جو بائیڈن یا ڈونلڈ ٹرمپ: ختم نہ ہونے والے اس امریکی صدارتی انتخاب کا نتیجہ کب نکلے گا؟

اینتھونی زرچر - نامہ نگار، شمالی امریکہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ
Getty Images
کئی روز قبل یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن متوقع نتائج کے مطابق امریکی صدارتی انتخاب جیت چکے ہیں لیکن ٹرمپ نے اب تک شکست تسلیم نہیں کی، نہ ہی ایسا لگ رہا ہے کہ وہ ہار ماننے والے ہیں۔

ٹرمپ نے شواہد کے بغیر ’ووٹر فراڈ‘ کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ بائیڈن کو اس کا فائدہ پہنچا ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کئی ریاستوں میں بائیڈن سے لاکھوں ووٹ پیچھے ہیں اور انھیں جیتنے کے لیے انھیں یہاں کے نتائج مکمل طور پر تبدیل ہوتا دیکھنے پڑیں گے۔ کئی لوگ ایسا ہوتا نہیں دیکھ رہے۔

یہ بھی پڑھیے

بائیڈن کی جیت کا دنیا کے باقی ممالک پر کیا اثر پڑے گا؟

امریکی الیکشن: بائیڈن کی جیت، خلیجی ممالک کو نئی حقیقت کا سامنا

جو بائیڈن صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے کیا کریں گے؟

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن امریکہ کی خارجہ پالیسی کیسے تبدیل کریں گے؟

اس افراتفری کے ماحول میں اہم گروہ کیا سوچ رہے ہیں، آئیے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:

امریکی سیاسی روایات کے برعکس ٹرمپ کے موقف نے پوری قوم کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکی ووٹر اور سرکاری حکام بھی صورتحال پر ردعمل دے رہے ہیں۔ اس کی کئی ماہ قبل پیشگوئی کی جاچکی تھی لیکن اب صورتحال مزید بےیقینی میں جاتی دکھائی دیتی ہے۔

ٹرمپ

Getty Images

رپبلکن رہنما

کیا ٹرمپ کو شکست تسلیم کر لینی چاہیے؟

ابھی نہیں۔

سینیٹ کے اکثریتی رہنما مِچ مکونل کے مطابق ‘قانون کے تحت صدر کے پاس حق ہے کہ وہ الزامات کی جانچ پڑتال اور دوبارہ گنتی کا مطالبہ کریں۔’

اصل کہانی

گذشتہ چال سال کے دوران رپبلکن رہنما، چاہے وہ کانگریس کی قیادت کا حصہ ہوں یا معمولی کارکن، نے ٹرمپ کی ہر متنازع حکمت عملی کا جواب دینے کا فن سیکھ لیا ہے۔

وہ ردعمل دینے سے گریز کرتے ہیں اور طوفان کے ٹلنے کا انتظار کرتے ہیں۔

ان کا حساب کتاب سادہ ہے۔ بہت کم رپبلکن رہنما ایک ایسے شخص کو غصہ دلانے چاہتے ہیں جو ٹوئٹر پر اپنی انگلی سے نیا محاذ کھول سکتا ہے۔

صدر کی شکست کے باوجود رپبلکن رہنما ان کا ساتھ دیے رہے ہیں اور صدر کی اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ ‘جائز ووٹوں کے تحت وہ جیت گئے ہیں۔’ ایسا لگتا ہے کہ وہ یہی کرتے رہیں گے جب تک قانونی کارروائیوں کا نتیجہ سامنے نہیں آجاتا اور نتائج کی سرکاری تصدیق نہیں ہوجاتی۔

رپبلکن سیاستدان اپنے مستقبل کے بارے میں سوچیں گے۔ انھیں آنے والی ڈیموکریٹ انتظامیہ کے ساتھ کام بھی کرنا پڑے گا اور آئندہ انتخابات میں اپنی فتوحات بھی برقرار رکھنی ہوں گی۔ صدر کے برعکس وہ کوئی ایسی چال نہیں چل سکتے جو ان کے لیے سب برباد کردے۔ ان کا سیاسی مستقبل آئندہ کئی برسوں پر محیط ہوسکتا ہے، نہ کہ محض دنوں یا ہفتوں پر۔

یہ صبر آزما کھیل ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ صدر کو دعوے کرنے کا حق ہے اور انھیں وقت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنی مایوسی کا اظہار کر سکیں۔ لیکن وہ بھی جانتے ہیں کہ ایسے شواہد ملنا مشکل ہے جو انتخاب کے نتائج بڑے پیمانے پر بدل دیں۔

الفاظ کی جگہ وہ اپنے عمل سے ثابت کر رہے ہیں کہ جنوری میں ایک نیا صدر آچکا ہوگا۔ ٹرمپ کا وقت بھی گزر جائے گا۔

ٹرمپ

Getty Images

اٹارنی جنرل بار

کیا ٹرمپ کو شکست تسلیم کر لینی چاہیے؟

غیر واضح۔

بِل بار نے محکمۂ قانون کو بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا ہے کہ سنجیدہ الزامات کو کافی احتیاط سے دیکھنا چاہیے لیکن وفاقی تحقیقات کی بنیاد قیاس آرائی یا بلند و بالا دعوؤں پر نہیں ہونی چاہیے۔

اصل کہانی

پیر کو اٹارنی جنرل بِل بار نے سینیئر عملے کو پیغام جاری کیا کہ جس میں ان سے الیکشن میں مبینہ فراڈ کی تحقیقات فوری شروع کرنے کا کہا گیا، بجائے اس کے کہ ریاستوں کی جانب سے پہلے تصدیق شدہ نتائج جاری کیے جائیں۔

ان دستاویزات سے ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت ان ریاستوں میں انتخاب میں بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات کرنے جا رہی ہے جہاں وہ لاکھوں ووٹوں سے ہارے ہیں۔ تاہم اٹارنی جنرل نے پیغام میں تنبیہ اور شرائط بھی شامل کی ہیں۔

ان کے باوجود بل بار کا پیغام ٹرمپ اور ان کے حامیوں کو مواد فراہم کرے گا جو یہ دعویٰ برقرار رکھے ہوئے ہیں کہ ان سے انتخاب چوری کیے گئے (تاہم باقی رپبلکن امیدواروں کے نتائج تو کافی اچھے آئے ہیں)۔

جرائم کی تحقیقات میں سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے کے خلاف سخت شرائط موجود ہیں، خاص کر اگر بات انتخابات کی ہو رہی ہو۔ بار نے اس مرتبہ کچھ شرائط کو ختم کر دیا ہے۔ لیکن کیا ان سے صدر کو کوئی فائدہ ہوسکے گا جو اپنے دعوؤں کی حمایت میں ٹھوس ثبوت ڈھونڈ رہے ہیں۔

بائیڈن کی حامی

Getty Images

ٹرمپ کا اندرونی دائرہ

کیا ٹرمپ کو شکست تسلیم کر لینی چاہیے؟

نہیں! (یا شاید ہاں؟)

ٹرمپ کی قانونی مشیر جینا ایلس نے ٹوئٹر پر بتایا ہے کہ ‘میری صدر ٹرمپ سے بات ہوئی ہے اور میں نے انھیں کہا ہے کہ میں ان سے محبت کرتی ہوں اور مجھے ان پر فخر ہے کہ وہ قانون کی بالادستی، آئین اور امریکی نظام کے ساتھ کھڑے ہیں۔’

اصل کہانی

میڈیا پر تو صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر اور حامی خاص طور پر وہ جو ان کے سب سے قریب ہیں جیسے روڈی گیلیانی ان کی جانب سے انتخابی نتائج کو مشکوک قرار دینے کے بیانیے کی طرف داری کر رہے ہیں۔

اس کی ایک وجہ تو ان کے ذاتی مفاد سے جڑی ہے۔ اگر صدر ٹرمپ جاتے ہیں تو ان کی بھی نوکریوں کا خاتمہ ہو جائے گا (یا کم از کم ان کی طاقت کی راہ داریوں تک رسائی ختم ہو جائے گی۔) پریس سیکریٹری کیلی میکینانی جیسے افراد کا یہ ماننا ہے کہ انہی کی جیت ہو گی۔ (’الیکشن ابھی مکلمل نہیں ہوئے، ابھی خاصا وقت موجود ہے۔‘)

دیگر افراد کے لیے جیسے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کا بیانیہ (’ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدرات تک ہموار منتقلی ہو گی‘) خاصا مزاحیہ ہے۔

اس کی ایک وجہ ذاتی بھی ہے۔ ٹرمپ کے دو بڑے بیٹے ڈان جونیئر اور ایرک نے مسلسل اور پُرزور انداز میں دفاع کرتے رہے ہیں اور ان کی جانب سے الیکشن فراڈ کے دعوؤں کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان کا فیملی کا نام اور برانڈ بھی داؤ پر لگ گیا ہے۔

اس سب کے پسِ منظر میں کچھ ابہام یا شاید کچھ حد تک یقین بھی ٹرمپ کے حامیوں کی صفوں میں موجود ہے۔ صدر کی بیٹی اوانکا ٹرمپ ایلیکشن کے بعد سے خاموش ہیں اور وہ اور ان کے شوہر جیرڈ کشنر کا ماننے ہے کہ صدر کو اب شکست تسلیم کر لینی چاہیے۔

دریں اثنا ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر جونیئر اراکین جو کچھ ماہ میں بیروزگار ہو جاییں گے فی الحال بے یقینی کی کیفیت میں ہیں۔ کچھ خبریں ایسی بھی ہیں کہ ڈائریکٹر آف پریسنیل جان میکینٹی کا کہنا ہے کہ اگر انھیں معلوم ہوا کہ وہ نوکری تلاش کر رہے ہیں تو انھیں فوراً ملازمت سے نکال دیا جائے گا۔

تاہم اگر وہ اس وقت نئی نوکری ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کرتے تو یہ شاید ان کے کریئر کے لیے ٹھیک نہیں سمجھا جائے گا۔

بائیڈن

Getty Images

ٹرمپ کے حامیوں کا کیا ماننا ہے؟

کیا صدر کو شکست تسلیم کر لینی چاہیے؟

بالکل بھی نہیں!

ایک ٹرمپ حامی نے ہیوسٹن ٹیکساس میں بی بی سی نیوز بیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں اس لیے آیا ہوں تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کر سکوں۔ یہ (الیکشن) مکمل فراڈ ہے۔ ابھی تک متعدد ووٹوں کی گنتی باقی ہے اور ان میں سے اکثر جعلی یا وفات پا جانے والے افراد کے ہیں۔

اصل کہانی

گذشتہ ہفتے الیکشن ٹرمپ کے حامیوں کو یقین تھا کہ باوجود اس کے کہ رائے شماری کے اندازے کچھ اور ہی نقشہ کھینچ رہے ہیں لیکن ان کا امیدور ہی کامیاب ہو گا۔

سنہ 2016 کے حیرت انگیز نتائج بھی ان کے ذہن میں تھے جب ہر کوئی آخری لمحے تک ہلری کلنٹن کی فتح کی بات کر رہا تھا۔ اس حوالے سے ان کا اعتماد بھی مکمل طور پر غلط نہیں تھا کیونکہ 2020 کے انتخاب کے نتائج رائے شماری کے حتمی جائزوں سے خاصے کڑے ہوئے۔

حالانکہ اکثریت ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کی جا چکی ہے اور بائیڈن کی ممکنہ فتح کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے لیکن پھر بھی کچھ قدامت پرست افراد صدر ٹرمپ کا ساتھ دے رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر روئٹرز/اپسوس کی جانب سے کیے گئے رائے شماری کے جائزے کے مطابق تقریباً 40 فیصد رپبلکنز اب بھی یہ نہیں مانتے کہ بائیڈن کی ہی فتح ہوئی ہے۔ (عام آبادی میں یہ تناسب 21 فیصد تک ہے)

ٹرمپ کی انتخابی ٹیم کی جانب سے ’چوری کو روکو‘ کے نامی سے ملک بھر میں مظاہرے کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جن میں سے ایک سنیچر کو واشنگٹن ڈی سی میں کی جائے گی۔ اس حوالے سے بھی خبریں سامنے آئی ہیں کہ صدر خود بھی ملک بھر میں انتخابی مہم کی نوعیت کے جلسے کریں گے تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی منصوبہ نہیں دیا گیا۔

یہ بات ایک عرصے سے خاصی واضح ہے کہ اگر ٹرمپ میں لڑنے کی خواہش ہے تو ان کے حامیوں کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا۔

بائیڈن

Getty Images

جو بائیڈن

کیا ٹرمپ کو شکست تسلیم کر لینی چاہیے؟

جی ہاں۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘مجھے لگتا ہے کہ یہ باعث شرمندگی ہے۔۔۔ میں یہ اچھے الفاظ میں کیسے کہوں؟ مجھے نہیں لگتا اس سے ان کی صدارتی وراثت کو فائدہ پہنچے گا۔’

اصل کہانی

سنیچر کو جب سے جو بائیڈن کو متوقع فاتح قرار دیا گیا، وہ اور ان کی انتخابی ٹیم یہ بتا رہے ہیں کہ اب وہ صدارت کی منتقلی کے عہد میں داخل ہوچکے ہیں جو کہ اپنے طریقے کے مطابق چل رہا ہے۔ انھوں نے پیر کو اپنی کورونا وائرس ٹاسک فورس سے ملاقات کی اور منگل کو صحافیوں سے گفتگو کی جہاں انھوں نے وعدہ کیا کہ اعلیٰ سطحی انتظامی امور کے نئے ذمہ داران کا اعلان آئندہ ہفتوں میں کیا جائے گا۔

بائیڈن نے اس بات کی تردید کی ہے صدر ٹرمپ کی جانب سے شکست تسلیم نہ کرنا ان کے کام کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی معلومات اور فنڈز تک رسائی جو نومنتخب صدر کو فراہم کی جاتی ہے اس میں تاخیر کوئی بڑا دھچکا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رپبلکن رہنما ان کی فتح قبول کر لیں گے اور ہوسکتا ہے فی الحال وہ موجودہ صدر سے ذرا ڈرتے ہوں۔

بائیڈن اور ڈیموکریٹس اس وقت اصولوں سے متعلق بیان بازی کر رہے ہیں جبکہ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر رکھا ہے اور ان کے وکلا عدالتوں میں نتائج کو چیلنج کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ووٹ اور وقت ان کے حق میں ہے اور کسی بھی صورت میں ان کے لیے نتائج کامیابی کی عکاسی ہی کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ

کیا ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست تسلیم کرنی چاہیے؟

جواب کے لیے صرف ان کے ٹویٹس پڑھ لیں۔۔۔

‘لوگ اس دھاندلی زدہ انتخاب کو تسلیم نہیں کریں گے!’

اصل کہانی

صرف ڈونلڈ ٹرمپ جانتے ہیں کہ انھوں نے اب تک بائیڈن کے خلاف شکست تسلیم کیوں نہیں کی۔ وہ کئی ریاستوں میں ان سے لاکھوں ووٹ پیچھے ہیں۔

شاید وہ دائیں بازوں کے ذرائع ابلاغ کی پیروی کرتے ہوئے یہ واقعی سمجھتے ہیں کہ ووٹر فراڈ کے الزام ثابت کیے جاسکتے ہیں اور کئی عدالتیں ان کے حق میں فیصلہ سنا دیں گی جس سے الیکشن کے نتائج بدل جائیں گے۔

وائٹ ہاؤس

Getty Images

قیاس آرائی کرنے والے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ صدر اپنے نام پر سے شکست کا داغ دھونا چاہتے ہیں یا عطیات کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ وہ ابھی بھی جیت سکتے ہیں اگر وہ قانونی جنگ کے لیے مناسب رقم اکٹھی کر لیں۔

عطیات کے لیے ان کی تشہیری مہم میں صاف لکھا گیا ہے کہ رقم کا بڑا حصہ ان کی مہم کے دوران جمع ہونے والے قرض کو چکانے کے لیے استعمال کیا جائے گا، یا پھر اس طرح کے دوسرے اخراجات کے لیے کچھ پیسے استعمال کیے جائیں گے۔ ان باتوں سے اس دلیل میں وزن پیدا ہوجاتا ہے۔

کچھ دیر میں حقیقت صاف ہوجائے گی۔ ریاستوں کو کچھ ہفتوں میں اپنے نتائج کی تصدیق کرنی ہوگی جس کے بعد امکان ہے کہ جو بائیڈن صدارت کے لیے 538 میں سے اکثریتی الیکٹورل کالج ووٹ حاصل کر چکے ہوں گے۔ 14 دسمبر کو الیکشن کا عملہ خود ووٹ ڈالے گا اور اس کے بعد صدر اور نائب صدر کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا۔ جنوری میں کانگریس کو یہ نتائج فراہم کیے جائیں گے جس کے بعد وہاں سے منظوری دی جائے گی۔

روایات اور معمول کے علاوہ بھی یہ تاریخ ٹھوس ہے۔

اس کے بعد بائیڈن کو 20 جنوری کی شام حلف لینا ہوگا اور ٹرمپ کی صدارت ختم ہوجائے گی، چاہے انھیں اچھا لگے یا نہیں، چاہے وہ شکست تسلیم کریں یا نہیں۔

ٹرمپ دوبارہ سنہ 2024 میں صدارتی دوڑ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ امریکی آئین میں اس کی کوئی روک نہیں کہ دونوں صدارتی عہد ایک ساتھ ہونے چاہییں۔ یا وہ رپبلکن جماعت میں ‘کنگ میکر’ بن سکتے ہیں تاکہ اپنے کسی بچے یا سیاسی اتحادی کو صدر بننے کے لیے تیار کر سکیں۔

یہ صدارتی انتخاب 2020 کی اختتام ہوسکتا ہے لیکن سیاسی سیاسی داؤ پیچ کبھی رکنے والے نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16633 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp