کورونا وائرس ویکسین پر تحقیق: شمالی کوریا اور روس کے ہیکرز کے سائبر حملے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مائیکرو سافٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا اور روس کے ہیکرز نے ریاستی سرپرستی میں کورونا وائرس کے خلاف ویکسین بنانے والی تنظیموں پر سائبر حملے کیے ہیں۔

مائیکروسافٹ کے مطابق ایک روسی کمپنی جس کا مختصر نام یا عرف فینسی بیئر ہے اور شمالی کوریا کے زنک‘ اور سیریم‘ کے نام سے گروپس ان سائبر حملوں میں شامل ہیں۔

اس سے قبل برطانیہ کی نیشنل سیکورٹی سینٹر (این سی ایس سی) نے الزام عائد کیا تھا کہ روس کے ہیکرز ویکسین ریسرچ کے عمل کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

تاہم روس نے ان حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’روسی ہیکرز کا 35 ممالک پر ایرانی سسٹمز کے ذریعے حملہ‘

’ہیکرز نے کمپیوٹر وائرس سے میرا ہاتھ جلا دیا‘

انڈیا کے مالیاتی نظام کو ہیکرز سے کتنا خطرہ ہے؟

مائیکروسافٹ، جو سائبر سیکورٹی سافٹ ویئر تیار کرتا ہے، کے مطابق کمپنی نے ایسے سائبر حملوں کے بارے میں پتا چلایا ہے جو سات دوائیں بنانے والی (فارماسوٹیکل) کمپنیوں کے کمپیوٹر سسٹمز میں خرابی پیدا کرنا چاہتے تھے۔

کمپنی کے مطابق کینیڈا، فرانس، انڈیا، جنوبی کوریا اور امریکہ میں بھی ویکسین پر ریسرچ کرنے والے محققین پر ایسے سائبر حملوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

مائیکروسافٹ کے مطابق روسی گروپ نے بروٹ فورس‘ (ظالمانہ طاقت) کے حربے استعمال کرتے ہوئے لاکھوں پاسورڈز بنا کر ایسے اکاؤنٹس کو قابو کرنے کی کوشش کی۔

شمالی کوریا کے ایک گروپ نے عالمی ادارہ صحت کے حکام کا روپ دھار کر ای میلز بھیجیں اور دھوکے سے لوگوں سے ان کے لاگ ان` تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی۔

مائیکروسافٹ

Getty Images

ایسی کچھ کوششیں ناکام رہیں مگر مائیکروسافٹ نے خبردار کیا ہے کہ کچھ ایسی کوششوں میں سائبر حملہ آور اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب بھی رہے ہیں۔

روس نے اس سے قبل ویکسین کی تحقیق کے عمل پر کسی ایسے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔ روس کی امریکہ میں قائم سفارتخانے کے حکام نے خبر رساں ایجنسی روئیٹرز سے بات کرتے ہوئے تردید جاری کی تھی مگر روسی سفارتکاروں نے اس معاملے پر مزید کوئی بات نہیں کی۔

شمالی کوریا کے اقوام متحدہ میں نمائندے نے ابھی بی بی سی کی طرف سے پوچھے گئے سوالات پر کوئی جواب نہیں کیا ہے۔

ایک بلاگ پوسٹ میں مائیکرو سافٹ نے عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے عالمی قوانین صحت سے متعلق کئیر فیسیلیٹیز‘ کی ضمانت دیتا ہے اور ایسے گروپس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

گورڈن کوریرا، نمائندہ سیکورٹی امور، بی بی سی نیوز

یہ پہلی بار ایسا نہیں ہو رہا ہے کہ ریاستوں کو ویکسین کے کام کو ہدف بنانے کا مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہو۔

جولائی میں برطانیہ نے یہ الزام عائد کی تھا کہ روس کی انٹیلیجنس ایجنسی برطانیہ اور آکسفورڈ کی ویکسین پر کی جانے والی تحقیق کو ہدف بنانے کے پیچھے سرگرم عمل تھی۔

امریکہ نے چین پر کچھ اس قسم کے الزامات عائد کیے تھے۔

تاہم دونوں ممالک نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

یہ سب ویکسین بنانے کی دوڑ ہے جس میں بڑے ممالک ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

سب سے پہلے اور جلدی ویکسین کی تیاری سے جہاں بیش بہا مالی، سماجی اور صحت کے فوائد حاصل ہونے کے علاوہ باہر اور ملک کے اندر ساکھ بہتر بن جاتی ہے۔

زیادہ تر ریاستی مہمات میں زیادہ تر جاسوسی سے متعلق ہوتی ہیں جس میں معلومات میں تعطل کے بجائے چرانے کو ترجیح دی جاتی ہے۔

تاہم ابھی کچھ عرصے میں ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جس میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروہ ہسپتالوں کے کمپیوٹر سسٹمز پر سائبر حملے کرتے ہیں اور اس کے بدلے بھاری رقم وصول کرتے ہیں۔

مائیکروسافٹ نے دنیا بھر کی حکومتوں سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ ہیلتھ کئیر نظام کو ہدف نہ بنائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16595 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp