آپ کا سائکولوجسٹ دوست ضروری نہیں کہ آپ کا سائکولوجسٹ بھی ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”تم تو خود سائکولوجسٹ ہو تو پھر تمہیں کیوں اس مسئلے کو حل کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے؟“
”میں نے تم سے اس لیے اپنا مسئلہ share کیا تھا کہ تم سائکولوجسٹ ہو ’میرے مسئلے کا کوئی حل بتاؤ گی“

”میں نے تم سے بات کی تھی کہ تم سائکولوجسٹ ہو لیکن پھر بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا میں تو relax نہیں ہوا“

” فلاں اتنی اچھی سائکولوجسٹ ہے کہ اس نے اپنے شوہر / بوائے فرینڈ کو اچھے سے قابو کر کے رکھا ہوا ہے“

یہ جملے اور اس طرح کے ملتے جلتے جملے آپ کو اکثر و بیشتر سننے کو ملیں گے ’اگر آپ نے سائکولوجی کو بطور مضمون پڑھا ہے۔ اگر آپ نے بطور سائکولوجسٹ کسی جگہ پر کام رہے ہیں تو پھر تو آپ پر فرض ہے کہ آپ ہر وقت ایک جادو کی چھڑی پکڑے گھومتے رہیں۔ لوگوں کے مسائل سنتے رہیں۔ اپنی جادو کی چھڑی گھماتے جائیں اور لوگوں کے مسائل حل کرتے جائیں۔ بصورت دیگر اپنی پیشہ وارانہ مہارت و قابلیت پر بلاواسطہ یا بالواسطہ شکوک و شبہات اور حملوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔

اس چیز کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سائکولوجی بطور ایک مضمون، آپ کو انسانی کردار و ذہن کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے۔ اور اگر آپ مزید اس مضمون کی زیلی شاخ (کلینکل نفسیات) میں بھی مہارت حاصل کر لیتے ہیں تو یہ بھی وہ جادو کی چھڑی آپ کے ہاتھ میں نہیں تھما دیتی ہے جس کی آپ سے توقع کی جا رہی ہوتی ہے۔

اگر اپنے مسئلے کے حل کے لیے کوئی آپ کے پاس کوئی آتا ہے آپ کو اس کی مجموعی کیفیت کا ایک محتاط اندازہ لگانے کے ساتھ ساتھ مختلف نفسیاتی آلہ جات استعمال کرنے پرتے ہیں، جن کا سہارا لے کر آپ مسئلے کی ایک مجموعی تصویر بناتے ہیں اور اس تصویر کی بنیاد پر ایک منصوبہ تشکیل دیتے ہیں، جو اس مسئلے کے حل میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کوئی بھی سائکولوجسٹ خواہ کتنا بھی تجربہ کار اور پڑھا لکھا کیوں نہ ہو اس کو اس مروجہ طریقہ کار سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہاں اس کی اثر انگریزی و رفتار انفرادی طور پر مختلف ہو سکتی ہے۔

آپ کا سائکولوجسٹ دوست آپ کو زندگی کے چھوٹے بڑے مسائل سے نمٹنے کے لیے Quick fixes اور بہتر strategies بتا سکتا ہے۔ آپ کا کتھارسس بھی کروا سکتا ہے۔ ایک بہترین سامع کے طور پر آپ کی بات بھی سن سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ کسی ایسے معاملے سے دوچار ہیں۔ جس کا تعلق آپ کی شخصیت کے غیر مطابقتی رویوں، ماضی کی گرہوں سے ہے اور آپ اس کو Quick fixes سے حل نہیں کر پا رہے ہیں تو بہتر ہے کہ آپ باقاعدہ Counseling یا Therapy میں جائیں۔

تو آئندہ آپ اپنے کسی سائکولوجسٹ دوست، رشتہ دار، عزیز، یا شریک حیات سے اس امید پر رابطہ نہ کریں کہ اس کے پاس مذکورہ جادو کی چھڑی ہے۔ اور اگر آپ اس امید پر رابطہ کر ہی بیٹھے ہیں تو اپنی امید کے ٹوٹنے پر اس کو طعنہ نہ دیں کہ تمہیں تو سائکولوجی پڑھنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہوا ہے۔ کیونکہ وہ بہرحال پہلے آپ کا قریبی ہے اور آپ کی صورتحال کو ایک professional کی طرح سے غیر جانبدار اور غیر جذباتی طریقے سے دیکھنے کے قابل نہیں ہے۔ اور اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ آپ کا مسئلہ اس طرح کے ٹوٹکوں سے حل نہیں ہو رہا ہے تو کسی غیر جانبدار سائکولوجسٹ سے باقاعدہ Sessions لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
میمونہ ارشد کی دیگر تحریریں