کورونا وائرس کی دوسری لہر: سندھ اسمبلی کے رکن جام مدد علی ہلاک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان، کورونا وائرس
EPA
جمعے کو پاکستان میں سندھ اسمبلی کے رکن جام مدد علی کورونا وائرس سے ہلاک ہو گئے۔ وہ گزشتہ کئی روز سے زیر علاج تھے۔ محکمہ صحت کے مطابق ان کا ٹیسٹ نیگیٹو آیا تھا لیکن وائرس نے ان کے اعضا کو شدید متاثر کیا تھا، جو ان کی موت کا سبب بن گیا۔

پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ جولائی سے رواں ماہ نومبر کے دوران شرح اموات میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔

وقافی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے بدھ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ رواں سال اکتوبر کے وسط سے اب تک پاکستان میں کووڈ کے متاثرین کی تعداد میں تین گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں کسی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے ایس او پیز کی پابندی ضروری ہے۔

کورونا وائرس جہاں دنیا بھر میں اموات بانٹ رہا وہیں اس وائرس سے کم متاثر سمجھے جانے والے خطے جنوبی ایشیا میں بھی اس کی دوسری لہر تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔

اس وقت پوری دنیا میں اس وائرس سے متاثرین کی تعداد 52 ملین سے زائد ہو چکی ہے۔

ایک کروڑ سے زیادہ سے زیادہ متاثرین کے ساتھ امریکہ ہی دنیا میں اس وبا کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ انڈیا اسی لاکھ سے زائد متاثرین کے ساتھ دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ انڈیا میں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد بنتی ہے۔

بنگلہ دیش نے دوسری لہر کے خطرے کے پیش نظر ملک بھر میں 19 دسمبر تک تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں۔ ماہرین کے خیال میں جنوبی ایشیا میں سردیوں کے موسم میں وائرس کی یہ لہر ذیادہ مہلک ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا سے وفات پانے والے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کون تھے؟

کورونا وائرس: کیا پاکستانی حکومت سینما گھروں، تھیٹرز اور مزاروں کو بند کرنے لگی ہے

کورونا ویکسین کے پیچھے ترک نژاد جوڑے کی کہانی

پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 2304 نئے مریض سامنے آئے ہیں جو جولائی کے بعد سب سے بڑی تعداد بنتی ہے۔ ایک دن میں پاکستان میں اس وائرس سے 37 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس وقت پاکستان میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ مرنے والوں کی تعداد سات ہزار سے زائد بنتی ہے۔ اس وقت 1219 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جن میں 55 ایسے مریض بھی شامل ہیں جن کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

اس وائرس کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد مریضوں کے ساتھ سندھ پاکستان کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ دوسرا نمبر آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا ہے جہاں ایسے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ آٹھ ہزار سے زائد بنتی ہے۔

جمعرات کو پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ہائیکورٹ کے چیف جج جسٹس وقار احمد سیٹھ کی اس وائرس سے موت کی خبر سے ملک میں اس وائرس سے متعلق بحث زور پکڑ گئی ہے۔

گذشتہ روز ترجمان پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کورونا کے مرض میں مبتلا تھے اور گذشتہ کچھ عرصے سے اسلام آباد کے نجی ہسپتال کلثوم انٹرنیشنل میں زیرعلاج تھے۔

جہاں وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے اپنا تعزیتی پیغام بھیجا ہے وہیں دیگر کئی اہم رہنماؤں نے بھی سوشل میڈیا پر اس موت پر افسوس کا اظہار کیا۔

اس وقت سوشل میڈیا پر اس وائرس سے متعلق ردعمل بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔

این ڈی ایم اے کے چیئرمین محمد افضل میں کورونا وائرس کی تشخیص کی خبر کے بعد صارف حسن زیدی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ اب یہ وائرس خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ انھوں نے اس پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ اب یہ اعلیٰ حکام کو بھی متاثر کر رہا ہے جس کی وجہ شاید اس وائرس کو سنجیدگی سے نہ لینا اور احتیاط نہ کرنا ہے۔

https://twitter.com/hyzaidi/status/1327173572100583426?s=20

صحافی ضرار کلہوڑو کے خیال میں کورونا وائرس کی دوسری لہر پہلی لہر سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔

https://twitter.com/ZarrarKhuhro/status/1326942574209327110?s=20

ایسے ہی خدشات کا اظہار مشرف زیدی نے بھی کیا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ دوسری لہر کے اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اب یہ نئی لہر کہیں زیادہ مہلک ثابت ہو رہی ہے۔

https://twitter.com/mosharrafzaidi/status/1326809205785890816?s=20

کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں متعدد تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے گئے ہیں تاہم ابھی حکومت نے تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

این سی او سی نے تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور سردیوں کے چھٹیوں کو جلدی اور طویل کرنے کی تجویز دی ہے۔ اب اسی سلسلے میں 16 نومبر کو وفاقی وزیر برائے تعلیم مختلف صوبوں کے وزرا سے مشاورت کریں گے اور ملک کے تعلیمی اداروں میں درپیش صورتحال پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کو دیکھتے ہوئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر، این سی او سی، نے ملک بھر میں بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کرنے اور سینما گھروں، تھیٹروں اور مزاروں کو مکمل طور پر بند کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

20 نومبر سے شادی ہالوں سے باہر شادی کی تقریب منعقد کرنے کی اجازت ہو گی جس میں زیادہ سے زیادہ 500 افراد شرکت کر سکیں گے۔

این سی او سی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پچھلے چند ماہ سے مساجد میں کووڈ کی وبا کو روکنے کے لیے بنائی گئی ایس او پیز پر پابندی کی جا رہی تھی، لیکن حالیہ دنوں میں اس میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

تازہ تجاویز میں ریستوران اور کھانے پینے کے مقامات کو دس بجے تک بند کرنے کا کہا گیا ہے جبکہ سینیما، تھیٹر، مذہبی مقامات، درگاہوں کو جلد از جلد بند کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ دوسری جانب بازاروں کو جلدی بند کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

فائزر کی ویکیسن پر پاکستان کا ردعمل

ویکسین

Reuters

دوسری جانب برطانیہ کی فائزر کمپنی کی ویکسین کے اعلان پر پاکستان حکومت کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر عطا الرحمان نے کہا ہے کہ فی الوقت اس ویکسین سے متعلق امید لگانا قبل از وقت ہو گا۔

نجی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عطا الرحمان نے کہا کہ اس ویکسین کو ابھی تک امریکہ کے دواؤں کے نگراں ادارے نے ابھی منظور نہیں کیا ہے اور اس میں مزید دو مہینے لگیں گے۔

ڈاکٹر عطا الرحمان نے مزید کہا کہ اس ویکسین کو منفی 80 ڈگری پر رکھنا ہوگا اور پاکستان سمیت تیسری دنیا کے ممالک میں منفی 80 ڈگری پر رکھنے کی سہولیات موجود نہیں ہیں جبکہ یہ بھی اس وقت نہیں معلوم کہ اس ویکسین کا اثر کتنی دیر قائم رہے گا۔

پاکستان میں چینی ویکسین کے جاری تجربے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اس میں کافی کامیابی ہوئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16635 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp