بالی ووڈ: ’جرم کی ملکہ‘ کے نام سے مشہور ناول نگار آگاتھا کرسٹی بالی وڈ پہنچ گئیں

سوتک بسواس - بی بی سی نامہ نگار، انڈیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آگاتھا کرسٹی
Getty Images
دنیا بھر میں آگاتھا کرسٹی کے ناولوں پر مبنی 45 فلمیں بنائی جا چکی ہیں
ہمالیہ کے ایک کہر آلود تفریح مقام پر ایک قتل ہوتا ہے۔ جیسے جیسے یہ ناول آگے بڑھتا ہے ایک جوڑا نادانستہ طور پر اس قتل کی تہہ تک پہنچنے لگتا ہے اور یہ کہانی دنیا کے سب سے مشہور کرائم رائٹر کے ایک ناول پر مبنی ہے۔

انڈین فلمساز وشال بھاردواج اپنی آنے والی فلم کے بارے میں یہ سب بتانے کے لیے تیار ہیں جو ’جرم کی ملکہ‘ آگاتھا کرسٹی کے ایک ناول پر مبنی ہے۔

یہ پہلا موقع بھی ہے جب مصنف کے کام کی دیکھ بھال کرنے والی آگاتھا کرسٹی لمیٹڈ نے ان کی کہانیوں کو کسی انڈین فلمساز کے ساتھ فرنچائز کیا ہے۔

آگاتھا کرسٹی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو اور کرسٹی کے پڑپوتے جیمز پرچارڈ نے بتایا کہ دنیا بھر میں اگاتھا کرسٹی کے ناولوں پر مبنی کام ہوا ہے اور ہر ملک اس میں اپنا رنگ بھی شامل کرتا ہے۔ مجھے کوئی شک نہیں کہ یہ فلم بالکل ناول جیسی ہی ہو گی۔‘

55 برس کے بھاردواج کا شمار انڈیا کے دلچسپ ترین فلم سازوں میں ہوتا ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں میں وہ 15 فلمیں بنا چکے ہیں، جن میں تین فلمیں شیکسپیئر کے ڈراموں پر مبنی تھی۔۔۔ فلم ’مقبول‘ شیکسپیئر کے ڈرامے میک بتھ، فلم اومکارہ اوتھیلو اور فلم حیدر ہیملیٹ پر مبنی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: فلموں کے نیشنل ایوارڈز کا اعلان، حیدر فلم کو متعدد ایوارڈز

ہیملیٹ سے حیدر تک

’شیکسپیئر کو بالی وڈ بہت راس آتا‘

وشال اپنے فلمی سفر میں جاگیرداروں سے لے کر غنڈوں کی کہانیاں سنا چکے ہیں۔ انھوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک میوزک ڈائریکٹر کے طور پر کیا اور مشہور نغموں اور دھنوں کا انتخاب ان کے فلمی پراجیکٹس کو منفرد بناتا ہے۔

بچھڑے بھائیوں، محبت کی داستانوں اور عجیب و غریب فارمولے کے تحت بنی بالی وڈ فلموں کے برعکس ان کی فلمیں حقیقی زندگی سے زیادہ قریب ہوتی ہیں۔

فلم حیدر کے سیٹ پر

BBC
وشال بھاردواج (درمیان میں سرمئی رنگ کی جیکٹ میں) کا شمار بالی ووڈ کے دلچسپ ترین فلمسازوں میں ہوتا ہے

اب وہ کرسٹی کے سکرپٹ پر کام کر رہے ہیں جسے وہ دو ماہ میں ختم کرنے اور آئندہ سال کے آغاز پر فلم شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ فلم کا زیادہ تر حصہ ہمالیہ کے قصبوں میں فلمایا جائے گا۔ بھاردواج کہتے ہیں کہ انھیں ’پہاڑوں کی شدید سردی‘ سے محبت ہے۔

انڈیا کے شمالی قصبے میرٹھ میں بڑے ہونے والے بھاردواج کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے ’کرائم فکشن کے شوقین‘ رہے ہیں۔

انھوں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں کرسٹی کے ناولوں کا مطالعہ کیا اور وہ کرسٹی کے ناول ’دا اے بی سی مرڈر‘، جس میں ایک سیریل قاتل کو سنہ 1930 کے برطانیہ میں حروف تہجی کی ترتیب سے قتل کرتے دکھایا گیا ہے اور ناول ’مرڈر آن دا اوریئنٹ ایکسپریس‘ جو ایک ٹرین میں ہوئے قتل کے بارے میں ہے، کا شمار اپنے پسندیدہ ناولوں میں کرتے ہیں۔

ہالی ووڈ ڈائریکٹر کیونٹن ٹرانٹینو کی فلم ’پلپ فکشن‘ کا شمار ان فلموں میں ہوتا ہے جنھوں نے بھاردواج کو فلماسازی کا انتخاب کرنے میں متاثر کیا اور انگلش فلم ڈائریکٹر ایلفرڈ ہچکوک کی فلم ’روپ‘ کا شمار بھی ان کی پسندیدہ ترین فلموں میں ہوتا ہے۔

اگرچہ انڈین ادب مشہور جاسوس کہانیوں سے بھرا ہوا ہے لیکن انھیں فلم میں ڈھالنے میں بالی ووڈ کا ریکارڈ مایوس کن ہے۔

مرڈر آن دا اوریئنٹ ایکسپریس کا ایک سین

Getty Images
فلم ’مرڈر آن دا اوریئنٹ ایکسپریس‘ کو دنیا بھر میں چار کروڑ 80 لاکھ لوگوں نے دیکھا

آگاتھا کرسٹی

  • چھ دہائیوں میں انھوں نے جرائم پر مبنی 66 ناول لکھے اور اس کے علاوہ انھوں نے چھ دیگر ناول بھی لکھے اور 150 سے زیادہ مختصر کہانیاں لکھیں۔
  • انھوں نے ہرکول پیروٹ اور مس مارپل کو تخلیق کیا، جو اب تک کے دو مشہور افسانوی سراغ رساں کردار ہیں۔
  • انگریزی میں ایک ارب سے زیادہ کتابیں اور دوسری زبانوں میں بھی ایک ارب سے زیادہ کتابوں کی فروخت کے ساتھ وہ تاریخ کی وہ ناول نگار ہیں جن کی کتابیں سب سے زیادہ فروخت ہوئیں۔
  • ان کے پہلے ناول ’دا مسٹئیریس افیئر ایٹ سٹائلز‘ کو پہلی بار دا ٹائمز لندن کے ہفتہ وار ایڈیشن میں قسط وار پیش کیا گیا۔
  • دنیا بھر میں ان کے ناولوں پر مبنی 45 فلمیں بنائی جا چکی ہیں جن میں سنہ 2017 کی ریکارڈ توڑ فلم ’مرڈر آن دا اوریئنٹ ایکسپریس‘ بھی شامل ہے جسے چار کروڑ 80 لاکھ لوگوں نے دیکھا۔
  • وہ اب تک کی سب سے کامیاب خاتون ڈرامہ نگار ہیں۔ سنہ 2019 میں عالمی سطح پر کرسٹی کے ڈراموں کی 700 سے زائد پروڈکشنز ہوئی تھیں، جن میں اندازاً سات ہزار افراد کی پرفارمنس شامل تھی۔
  • آگاتھا کرسٹی سنہ 1976 میں 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

ذریعہ: (آگاتھا کرسٹی لمیٹڈ)

فلم حیدر کے سیٹ پر

BBC
وشال بھاردواج بالی ووڈ فلم حیدر کے سیٹ پر اداکار شاہد کپور کے ساتھ

بھاردواج کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسی فلم بنانا چاہتے تھے جو انڈیا کی ایک بے حد مقبول جاسوسی ٹی وی سیریز کرمچند سے متاثر ہو جس میں انڈین اداکار پنکج کپور نے گاجر کھاتے اور شطرنج کے شوقین ایک جاسوس کا کردار ادا کیا تھا۔

بھاردواج کہتے ہیں کہ وہ فلم میں پنکج کپور کے بیٹے شاہد کپور کو کاسٹ کرنا چاہتے تھے۔ ’ایسا نہیں ہو سکا لیکن میں ہمیشہ جاسوسی پر مبنی ایک فلم بنانا چاہتا تھا۔‘

میں نے بھاردواج سے پوچھا کہ کیا ان کی کرسٹی کے ناول سے متاثر فلم میں شیکسپیئر کے ڈراموں پر مبنی فلموں کی طرح گانے اور ڈانس بھی ہو گا۔ تو اس پر انھوں نے ہلکا سا اشارہ دیا۔

انھوں نے کہا ’اس کہانی میں ایک یا دو کردار ایسے ہیں جو کلاسیکل گلوکار ہیں۔ اگر کہانی میں گانے قدرتی طور پر آ گئے تو وہ گائیں گے لیکن کچھ بھی زبردستی شامل نہیں کیا جائے گا۔‘

کرسٹی کے کسی ناول پر فلم میں موسیقی اور رقص پہلی بار شامل نہیں کیا جا رہا۔ جیمز پرچارڈ نے بتایا کہ کرسٹی کے ناول پر مبنی فرانسیسی سیریز کی ایک قسط میں بھی ’متعدد گانے‘ شامل تھے۔ تو کبھی یہ نہ کہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔‘

کرسٹی کے ناولوں پر اب تک لگ بھگ 45 فلمیں بنائی جا چکی ہیں جن میں بہت سی فلمیں ہرکول پیروٹ کے کردار پر مبنی ہیں اور جس کا شمار دنیا کے لازوال خیالی جاسوسوں میں ہوتا ہے۔ سنہ 2017 کی فلم ’مرڈر آن دا اوریئنٹ ایکسپریس‘ کو دنیا بھر میں چار کروڑ 80 لاکھ لوگوں نے دیکھا اور عالمی باکس آفس پر اس نے 350 ملین کا کاروبار کیا۔

پرچارڈ نے کہا: ’تقریباً ہر چیز بات چیت کے ساتھ شروع ہوتی ہے اور عام طور پر بہت جلد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آیا یہ پروجیکٹ ٹھیک ہے یا نہیں اور کیا ہم مل کر کام کر سکتے ہیں یا نہیں۔‘

کرسٹی اپنے پہلے ناول ’دا مسٹئیریس افیئر ایٹ سٹائلز‘ کی اشاعت کے 100 سال بعد بالی ووڈ جا رہی ہیں۔ ان کی اسٹیٹ کے مطابق تب سے ان کی کتابوں کی دو ارب کاپیاں 100 مخلتف زبانوں میں فروخت ہو چکی ہیں۔ صرف گذشتہ برس میں ہی ان کی کتابوں کی 20 لاکھ کاپیاں فروخت ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیلی ویژن، فلم اور تھیٹر میں ان کی کتابوں پر مبنی بہت کام کیا گیا ہے، جو ان کی ابدیت کا ثبوت ہے۔

بھاردواج کہتے ہیں ’میری کوشش ہے کہ میں اپنی فلم سے ایک نئے کردار کو تخیلق کروں۔ مجھے ایسے دو لوگوں کا آئیڈیا پسند ہے جو جاسوس تو نہیں لیکن کسی جرم کو حل کرتے ہیں۔ یہ فلم دو جاسوس بنانے کے بارے میں ہے۔ کہانی اس کے متن کے ساتھ نہیں تو کرسٹی کی روح کے لیے سچ ضرور ہو گی۔‘

’دو برس قبل اپنی آخری فلم بنانے کے بعد میں دوبارہ کیمرے کے پیچھے کام کرنے کے لیے بے قرار ہوں اور اگر سب صحیح ہوتا ہے تو یہ کرسٹی کے ڈراموں پر مبنی تین فلموں کا آغاز ہو گا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16595 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp