خواتین کے ساتھ ہراس: سوشل میڈیا پر نئی بحث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

            <figure>
  <img alt="ہراسانی" src="https://c.files.bbci.co.uk/CED2/production/_115364925_7a2f9876-4572-4e23-8832-185e639290de.jpg" height="549" width="976" />
  <footer>BBC</footer>

</figure>پاکستان کے سوشل میڈیا پر گزشتہ چند دنوں سے خواتین کے ساتھ ہراس کے متعدد واقعات زیر بحث ہیں اور اس سب کے دوران حال ہی میں ایک نئی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے، جس میں ایک خاتون بس کے عملے کے ساتھ الجھ رہی ہیں اور ان پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کرنے کی دھمکی دیتی ہیں۔

بی بی سی نے اس ویڈیو کی تصدیق کے لیے، اسے جس ایک فیس بک پیج پر شیئر کیا گیا ہے، پیج کے ایڈمن سے رابطہ کیا تو انھوں نے تصدیق کی کہ یہ ایک حالیہ ویڈیو ہے۔

اس ویڈیو میں پیش آنے والے واقعے کی حقیقت سے قطع نظر اس موضوع پر سوشل میڈیا پر جاری گرما گرم بحث نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔

جہاں کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ خواتین جنسی ہراس کے کارڈ کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں، تو وہیں کئی صارفین جنسی ہراس کے پاکستانی قانون پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

جہاں کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ہراس کے جھوٹے الزامات کی وجہ سے اصل کیسز نظر انداز ہو جاتے ہیں تو وہیں خواتین کی ایک بڑی تعداد نے اس ویڈیو میں موجود خاتون کے رویے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’میں بے باک لڑکی ہوں لیکن اس لمحے میرا سانس رُک گیا‘

’ہراسانی کا شکار مرد ہوں یا خواتین، خاموش رہنا حل نہیں’

کیا ہتکِ عزت کا قانون آواز اٹھانے والوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے؟

صارف ندا فاطمہ نے لکھا: ’ایسی لڑکیوں کی وجہ سے جو، سچ میں ہراس کا سامنا کرتی ہیں لوگ ان پر یقین نہیں کریں گے۔‘

ریونا نامی صارف نے لکھا: ’98 فیصد خواتین کو ہراس کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان جیسی صرف 2 فیصد خواتین کی وجہ سے باقی 98 فیصد کو غلط سمجھا جائے گا۔‘

https://twitter.com/LaroMujhay/status/1326074020605943819

ایک اور صارف نے لکھا: ’خواتین اصل میں ہراس کا شکار بنتی ہیں لیکن ایس خواتین ’میں تم ہر ہراس کا کیس کرواتی ہوں‘ کی وجہ سے اصل متاثرین کو انصاف نہیں ملتا۔‘

صارف نصرت شمسی نے لکھا: ’ہراس خواتین کے لیے بچ نکلنے کا آسان طریقہ ہے۔ ہمارے قانون بنانے والوں نے اسے اتنا آسان کیون بنا دیا ہے۔ حقیقت پسند بنیں۔ اسے ہمدردی اور شہرت حاصل کرنے کا کھیل نہ بننے دیں۔‘

رامین کمال نے لکھا: ’ایسے واقعات کی وجہ سے ہراس کے اصل کسیز کو ہمیشہ مسترد کر دیا جاتا ہے۔‘

صحافی ابصا کومل نے لکھا: ’یہ خاتون ڈیوٹی پر موجود افسران کو ہراساں کر رہی ہیں جو کہ بہت قابل مذمت ہے۔‘

عفت نامی صارف نے لکھا: ’یہ خاتون ہراسمنٹ کارڈ استعمال نہیں کر سکتیں کیونکہ وہ خود ہراساں کر رہی ہیں۔‘

لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز(لمز) کے شعبہ عمرانیات سے منسلک معلمہ ندا کرمانی کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر ہمیں اکثر ایسے مرد حضرات نظر آتے ہیں جن کو لگتا ہے کہ عورتیں ہراس کو ایک کارڈ کی طرح استعمال کرتی ہیں لیکن یہ بالکل غلط ہے۔

’اگر ایسا کبھی ہوتا بھی ہے تو ایسی خواتین کی تعداد بہت ہی کم ہے جو اس کا غلط استعمال کرتی ہیں۔ ہراس کا شکار زیادہ تر خواتین تو اس بارے میں بولتی ہی نہیں ہیں۔ وہ ڈر کے مارے کچھ نہیں کہتیں کیونکہ ہمارے یہاں کلچر ہے کہ جب کوئی عورت کہتی ہے کہ مجھے ہراساں کیا گیا تو کوئی یقین نہیں کرتا اور الٹا الزام ان پر لگ جاتا ہے۔‘

ندا کرمانی سمجھتی ہیں کہ ایسا بلکل نہیں کہ پاکستان میں یہ کوئی ٹرینڈ بن گیا ہے کہ خواتین ہراس کو استعمال کرتی ہیں۔

انھوں نے کہا ’می ٹو مہم کی وجہ سے اب بہت سی عورتیں زیادہ بولنے لگی ہیں تو کچھ مرد حضرات اس سے گھبراتے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے ان کی پدر شاہی سوچ چیلنج ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ کہتے ہیں کہ ہراس ایک کارڈ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے جو کہ بالکل غلط ہے۔‘

ہم نے اس معاملے پر صحافی تنزیلہ مظہر سے بھی بات کر کے ان کی رائے لی۔ تنزیلہ مظہر کہتی ہیں کہ ہمیں پاکستان میں موجود ہر قانون کے غلط استعمال کی ہزاروں مثالیں نظر آتی ہیں۔

’ریاستی سطح پر بھی ایسے کام ہوئے، حکومتوں نے بھی اپنے مخالفین کو ہرانے یا دبانے کے لیے غلط معاملات پر غلط پرچے کٹوائے۔ پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں جس کا غلط استعمال نہ کیا جاتا ہو اور اس میں یقیناً خواتین سے متعلق قانون کا بھی غلط استعمال ہوتا ہو گا۔‘

لیکن انھوں نے کہا کہ کسی ایک ویڈیو کو دیکھتے ہوئے اس پورے معاملے کو جانچنا ناانصافی کی بات ہے۔

’پاکستان میں جنسی بنیادوں ہر تعصب ہمارے ساتھ ہی بڑا ہوا ہے، ہمارا پورا معاشرہ تعصب کی عینک لگا کر ہی اس معاملے کو پرکھتا ہے۔ پاکستان میں خواتین پر گھریلو تشدد، جنسی تشدد اور بچوں پر تشدد کے کیسز میں کہیں نہ کہیں کوئی کمی رہ جاتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں ایسے واقعات نہیں ہوتے ہیں۔‘

اس ویڈیو کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس ویڈیو کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ پاکستان میں ہراس کے قانون کا مکمل طور پر غلط استعمال کیا جاتا ہے، یہ ناانصافی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس ویڈیو کو ہمارے معاشرے میں عدم برداشت، بغیر دلیل کے بات کرنے کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

’جب خاتون کا معاملہ آتا ہے تو ہم سب سے پہلے ان تقاضوں اور مطالبات پر حملہ کرنا چاہتے ہیں جو پاکستان کی خواتین بہت جدوجہد کر کے منوانے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘

تنزیلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنسی ہراس کا شکار بننے والی خواتین کو کسی قسم کے دباؤ کی وجہ سے خاموش رہنے کی بجائے لڑنا چاہیے۔

وہ کہتی ہیں ’ہراس کے خلاف لڑنا بہت ضروری ہے اور ان معاملات میں آپ کا لڑنا ہی آپ کی فتح ہوتی ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16598 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp