بہار اسمبلی انتخابات: ’بڑے اتحاد‘ کو مسلمان ووٹ سے فائدہ ہوا یا نقصان؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

            <figure>
  <img alt="دہلی" src="https://c.files.bbci.co.uk/171B6/production/_115364649_4acf3172-1982-4672-a89b-cb050b5b89fe.jpg" height="549" width="976" />
  <footer>Getty Images</footer>
  <figcaption>بہار میں انتخابات دہلی میں جشن</figcaption>
</figure>انڈیا کی اہم ریاست بہار کے اسمبلی انتخابات میں حکمراں جماعت کے اتحاد نیشنل ڈیموکریٹ الائنس (این ڈی اے) نے کانٹے کے مقابلے کے بعد سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق این ڈی اے کو ایوان کی 243 سیٹوں میں سے 125 نشستوں پر کامیابی ملی ہے جبکہ مقامی اہم جماعت راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) ایک بار پھر ریاست میں سب سے بڑی پارٹی ثابت ہوئی ہے۔

آر جے ڈی کو اس بار 75 سیٹیں ملی ہیں جبکہ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اس کے بڑے اتحاد کو مجموعی طور پر 110 نشستیں ملی ہیں۔ کانگریس کی کارکردگی خراب رہی جبکہ بائیں بازو کی جماعتوں کی کارکردگی امید سے زیادہ بہتر رہی۔ خیال رہے کہ سادہ اکثریت کے لیے 122 سیٹیں درکار تھیں۔

بہار کے اسمبلی انتخابات کو کووڈ۔19 کے بعد حکمراں جماعت کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے این ڈی اے کی جیت کے بعد ٹویٹ کیا کہ ‘ایک بار پھر بہار میں جمہوریت کی جیت ہوئی ہے۔’

اس سے قبل جتنے بھی ایگزٹ پول آئے تھے اس نے این ڈی کی نیندیں اڑا دی تھیں کیونکہ سب نے یکطرفہ طور پر مہاگٹھ بندھن (بڑا اتحاد) کی جیت کی پیش گوئی کی تھی۔

خیال رہے کہ بی جے پی مقامی بڑی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے علاوہ کئی دوسری پارٹیوں کے ساتھ اتحاد میں تھی لیکن عین انتخابات سے قبل ایک اہم اتحادی جماعت لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) نے تنہا انتخابات میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ جے ڈی یو کے بہت سے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کو نوجوان رہنما چراغ پاسوان کے فیصلے سے نقصان پہنچا ہے جبکہ چراغ پاسوان کی ایل جے پی کو صرف ایک سیٹ ہی حاصل ہو سکی۔

ریاست کے وزیر اعلی اور جے ڈی یو کے سربراہ نتیش کمار گذشتہ 15 سالوں سے اقتدار میں ہیں اس لیے ان کے خلاف اینٹی انکمبینسی ایک بڑا فیکٹر تھا۔

انڈیا کی شمالی ریاست بہار کا ملک کی غریب ترین ریاستوں میں شمار ہوتا ہے۔ تقریباً سوا دو لاکھ افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ کورونا میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہار کے مہاجر مزدوروں کو بہت زیادہ پریشانیوں کا سامنا رہا تھا اور ریاستی حکومت نے ان کے لیے کوئی خواطر خواہ انتظام نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے یہ کہا جا رہا تھا کہ مزدوروں کا ایک بڑا طبقہ حکومت سے ناراض ہے۔

نتیش کمار

Getty Images
جے ڈی یو کے سربراہ اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار

بی جے پی کے لیے بہار کی اہمیت

بدھ کی شب کے نتائج حکمراں جماعت بی جے پی کے لیے بڑی خوشی لے کر آئے ہیں اور اس نے پہلی بار 74 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

بی جے پی کو ہندوؤں کی پارٹی کہا جاتا ہے اور گجرات کو چھوڑ کر ہندی زبان والی ریاستوں اترپردیش، دہلی، ہریانہ، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں اس کی کارکردگی بہتر رہی ہے لیکن بہار واحد ریاست ہے جہاں وہ صرف اپنی قوت کی بدولت حکومت سازی میں ناکام رہی ہے اور اسے وہاں کی مقامی پارٹیوں سے اتحاد کی ضرورت پڑی ہے۔

سنہ 2014 اور سنہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں تو اسے وہاں زبردست کامیابی ملی تھی لیکن اسمبلی انتخابات میں مقامی پارٹیاں اس سے آگے رہی ہیں اور چار سال قبل اترپردیش میں تنہا جیت حاصل کرنے کے بعد سے اسے کسی ریاست میں تنہا انتخابات لڑنے کی صورت میں کامیابی نہیں ملی ہے۔

ہر چند کہ بی جے پی نے اعلان کر رکھا ہے کہ ان کی جانب سے نتیش کمار ہی وزیر اعلی ہوں گے لیکن جے ڈی یو کو اس بار بی جے پی سے کم سیٹیں ملی ہیں اس لیے نیتیش کمار کو حکومت چلانے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات میں تین مرحلے میں ووٹ ڈالے گئے تھے اور پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد حکمراں جماعت کی کارکردگی اس قدر کمزور نظر آ رہی تھی کہ سات نومبر کو ہونے والے تیسرے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل نتیش کمار نے اعلان کیا کہ یہ ان کا آخری انتخاب ہے اور اپیل کی کہ انھیں کامیابی سے ہمکنار کرایا جائے کیونکہ ‘انت بھلا تو سب بھلا’ یعنی اختتام اچھا تو سب اچھا۔

اویسی فیکٹر

دوسری جانب تمام ایگزٹ پول میں کامیابی کی پیش گوئیوں کے باوجود لالو پرساد کے بیٹے اور آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو کے ’مہا گٹھ بندھن‘ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک طرف اگر آر جے ڈی اور کانگریس رہنماؤں نے بہار کی انتظامیہ پر شکست کا الزام لگایا وہیں مبصرین کا خیال ہے کہ حیدرآباد سے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی اور تیلنگانہ میں قائم ان کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی وجہ سے ’مہاگٹھ بندھن‘ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔

اسدالدین اویسی کی پارٹی کو سنہ 2015 کے انتخابات میں ایک بھی سیٹ نہیں مل سکی تھی لیکن اس بار انھوں نے جن 24 سیٹوں پر اپنے امیدوار میدان میں اتارے تھے ان میں سے پانچ کامیاب رہے۔

اسدالدین اویسی نے ٹویٹ کیا: ‘بہار کے عوام نے نہ صرف اپنے ووٹوں سے بلکہ اپنی محبتوں سے ہمیں اتنا نوازا ہے کہ میرے پاس الفاظ نہیں کہ کیسے ان کا شکریہ ادا کروں۔ انشاءاللہ ہم آپ کے بھروسے پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔’

https://twitter.com/asadowaisi/status/1326205463596208129

بہار میں لالو یادو کے زمانے سے کہا جاتا ہے کہ ان کی جیت میں مسلمان اور یادو اہم کردار ادا کرتے رہیں اس لیے اسے ‘ایم وائی’ یعنی مائی فیکٹر کہا جاتا رہا ہے۔ اسدالدین اویسی کی آمد سے مسلمانوں کا ووٹ ان کی جانب گیا ہے اور جن سیٹوں پر انھیں کامیابی ملی ہے وہاں مسلمانوں کا ووٹ 50 فیصد یا اس سے زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ بہت سی سیٹوں پر ان کی پارٹی نے کانگریس اور آر جے ڈی کا کھیل بگاڑ دیا ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر جب اویسی سے اس بابت سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ انڈیا کا آئین انھیں انتخابات میں شرکت کرنے کی اجازت دیتا ہے اور کوئی پارٹی اپنی کمزوری کو ان کی پارٹی کے بہار انتخابات میں شمولیت کے پیچھے نہیں چھپا سکتی ہے۔

انتخابات سے قبل بھی اویسی پر یہ الزامات لگائے گئے کہ ان کی آمد سے بی جے پی اتحاد کو فائدہ ہوگا اور ان کی پارٹی کو ووٹ کاٹنے والی پارٹی کہا گیا۔

بہار کے بعد اب اسدالدین اویسی کی نظر مغربی بنگال کے انتخابات پر ہے جو آئندہ سال ہونے والا ہے اور وہاں مسلمانوں کی آبادی تقریبا 25 فیصد ہے۔

بائیں بازو کی جماعت کی بہتر کارکردگی

بائیں بازو کی جماعتیں آر جے ڈی کے ساتھ مہا گٹھ بندھن میں شامل تھیں۔ سی پی ایم کو چار سیٹیں، سی پی آئی کو چھ جبکہ سی پی آئی (ایم ایل) کو 19 سیٹیں دی گئی تھیں۔ ان میں سے ایم یل کو 12 پر کامیابی ملی جبکہ سی پی آئی اور سی پی ایم کو دو دو نشستوں پر کامیابی ملی۔

ایک عرصے بعد بہار میں بائیں بازو کی جماعتوں کو اتنی سیٹیں ملی ہیں۔ اس سے قبل سنہ 2015 کے انتخابات میں سی پی ایم کو کوئی سیٹ نہیں ملی تھی۔ سی پی آئی کو ایک سیٹ ملی تھی جبکہ سی پی ائی (ایم ایل) کو تین سیٹیں ملی تھیں۔

کانگریس نے 70 سیٹوں پر اپنے امیدوارے اتارے جس میں اسے 19 سیٹوں پر کامیابی ملی۔ اس سے قبل اسے 27 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ کئی جگہ پر اویسی کی پارٹی کے امیدوار کی موجودگی سے انھیں خسارہ اٹھانا پڑا ہے۔

بہار میں مقابلہ اس قدر سخت رہا کہ کم از کم ایک درجن سیٹوں پر بہت کم فرق سے ہار جیت درج ہوئی اور یہی سبب ہے کہ آخیر تک بازی پلٹنے کے امکان کے تحت تمام پارٹیاں اپنے بیان میں محتاط نظر آئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16556 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp