ریکوڈک: حکم امتناع کی شرائط پورا کرنے میں ناکامی کے بعد پاکستان کو تین ارب ڈالر جرمانے کا سامنا

اعظم خان - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپیریم کورٹ
BBC
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سونے اور تانبے کے کروڑوں ڈالر مالیت کے ریکوڈک پراجیکٹ کے مقدمے میں پاکستان کے خلاف ایک اور فیصلہ سامنے آیا ہے، جس کے مطابق پاکستان بین الاقوامی ثالثی ٹریبیونل کی طرف سے ریکوڈک مقدمے میں حکم امتناع کی شرائط پوری کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔

اس پیش رفت کے بعد اس مقدمے میں شکایت کنندہ غیر ملکی کمپنی ٹیتھا کاپر کمپنی (ٹی سی سی) نے ایک بار پھر پاکستان سے اربوں ڈالر جرمانہ وصول کرنے کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل خالد جاوید کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس وقت ایک مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق ہم اس وقت اس مقدمے کے ایک اہم موڑ پر ہیں۔‘

پاکستان پر ٹریبیونل نے گذشتہ برس 12 جولائی کو تقریباً چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا جس کے بعد پاکستان کی درخواست پر ایک ایڈہاک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے کچھ شرائط کے ساتھ پاکستان کے حق میں چند ماہ کا حکم امتناعی جاری کر دیا تھا، جسے اس وقت پاکستانی حکام نے بڑا ریلیف قرار دیا تھا۔

اس مقدمے کی پیروی کرنے والی ویب سائٹس آئی ٹی اے لا (ITA Law)، لا 360 (Law 360) اور آئی اے رپورٹر ( IA Reporter) کے مطابق ٹیتھان کاپر کمپنی کو پاکستان سے کل جرمانے کی رقم کا آدھا حصہ وصول کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

ان ویب سائٹس نے حکم امتناع کے متعلقہ پیراگراف کا حوالہ بھی دیا ہے جن میں یہ شرائط موجود ہیں کہ اگر 30 دن کے اندر پاکستان بینک گارنٹی نہیں دیتا تو پھر چھ ماہ کے لیے دیے گئے حکم امتناع کو ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔

ان ویب سائٹس کے مطابق پاکستان کی طرف سے حکم امتناع کی شرائط میں ناکامی کے بعد ایڈہاک کمیٹی نے 30 اکتوبر کو اپنا یہ حکم امتناع جزوی طور پر ختم کرتے ہوئے شکایت کنندہ ٹی سی سی کو پاکستان سے مقدمے میں چھ بلین ڈالر جرمانے میں سے آدھی رقم، یعنی تین ارب ڈالر۔ وصول کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سیندک کا سونا بلوچوں کی زندگی بدلنے میں مددگار کیوں نہیں؟

ریکوڈک: آئی ایم ایف کے قرض جتنے جرمانے کا ذمہ دار کون؟

چھ ارب ڈالر جرمانے کی ادائیگی پر حکم امتناع پاکستان کے لیے کتنا بڑا ریلیف ہے؟

عالمی ثالثی ٹریبیونل ( ICSID) کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق اس مقدمے میں 30 اکتوبر کو ایک حکم جاری کیا گیا ہے۔

ٹریبیونل کے مطابق ٹی سی سی کمپنی نے 31 اکتوبر کو اس حوالے سے ایک ’کاؤنٹر میموریل آن انلمنٹ‘ کی (counter-memorial on annulment) درخواست بھی جمع کرا دی ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق یہ معاملہ ابھی بھی زیر سماعت ہے اور اس دوران لیزنگ کمپنی سے بات چیت کے ذریعے اس معاملے کا حل نکالنے کو کوششیں کی جا رہی ہیں۔

بی بی سی نے اس صورتحال پر جب پاکستان کے اٹارٹی جنرل خالد جاوید سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ اس وقت ’ریکوڈک مقدمہ میں ہم بہت نازک موڑ (critical stage) پر ہیں۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ اب پاکستان کو کتنا جرمانہ ادا کرنا ہو گا تو انھوں نے کہا کہ وہ ایک زیر التوا مقدمے پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

بلوچستان

BBC

جب حکم امتناع ملا تھا تو پاکستان کا مؤقف کیا تھا؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا تھا کہ اس فیصلے کے بعد اب پاکستان ایک نئی قانونی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھے گا۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ ایک بہت اہم ریلیف ہے کیونکہ اس وقت پاکستان مالی طور پر چھ ارب ڈالر کا جرمانے ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب پاکستان کو مئی 2021 تک کا وقت مل چکا ہے۔‘

ان کے مطابق ’اب ہمارے پاس بہت سارے آپشن ہیں۔ ہم کوشش کریں گے اس عرصے میں ہم اس معاملے کا کوئی بہتر حل نکال سکیں۔‘

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’ہماری پہلی کوشش ہو گی کہ اس مقدمے میں پاکستان کے خلاف جو فیصلہ آیا ہے اسے ختم کرایا جا سکے، جس کے اب آثار پیدا ہو گئے ہیں۔‘

تاہم اُس وقت ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ ’اگر قانونی پوزیشن دیکھی جائے تو پاکستان یہ مقدمہ ہار چکا ہے اور اب ’ایوارڈ ریونیو‘ کرانا ہے، جس کے نظرثانی کے مرحلے میں امکانات بہت کم ہیں۔‘

یاد رہے کہ ثالثی ٹریبیونل کے مطابق پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ریکو ڈیک کان میں تانبے اور سونے کے ذخائر کے لیے کان کنی کی کمپنی ٹی سی سی کو غیر قانونی طور پر لیز دینے کی تردید کی تھی۔

ٹریبونل کا کہنا تھا پاکستان نے آسٹریلیا، پاکستان دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کے تحت غیر قانونی قبضہ کرنے کا ارتکاب کیا ہے۔

بعد میں ٹی سی سی نے پاکستان پر عائد جرمانے کے نفاذ کے لیے پانچ مختلف ممالک کی عدالتوں سے رجوع کیا۔

گذشتہ نومبر میں پاکستان نے کئی بنیادوں پر اس جرمانے کو منسوخ کرانے کے لیے آئی سی سی کے سامنے درخواست کی۔ جب پاکستان کی درخواست رجسٹرڈ ہوئی تو ٹی سی سی کے ذریعہ شروع کردہ عمل پر ازخود ایک عبوری کمیٹی قیام کی منظوری دی گئی۔

یہ مقدمہ پاکستان کے لیے وبال جان کیسے بنا؟

بیرسٹر ظفراللہ خان مسلم لیگ نواز کے گذشتہ دور حکومت میں وفاقی سیکریٹری قانون بھی رہ چکے ہیں۔

وہ ذاتی طور پر اس مقدمے کو عالمی فورم پر لڑنے کی اپنی ہی حکومت کی حکمت عملی سے اختلاف بھی رکھتے تھے جس کا اظہار انھوں نے وزارت قانون میں رہتے ہوئے ایک علیحدہ نوٹ کی صورت میں بھی کیا تھا۔

اس اختلاف پر بات سے پہلے ان کی اس مقدمے کے بارے میں رائے جانتے ہیں۔

ظفراللہ کے مطابق اس مقدمے میں فوج سمیت گذشتہ اور موجودہ حکومتوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ پاکستان کو ہر صورت اس مشکل سے بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں فوج کے افسران ہمارے ساتھ اجلاسوں میں شریک رہے اور ہمیں اچھی معاونت دی۔

ان کی رائے میں اس طرح کے مقدمات میں فیصلے دیتے ہوئے ہمارے قانونی فورمز (عدالتوں) کو احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ اس سے نقصان ملک کا ہوتا ہے۔

’نیب کے ڈر سے ڈیل نہ کر سکے‘

بیرسٹر ظفراللہ خان نے بتایا کہ اس مقدمے میں غیر ملکی کمپنی ٹی سی سی کی طرف سے پاکستان کو بہت کم رقم پر سیٹلمنٹ کی پیشکش ہوئی تھی مگر قومی احتساب بیورو کے ڈر سے یہ آفر قبول نہیں کی جا سکی۔ ان کے مطابق نیب کے بارے میں یہ خوف پایا جاتا تھا کہ اگر ڈیل ایک ارب میں بھی کی گئی تو ’اختیارات سے تجاوز‘ کے مقدمات قائم ہونا شروع ہو جائیں گے۔

ان کے مطابق ایگزیکٹیو اور بیوروکریسی اس معاملے میں ایسے ڈر کر شکار رہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا ہے کہ جس رقم پر ڈیل کی جا رہی تھی وہ جرمانے کی رقم کے مقابلے میں بہت ہی کم رقم بنتی تھی۔

سابق سیکریٹری قانون نے پی ٹی وی کے چیئرمین سے متعلق سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ اب جن کی وجہ سے یہ مقدمہ پاکستان کے لیے وبال جان بنا ان سے ان کی تمام تنخواہیں واپس لی جائیں۔

چاغی

BBC

’ریکوڈک پر اٹارنی جنرل آفس میں ایک علیحدہ سیل‘

اس مقدمے میں حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے ظفراللہ خان نے کہا کہ گذشتہ حکومت اور موجودہ حکومت نے اس معاملے کو لا ڈویژن (وزارت قانون) سے دور رکھا۔

ان کی رائے میں اٹارنی جنرل کے دفتر میں علیحدہ سے ایک سیل قائم کرنے کے بجائے اگر یہ معاملہ متعلقہ محکموں کے درمیان رہتا تو کوآرڈینیشن سے مزید بہتری کے امکانات پیدا ہو جاتے۔

اس مقدمے میں غیر ملکی لا فرمز کی بھی خدمات حاصل کی گئیں جن پر ملک کا بڑا خرچہ آیا۔ ظفراللہ خان کے خیال میں جہاں وکلا تبدیل ہوئے وہیں لا فرمز بھی تبدیل کی گئیں۔

ان کے مطابق گذشتہ حکومت نے ایک قابل اعتماد امریکی فرم کو یہ مقدمہ لڑنے کے لیے دیا تھا مگر موجودہ حکومت نے ایک کم شہرت رکھنے والی لا فرم سے معاہدہ کر لیا، جس کی ضرورت نہیں تھی۔

پاکستان کی طرف سے اس مقدمے کی پیروی کرنے والے وکلا اور لا فرمز نے رابطہ کرنے کے باوجود اس صورتحال پر اپنی کوئی رائے نہیں دی ہے۔

پاکستان نے مقدمے کو طوالت دینے کی پالیسی اختیار کیے رکھی

صحافی خرم حسین اس مقدمے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے اتنی کمزور بنیاد پر ریاست پاکستان اور ٹی سی سی کے درمیان معاہدے منسوخ کیے کہ پہلے دن سے اس مقدمے کے نتائج سے متعلق کوئی غلط فہمی نہیں تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس پورے عرصے میں پاکستان کی یہ کوشش رہی ہے کہ جتنا ہو سکے اس مقدمے کو لٹکایا جائے اور اس میں پاکستان نے تقریباً دس سال کا عرصہ گزار لیا ہے۔

خرم حسین کی رائے میں پاکستان کی حکومتوں کی اس معاملے میں غفلت شامل نہیں ہے۔

ان کے مطابق پاکستان نے اس مقدمے میں یہ پالیسی اختیار کیے رکھی کہ جتنا ممکن ہو اس مقدمے کو طوالت دی جائے باقی بعد میں دیکھا جائے گا۔

پاکستان کے اثاثے ضبط ہو سکتے ہیں؟

بین الاقوامی ثالثی ٹریبیونل کی طرف سے ٹی سی سی کمپنی کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ جرمانے کی رقم پاکستان کے بیرون ملک اثاثے ضبط کر کے بھی پورا کر سکتی ہے۔

خرم حسین کے مطابق اب اگر کسی ملک میں پاکستان کے کوئی اثاثے موجود ہیں، سمندر میں بحری جہاز کھڑا ہے، یا کسی ایئر پورٹ پر جہاز پرواز بھرنے کی تیاری میں ہے تو اس وقت ٹی سی سی قانونی طریقے سے یہ سب اثاثے قبضے میں لے سکتی ہے اور پھر ان اثاثہ جات کی فروخت سے اپنا نقصان پورا کر سکتی ہے۔

ان کے مطابق سفارت خانے اور سفارتی اثاثہ جات پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔

اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ٹریبیونل کے احکامات مقامی اتھارٹیز کو پیش کیے جاتے ہیں جو اثاثے ضبط کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کی حکومت نے کچھ عرصہ قبل اپنی مالی مشکلات پر قابو پانے کے لیے جہاں دوست ممالک سے ادھار لیا وہیں متعدد شرائط کے ساتھ آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر کا پیکج بھی حاصل کیا۔

اس وقت پاکستان کو عالمی سطح پر یہ مقدمہ ہارنے کے بعد آئی ایم ایف کے قرض جتنے جرمانے کا سامنا ہے۔

کارکے کی طرح اس مقدمے میں بھی عالمی سطح پر پاکستان کی مشکلات میں اس وقت اضافہ ہوا جب پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکومت کی طرف سے غیر ملکی کمپنی ٹی سی سی سے بلوچستان میں لیزنگ کے معاہدے کو ختم کر دیا۔

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے یہ فیصلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں سنایا تھا، جس کے بعد ٹی سی سی نے سنہ 2012 میں پاکستان کے خلاف بین الاقوامی ثالثی ٹریبیونل میں مقدمہ دائر کر دیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اگر یہ معاہدے منسوخ کیے گئے تو ملک کے لیے عالمی سطح پر بدنامی ہو گی اور آئندہ کوئی کمپنی ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے ڈرے گی۔

جسٹس افتخار چودھری

Getty Images

اس مقدمے کی متعدد سماعتوں کے بعد 12 جولائی 2019 کو ٹریبیونل نے پاکستان کی جانب سے آسٹریلیا اور چلی کی ایک مشترکہ کان کنی کی کمپنی کی مائننگ لیز منسوخ کرنے پر تقریباً چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

پاکستان کو کہا گیا تھا کہ وہ مائننگ کمپنی کو چار ارب ڈالر ہرجانے کی ادائیگی کے علاوہ 1.7 ارب ڈالر کی اضافی رقم بھی ادا کرے۔

پاکستان نے اس فیصلے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے، جس پر سماعت مارچ کے بعد متوقع ہے۔ تاہم پاکستان کی اس فیصلے پر حکم امتناع کی درخواست چھ ماہ کے لیے کچھ شرائط کے ساتھ منظور کر لی گئی تھی۔

پاکستان کو کن شرائط کے تحت حکم امتناعی ملا تھا؟

پاکستان نے اس فیصلے کے خلاف حکم امتناع کی درخواست دی جو رواں برس 17 ستمبر کو کچھ شرائط کے ساتھ منظور کی گئی اور یوں پاکستان کو اس معاملے کا حل نکالنے کے لیے مئی 2021 تک کا وقت مل گیا۔

ٹریبیونل نے حکم امتناعی میں اس مقدمے کے فریقین پر کچھ شرائط عائد کی تھیں۔

پاکستان پر یہ شرط عائد کی گئی کہ وہ ٹی سی سی کمپنی کی تسلی کے لیے جرمانے کی کل رقم کا 25 فیصد گارنٹی کے طور پر بیرون ملک کسی قابل اعتماد بینک میں ایک ماہ کے عرصے میں جمع کرائے گا۔ یہ رقم تقریباً ڈیڈھ ارب ڈالر بنتی ہے۔

ٹریبیونل کے مطابق یہ گارنٹی ناقابل واپسی (irrevocable) اور رضاکارانہ ہو گی۔

پاکستان سے کہا گیا کہ وہ وزیر خزانہ یا کسی بااختیار آفیشل سے ایک دستخط شدہ خط (انڈرٹیکنگ) پیش کرے گا جس میں یہ لکھا ہو کہ پاکستان اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ٹریبیونل نے پاکستان کو جو جرمانہ عائد کیا ہے وہ اس حکم امتناع سے ختم نہیں ہوا ہے۔

فیصلے کے تحت پاکستان ٹریبیونل کے فیصلے کی تاریخ 17 ستمبر سے سود کا حساب بھی حاصل کرے گا اور وہ اضافی پیسہ بھی ادا کرے گا۔

تاہم حکم امتناع میں کہا گیا تھا کہ اگر اس فیصلے کے ایک ماہ کے عرصے میں پاکستان جرمانے کی کل رقم کا 25 فیصد بطور گارنٹی اور پاکستان کا وزیر خزانہ انڈرٹیکنگ نہ دے سکا تو پھر یہ سٹے آرڈر (حکم امتناع) ختم کر دیا جائے گا یعنی یہ حکم غیر موثر ہو جائے گا۔

جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ پاکستان جرمانے کی تمام چھ ارب ڈالر کی رقم دینے کا پابند ہو گا۔

پاکستان پر یہ شرط بھی عائد کی گئی کہ وہ 25 فیصد گارنٹی یا کریڈٹ لیٹر دینے کے عمل میں پاکستانی عدالتوں اور انتظامی اداروں کو بیچ میں نہیں لائے گا یعنی بغیر کسی چوں چراں کے یہ رقم پاکستان ادا کرے گا بصورت دیگر ملک کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ٹریبیونل کے فیصلے میں ٹیتھان کاپر کمپنی کو بھی پابند بنایا گیا کہ وہ بھی کمیٹی کی تسلی کے لیے گارنٹی جمع کرائے گی۔

ٹی سی سی نے تمام شرائط پر حامی بھری اور گارنٹی بھی دی کہ اگر فیصلہ ان کے خلاف آتا ہے تو پھر یہ رقم ضبط کر لی جائے تاہم پاکستان نے نہ تو گارنٹی جمع کرائی اور نہ ہی وزارت خزانہ نے رقم دینے کا وعدہ کیا۔

اس فیصلے کی اہم بات یہ بھی تھی کہ فریقین آپس میں یہ معاملہ گفت و شنید سے حل بھی کر سکتے ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق وہ اب بھی مذاکرات کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔

جرمانے کی رقم کی ادائیگی سے متعلق سوال پر وزارت خزانہ کے وفاقی سیکریٹری نوید کامران بلوچ نے کہا کہ وہ اس مقدمے پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

ریکوڈک مقدمے پر کتنی سماعتیں ہوئیں؟

ریکوڈک مقدمے کا باقاعدہ آغاز 12 جنوری 2012 کو ہوا جب پاکستان کے خلاف درخواست منظور کر لی گئی۔ یہ مقدمہ آٹھ سال سے زیر سماعت ہے۔ ۔

اس مقدمے پر آٹھ سال سے زائد عرصے میں ڈھائی سو سے زائد سماعتیں ہوئیں۔

پاکستان کو ترکی کی کمپنی کارکے کے ساتھ بھی اس ٹریبیونل میں ایسی ہی مشکلات کا سامنا رہا مگر پھر دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات نے پاکستان کے لیے یہ مشکل ٹال دی اور پاکستان ٹریبیونل کے سامنے اپنا تشخص برقرار رکھنے میں کامیاب رہا کیونکہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے مذاکرات کے ذریعے حل ہو گیا۔

ریکوڈک مقدمے کی سماعتوں کے دوران بھی پاکستان کے تشخص سے متعلق سوالات اٹھائے گئے مگر ٹریبیونل نے یہ دلیل تسلیم کی کہ پاکستان کا عالمی تنازعات کے حل میں اہم کردار رہا ہے اور پاکستان کے ذمہ دار ملک ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ اس دلیل کے حق میں بھی کارکے کا فیصلہ بطور مثال پیش کیا گیا۔

کارکے نے پاکستان کو ریکوڈک میں بھی عارضی ریلیف دلایا مگر اب یہ دیکھنا ہو گا کہ پاکستان غیر ملکی کمپنی کے ساتھ مذاکرات میں کس حد کامیاب رہتا ہے اور قانونی پہلوؤں سے بین الاقوامی ٹریبیونل کے سامنے کس حد تک اپنا مؤقف کامیابی سے پیش کرے گا۔ بقول اٹارنی جنرل خالد جاوید اس وقت پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔

بلوچستان

BBC

ریکوڈک بلوچستان میں کہاں واقع ہے؟

ریکوڈک ایران اور افغانستان سے طویل سرحد رکھنے والے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ریکوڈک کا شمار پاکستان میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے جبکہ دنیا کے چند بڑے ذخائر میں ہوتا ہے۔

ریکوڈک کے قریب ہی سیندک واقع ہے جہاں ایک چینی کمپنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تانبے اور سونے کے ذخائر پر کام کر رہی ہے۔ تانبے اور سونے کے دیگر ذخائر کے ساتھ ساتھ چاغی میں بڑی تعداد میں دیگر معدنیات کی دریافت کے باعث ماہرین ارضیات چاغی کو معدنیات کا ‘شو کیس’ کہتے ہیں۔

بلوچستان کے سابق سیکریٹری خزانہ محفوظ علی خان کے ایک مضمون کے مطابق حکومت بلوچستان نے یہاں کے معدنی وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے ریکوڈک کے حوالے سے 1993 میں ایک امریکی کمپنی بروکن ہلز پراپرٹیز منرلز کے ساتھ معاہدہ کیا۔

یہ معاہدہ بلوچستان ڈیویلپمنٹ کے ذریعے امریکی کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے طور پر کیا گیا تھا۔

چاغی ہلز ایکسپلوریشن کے نام سے اس معاہدے کے تحت 25 فیصد منافع حکومت بلوچستان کو ملنا تھا۔ اس معاہدے کی شقوں میں دستیاب رعایتوں کے تحت بی ایچ پی نے منکور کے نام سے اپنی ایک سسٹر کمپنی قائم کرکے اپنے شیئرز اس کے نام منتقل کیے تھے۔ منکور نے بعد میں اپنے شیئرز ایک آسٹریلوی کمپنی ٹھیتیان کوپر کمپنی (ٹی سی سی)کو فروخت کیے۔

نئی کمپنی نے علاقے میں ایکسپلوریشن کا کام جاری رکھا جس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ریکوڈک کے ذخائر معاشی حوالے سے سود مند ہیں۔ بعد میں کینیڈا اورچِلی کی دو کمپنیوں کے کنسورشیم نے ٹی سی سی کے تمام شیئرز کو خرید لیا۔

ٹی سی سی اور حکومت بلوچستان کے درمیان تنازع کب پیدا ہوا؟

ریکوڈک کے حوالے سے بلوچستان کے بعض سیاسی حلقوں میں تحفظات پائے جاتے تھے۔ ان حلقوں کی جانب سے اس رائے کا اظہار کیا جاتا رہا کہ ریکوڈک کے معاہدے میں بلوچستان کے لوگوں کے مفاد کا خیال نہیں رکھا گیا۔

اس معاہدے کو پہلے بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا مگر ہائی کورٹ نے اس حوالے سے مقدمے کو مسترد کر دیا اور بعد میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ایک بینچ نے قواعد کی خلاف ورزی پر ٹی سی سی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹی سی سی نے مائننگ کی لائسنس کے حصول کے لیے دوبارہ حکومت بلوچستان سے رجوع کیا۔

اس وقت کی بلوچستان حکومت نے لائسنس کی فراہمی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ کمپنی یہاں سے حاصل ہونے والی معدنیات کو ریفائن کرنے کے لیے بیرون ملک نہیں لے جائے گی۔ حکومت کی جانب سے چاغی میں ریفائنری کی شرط رکھنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے حصے کو بھی بڑھانے کی شرط بھی رکھی گئی۔

سیندک پراجیکٹ سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ملنے کے باعث حکومت بلوچستان کی جانب سے یہ شرائط بلوچستان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے لیے رکھی گئی تھیں۔

کمپنی کی جانب سے ان شرائط کو ماننے کے حوالے سے پیش رفت نہ ہونے اور محکمہ بلوچستان مائننگ رولز 2002 کے شرائط پوری نہ ہونے کے باعث معدنیات کی لائسنس دینے والی اتھارٹی نے نومبر2011 میں ٹی سی سی کو مائننگ کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس فیصلے کے خلاف ٹی سی سی نے سیکریٹری مائنز اینڈ منرلزحکومت بلوچستان کے پاس اپیل دائر کی تھی جسے سیکریٹری نے مسترد کیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16689 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp