القاعدہ کے رہنما کی تہران میں ہلاکت کی ایرانی تردید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Two attacks on US embassies in Kenya and Tanzania by al-Qaeda killed hundreds in 1998
Getty Images
ایران نے ایک رپورٹ کی تردید کی ہے کہ دہشتگرد تنظیم القاعدہ کا ایک رہنما اگست کے مہینے میں تہران میں مارا گیا تھا۔

نیویارک ٹائمز اخبار کے مطابق القاعدہ کے دوسرے اہم ترین رہنما عبد اللہ احمد عبد اللہ کو اسرائیلی ایجنٹوں نے امریکہ کے کہنے پر تہران کی سڑکوں پر ہلاک کیا تھا۔

تاہم ایران کا کہنا ہے کہ کوئی بھی القاعدہ کا دہشتگرد اس کے ملک میں نہیں رہتا۔

یہ بھی پڑھیے

القاعدہ کے اندر کی کہانی، سیاسی بھی اور خاندانی بھی

القاعدہ برصغیر کے سربراہ عاصم عمر ’افغانستان میں مارے گئے‘

’القاعدہ سندھ کا امیر پولیس مقابلے میں ہلاک‘

عبد اللہ احمد عبد اللہ پر الزام ہے کہ انھوں نے 1998 میں افریقہ میں امریکی سفارتخانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

نیویارک ٹائمز نے امریکی انٹیلیجنس ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ عبد اللہ احمد عبد اللہ عرف ابو محمد المصری اور ان کی بیٹی کو سات اگست کو دو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے مار ڈالا تھا۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایران نے پہلے اس حملے کو چھپانے کی کوشش کی اور ایرانی اور لبنانی میڈیا میں یہ بتایا گیا کہ مارا جانا والا شخص تاریخ کا ایک پروفیسر تھا۔

سنیچر کے روز ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’وقتاً فوقتاً امریکہ اور اسرائیل ایران کو ایسے گروہوں سے منسلک کرنے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں اور میڈیا کو غلط معلومات فراہم کرتے ہیں تاکہ انھیں یہاں پر مجرمانہ کارروائیوں کی ذمہ داری نہ اٹھانی پڑے۔‘

ادھر اسرائیل کے نشریاتی ادارے چینل 12 نے مغربی انٹیلیجنس افسران کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ عند اللہ احمد کی ہلاکت ایک ایسے آپریشن کا نتیجہ تھی جہاں اسرائیل اور امریکہ کے مفادات ایک جیسے تھے کیونکہ وہ اسرائیلیوں اور دنیا بھر میں یہودیوں کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

عبد اللہ احمد القاعدہ کے بانی اراکین میں سے ایک مانے جاتے ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے 1998 میں کینیا اور تانزانیا میں امریکی سفارتخانوں پر حملے کیے تھے جن میں 224 افراد مارے گئے تھے۔

نیویارک ٹائمز نے امریکی انٹیلیجنس حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ 2003 سے ایران میں مقیم تھے جہاں پہلے وہ گھر میں قید تھے تاہم بعد میں انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

ایران اور القاعدہ کے درمیان کسی قسم کا تعلق انتہائی عجیب بات ہوگی۔ دونوں فریقین کئی محاذوں پر ایک دوسرے سے لڑ چکے ہیں اور اسلام کے دو اہم ترین مسالک شیعہ اور سنی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایران میں زیادہ تر لوگ شعیہ مسلک کے ہیں جبکہ القاعدہ ایک سنی جہادی گروہ ہے۔

عبد اللہ احمد ایف بی آئی کے مطلوب ترین ملزمان میں سے ایک ہیں اور ان کی گرفتاری پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16689 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp