۔ صائب عریقات کو گذشتہ ماہ ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور ان کی حالت بگڑنے پر انھیں وینٹیلٹر پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

صائب عریقات کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ان کا علاج کرنا بہت بڑا چیلنج تھا کیونکہ ان کے پھیپڑے تبدیل کیے جا چکے تھے اور ان کے جسم کا مدافعاتی نظام بہت کمزور ہو چکا تھا۔ صائب عریقات کے پھپڑوں کی تین برس پہلے پوند کاری ہو چکی تھی۔

65 سالہ صائب عریقات نے پچیس برسوں تک فلسطینی مذاکرات کار اور ترجمان کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ صائب عریقات کا انتقال یوروشلم کے ہداسا میڈیکل سینٹر میں ہوا۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے صائب عریقات کی موت پر تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ صدر محمود عباس نے کہا کہ صائب عریقات ان کے بھائی جیسے تھے اور انھوں نے ساری زندگی آزاد فلسطین کے لیے جہدو جہد کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت میں لے جائیں گے‘

’شرمناک‘ اور اسرائیل مخالف قرارداد قبول نہیں: نیتن یاہو

اسرائیل مخالف ووٹ: اسرائیل نے امریکی سفیر طلب کر لیا

صائب عریقات فلسطینی تحریک پی ایل او کے سیکرٹری جنرل اور صدر محمود عباس کے مشیر تھے۔

صائب عریقات ان مذاکرات کا بھی حصہ رہے تھے جن کے نتیجے میں 1993 میں اوسلو معاہدہ طے پایا جس کے تحت فلسطینی اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا تھا۔

Saeb Erekat staring at Donald Trump on a screen

THOMAS COEX/AFP via Getty Images
صائب عریقات کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے دور میں امریکہ نے جس طرح اسرائیل کی حمایت کی ہے اس سے خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم ہو گیا ہے

صائب عریقات نے آٹھ اکتوبر کو کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن جب ان کی حالت خراب ہوئی تو انھیں یوروشلم میں ایک اسرائیلی ہسپتال میں منتقل کیا گیا۔

دو ریاستی حل کے حامی

صائب عریقات کا شمار ان فلسطینی رہنماؤں میں ہوتا تھا جو فلسطین کے دو ریاستی حل کے حامی تھے۔ انھوں نے حال ہی میں کچھ عرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوششوں کی مذمت کی تھی۔

صائب عریقات نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو استوار کرنے کے فیصلے کو دو ریاستی حل کی موت قرار دیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے صدر ٹرمپ کے دور میں جس طرح اسرائیل کی حمایت کی اس کی وجہ سے اب وہ خطے میں اپنی اہمیت کھو رہا ہے اور وہ اب ثالث نہیں بلکہ خود اس مسئلے کا حصہ بن چکا ہے۔

Saeb Erekat with Bill Clinton and Yasser Arafat

Getty Images
صائب عریقات کیمپ ڈیوڈ میں صدر بل کلنٹن اور یاسر عرفات کے ہمراہ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے غرب اردن میں غیر قانونی بستیوں کے قیام کے خلاف قرارداد کی منظوری کے بعد صائب عریقات نے کہا تھا کہ وہ اب اسرائیل کو بین الاقوامی جرائم کی عدالت اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں میں لے جانے جیسے اقدامات کریں گے۔

صائب عریقات نے اسرائیل کے غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر اسرائیل پر عالمی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

تجزیہ: یولیند نیل، مشرق وسطیٰ نامہ نگار

صائب عریقات ایک مقبول فلسطینی شخصیت تھے۔ پچھلے تین عشروں میں جہاں بھی فلسطینی اور اسرائیلی رہنماؤں کی ملاقات ہوئی، خواہ وہ میڈرڈ، اوسلو، واشنگٹن، کیمپ ڈیوڈ یا یورشلم میں ہو، صائب عریقات ان مذاکرات میں شریک تھے۔

انگلش زبان پر عبور رکھنے والے صائب عریقات ہمیشہ عالمی ذرائع ابلاغ یا سفارت کاروں کو رملہ میں اپنے دفتر یا جیریکو میں اپنے گھر میں بلاتے تھے۔

Saeb Erekat, left, with Joe Biden, right

Getty Images
صائب عریقات 2016 میں نائب امریکی صدر جو بائیڈن کا استقبال کر رہے ہیں

ایک ایسے وقت جب فلسطین اور اسرائیل کے تعلقات کم ترین سطح پر ہیں اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات دن بدن معدوم ہو رہے ہیں، فلسطینوں کو ان کی بہت کمی محسوس ہو گی۔

سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا ہے کہ صائب عریقات کو علاج کی غرض سے ایک اسرائیلی ہسپتال میں لے جایا گیا جبکہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے ساتھ تمام تعاون کو ختم کر چکی ہے جس کے تحت مریضوں کو بھی مشرقی یوروشلم میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔

صائب عریقات فلسطینی اتھارٹی کے اس فیصلے میں برابر کے شریک تھے

صائب عریقات پی ایل او کا چہرہ کیسے بنے؟

صائب عریقات سنہ 1955 میں یوروشلم میں پیدا ہوئے لیکن وہ جیریکو میں پلے بڑھے۔ سنہ 1972 میں وہ تعلیم کی غرض سے امریکہ چلے گئے اور سان فرانسسکو یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹر ڈگری حاصل کر کے واپس فلسطین آئے اور نابلوس میں النجا یونیورسٹی میں تدریس کے شعبے سے منسلک ہوئے۔

وہ ایک سکالرشپ پر برطانیہ کی بریڈفورڈ یونیورسٹی سے تنازعات کے حل سے متعلق پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کی۔

صائب عریقات نے سنہ 1983 میں پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد فلسطینی اخبار القدس میں مضامین لکھنا شروع کیے جس میں انھوں نے فلسطینی اور اسرائیلی ماہرین تعلیم کے مابین بات چیت کی تجویز پیش کی۔ انھوں نے اسرائیلی طلبا کو النجا یونیورسٹی میں اپنے لیکچر میں شریک ہونے کی دعوت دی۔

اسرائیلی طلبا کو النجا یونیورسٹی میں آنے کی دعوت نے ایک تنازع کی شکل اختیار کر لی تھی۔

Kofi Annan, left, and Saeb Erekat, right

Getty Images
جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے غرب اردن کا دورہ کیا تو صائب عریقات نے ان کا استقبال کیا

مذاکرات کاری کا ان سفر سنہ 1991 میں شروع ہوا جب انھیں فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے انھیں سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں اسرائیلیی اور فلسطینی رہنماؤں کے مابین مذاکرات کے لیے فلسطینی وفد میں شریک ہونے کی دعوت دی۔

اوسلو امن معاہدے کے طے پانے کے بعد صائب عریقات کے بھرپور کردار کی وجہ سے انھیں فلسطین کا چیف مذاکرات کار تعینات کیا گیا۔

انھوں نے فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے ہمراہ کیمپ ڈیوڈ کے اجلاس میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے 2001 میں تابا مذاکرات میں بھی فلسطین کی نمائندگی کی۔

مذاکرات کاری کے علاوہ صائب عریقات کے پاس فلسطینی اتھارٹی میں لوکل گورنمنٹ کے وزیر کا عہدہ بھی تھا۔ وہ فلسطینی قانون ساز کونسل میں جیریکو کی نمائندگی کرتے تھے۔

وہ سنہ 2009 میں پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی اور الفتح تحریک کی سنٹرل کمیٹی کے ممبر چنے گئے۔ چھ برسوں بعد وہ پی ایل او کے سیکرٹری جنرل بن گئے۔

پچھلے کئی برسوں سے انھیں صحت کے مسائل کا سامنا تھا۔ انھیں 2012 میں دل کا دورہ پڑا اور 2017 میں ان کا امریکہ میں پھپڑوں کا ٹرانسپلانٹ ہوا۔

صائب عریقات شادی شدہ تھے اور ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16598 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp