تھر کی ’پبلک پراپرٹی‘ سوجیو بیل جس کا بزرگوں کی طرح خیال رکھا جاتا ہے

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں ایک بیل کا پھولوں کی مالا پہنا کر انوکھا استقبال کیا گیا ہے کیونکہ یہ بیل مٹھی شہر سے مبینہ طور پر چوری ہو گیا تھا اور ایک ہفتے کی تگ و دو کے بعد اسے واپس لایا گیا۔ یہ کوئی عام بیل نہیں بلکہ ’سوجیو بیل‘ ہے۔

یہ بیل مٹھی کے مہاراج محلے (برہمن محلے) سے چوری کیا گیا تھا۔ اس بیل کے نگران کملیش مہاراج نے بی بی سی کو بتایا کہ بیل کو مبینہ طور پر چوری ہوئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا مگر وہ اس کی تلاش میں سرگراں رہے اور مال مویشی کے ایک تاجر عثمان جونیجو سے رابطہ کیا، جنھوں نے اس بیل کو ڈھونڈنے میں اُن کی بھرپور مدد کی۔

’عثمان نے ٹیلیفون پر رابطے کرنے شروع کیے تو پتا چلا کہ نئوں کوٹ کی منڈی میں ایسا جانور آیا تھا جس کو کراچی کے ایک تاجر کے حوالے کیا گیا ہے، کراچی کے تاجر سے رابطہ کر کے تصویر منگوائی اور بیل کو شناخت کر لیا۔ یہ بیل ذبح خانے پہنچ چکا تھا اور اس پر اس کی باری کا نشان لگ چکا تھا لیکن رابطہ ہو گیا اور یہ انھیں زندہ واپس ملا۔‘

پاکستان کے صحرائی علاقے تھرپارکر کی نصف آبادی مسلم اور نصف ہندو ہے جبکہ مٹھی شہر میں ستر فیصد آبادی ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہے اور یہاں دونوں مذاہب کے لوگ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں۔

یہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ اس بیل کو واپس لانے والے تاجر عثمان جونیجو کو بھی ہار پہنائے گئے اور ان کا شکریہ ادا کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا کی وبا کے دوران مویشی منڈی جانا محفوظ ہے؟

بارشوں سے منافع بخش فصلیں تباہ، جنوبی سندھ کے شہری کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور

کیا کاون اسلام آباد سے بنا کسی خطرے کمبوڈیا جا پائے گا؟

جب بینظیر بھٹو نے شہنشاہ جاپان کو پلّا مچھلی بطور تحفہ دینے کا وعدہ کیا

مال مویشی کے تاجر عثمان جونیجو کا کہنا ہے کہ مٹھی سے صبح آٹھ بجے اس بیل کو سوزوکی گاڑی میں سوار کیا اور نئوں کوٹ میں فروخت کیا گیا اور ایک قصائی نے اسے خرید لیا۔

اس قصائی نے کراچی کے علاقے ملیر 15 میں اس کو ایک اور قصائی کو فروخت کر دیا اور یوں یہ ذبح خانے پہنچ گیا انھوں نے اس سے رابطہ کیا اور اس کو ادائیگی کر کے یہ بیل خرید لیا اور واپس لے آئے۔

سوجیو بیل کون ہوتا ہے؟

ہندو عقیدے کے مطابق لوگ اپنے وفات پا جانے والے بزرگ کے نام پر اپنے مال مویشی میں سے ایک بیل دان کر دیتے ہیں جس کو ’سوجیو ڈگا‘ کہا جاتا ہے ابتدائی طور پر یہ بیل باڑے میں رہتا ہے یا پھر شہر میں مٹر گشت کرتے ہیں۔

کملیش مہاراج نے بتایا کہ انھوں نے یہ بیل اپنے دادا تلجا رام کے نام پر دان کیا تھا جو پنڈت تھے، اس بیل کی عمر چار برس کی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’یہ بیل گھر آتا تھا اس کو گھاس وغیرہ دیتے تھے، اس کے ساتھ ایک کتے کا پلا تھا جو اس پر سوتا تھا وہ بھی اس کے ساتھ چلتا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ جب کئی روز سے بیل نہیں آیا تو انھوں نے اس کی تلاش کی تو معلوم ہوا کہ کتے کا پلا موجود تھا لیکن بیل چوری ہو گیا تھا۔ عقیدے کے حساب سے یہ کوئی عام بیل نہیں تھا اس لیے واپسی کے لیے انھوں نے تگ و دو کی۔‘

سوجیو بیل کی نشانی

مٹھی شہر میں ایسے کئی درجن بیل نظر آتے ہیں، جو کسی نئے سیاح کو لارواث نظر آئیں گے لیکن ان کے پشت پر ایک نشان لگا ہوتا ہے جس سے شناخت ہوتی ہے کہ یہ سوجیو بیل ہے یعنی پبلک پراپرٹی ہیں۔

کملیش مہاراج کے مطابق بیل پر سورج دیوتا کا نشان لگایا جاتا ہے، یہ بیل جہاں جاتا ہے لوگ اس کی مہمان کی طرح تواضع کرتے ہیں اس کو بھوسہ، چپاتی، گُڑ اور کبھی کبھار اصلی گھی بھی پلاتے ہیں۔

سوجیو بیل کی تدفین ہوتی ہے؟

صحرائے تھر کا شمار پاکستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ مال مویشی موجود ہیں، قحط کے دنوں میں یہ جانور سڑکوں اور جنگلات پر کئی مردہ حالت میں نظر آتے ہیں یا کمزور ہونے پر فروخت کر دیے جاتے ہیں۔

کملیش مہاراج کے مطابق سوجیو بیل فروخت نہیں کیا جاتا اگر اپنی طبی عمر پوری کر لے تو اس کو عام جانور کی طرح نہیں پھینکا جاتا بلکہ احترام کے ساتھ تدفین کی جاتی ہے۔

ہندو عقیدے کے مطابق بیل شیو دیوتا کی سواری تھا، شیوا کے مندروں پر نندی نام اس بیل کی مورتیں موجود ہوتی ہیں جن سے ہندو کمیونٹی عقیدت کا اظہار کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16578 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp