حکومت کی ایف آئی اے کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ایم کیو ایم بانی الطاف حسین سمیت دیگر کو گرفتار کرنے کی ہدایت

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

الطاف حسین
AFP
وفاقی حکومت نے چاروں صوبائی حکومتوں اور وفاقی تحققیاتی ادارے (ایف آئی اے) سے کہا ہے کہ انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین سمیت بارہ سو سے زائد افراد کو گرفتار کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

ایف آئی اے کی طرف سے جاری ہونے والی لسٹ میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے نام کے ساتھ ساتھ ان کے قریبی ساتھی محمد انور کا نام بھی شامل ہے۔ ان افراد کو ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے مقدمے میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے اس کے علاوہ ان پر ریاست کے خلاف تقاریر کرنے کے مقدمات بھی درج ہیں۔

وزارت داخلہ نے چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے ملک کی سالمیت کے خلاف کام کرنے والوں اور فرقہ واریت میں ملوث افراد کی گرفتاری ترجیحات میں شامل ہیں۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے یعنی نیکٹا کے حکام کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سنگین جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری کے حوالے سے مختلف ترقی یافتہ ممالک میں رائج قوانین کا جائزہ لے کر تجاویز مرتب کریں جن پر عملدرآمد کر کے ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

الکیٹریز جیل سے فرار ہونے والے ایک قیدی کا خط؟

جیل سے بھاگنے کے لیے ہیلز والے جوتے، سرنگ اور ہیلی کاپٹر

افغان وزیر انٹرپول کی ‘موسٹ وانٹڈ’ فہرست میں

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق حکام نے انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو استعداد کار بڑھانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

انتہائی مطلوب افراد

Getty Images

واضح رہے کہ گزشتہ تین برس کے دوران سنگین مقدمات میں ملوث انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایف آئی اے نے چاروں صوبوں کی پولیس کی طرف سے دہشت گردی میں ملوث ایسے 1200 سے زائد ملزمان کی فہرست شائع کی ہے جن کو مختلف عدالتوں کی طرف سے اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔

اس فہرست میں بہت سے ایسے ملزمان ہیں جو اطلاعات کے مطابق اس وقت بیرونی ممالک میں مقیم ہیں۔

ایف آئی اے نے جن 28 افراد کی فہرست جاری کی ہے اس میں ناصر محمود بھی شامل ہیں جن کے بارے میں ایف آئی اے کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ وہ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو بنانے کے مقدمے میں ملوث ہے اور اہلکار کے مطابق ملزم اس وقت برطانیہ میں مقیم ہیں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سزا دینے کے لیے ان پر دباؤ تھا۔

جج ویڈیو سکینڈل میں ایف آئی اے نے پانچ افراد کو گرفتار کیا جن میں سے چار ملزمان ضمانت پر ہیں جبکہ ایک ملزم ابھی جیل میں ہے۔ جیل میں قید اس ملزم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی ہے جس میں ان کا موقف ہے کہ اس سکینڈل کے اصل کردار ابھی تک باہر گھوم رہے ہیں جبکہ اسے صرف سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کی اس فہرست میں 16 افغان باشندے بھی شامل ہیں جو کہ ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کے مطابق ان میں سے زیادہ تر افراد افغانستان میں موجود ہیں۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اُنھیں جو معلومات فراہم کی گئی ہیں ان کے مطابق یہ افغان باشندے پاکستان میں قائم افغان مہاجرین کے کیمہپوں میں رہتے رہے ہیں۔

اس فہرست میں فرقہ واریت کے مقدمات میں مطلوب 34 افراد کے نام بھی شامل ہے جن کے سروں کی قیمت مقرر کی گئی ہے۔ ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق اشتہاری ملزمان کے سروں کی مجموعی قیمت چار کروڑ روپے سے زیادہ ہے اور ان کا تعلق انتہا پسند مذہبی تنظیموں سے ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے جاری ہونے والی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں ایسے افراد کی سب سے زیادہ تعداد صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے اور یہ تعداد 737 ہے، جبکہ 161 خطرناک اشتہاری ملزمان کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے 737 انتہائی مطلوب افراد میں سے 341 ایسے ہیں جن کے سروں کی قیمت مقرر نہیں کی گئی۔

ایف آئی اے کے اہلکار کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے انتہائی مطلوب ملزمان میں سے زیادہ کا تعلق کالعدم تنظیم بلوچستان لیبریشن آرمی سے ہے۔

آبادی کے لحاظ سے ملک کے دو بڑے صوبوں پنجاب اور سندھ سے سنگین وارداتوں میں ملوث ایسے ملزمان کی تعداد 222 ہے۔صوبہ سندھ سے ایک سو افراد اس فہرست کا حصہ ہیں اور ان میں سے 56 ملزمان ایسے ہیں جن کے سروں کی قمیت مقرر نہیں کی گئی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ایک بھی ایسا ملزم نہیں ہے جو اس فہرست میں شامل ہو جبکہ 30 افراد گلگت بلتستان سے ہے۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے 32 ایسے ملزمان ہیں جو اس فہرست میں شامل ہیں۔

اسلام آباد میں سنگین نوعیت کے جرائم میں اضافے کا اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی نوٹس لے رکھا ہے اور اُنھوں نے سیکرٹری داخلہ سے وفاقی دارالحکومت میں اغوا برائے تاوان اور ریپ کے مقدمات کی تفصیلات طلب کر رکھی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16578 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp