اوپن انٹرنیٹ: بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں انٹرنیٹ پر اپنی اجارہ داری کا غلط استعمال کیسے کر رہی ہیں؟

نیاز فاروقی - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انٹرنیٹ
Getty Images
حسین درخشاں ایران میں ’فادر آف بلاگنگ‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔

سنہ 2008 میں ایرانی حکومت نے ان کی انٹرنیٹ پر سرگرمیوں کی وجہ سے انھیں 19 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

دورانِ قید جب اُن کا رابطہ دنیا سے مکمل طور پر منقطع تھا تو اسی دوران انٹرنیٹ کی دنیا بہت تیزی سی ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے بدل رہی تھی۔

چھ سال بعد انھیں رہا کر دیا گیا۔ جب وہ رہا ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ انٹرنیٹ جو کہ ان کے قید میں جانے سے پہلے ایک متنوع اور آزاد پلیٹ فارم ہوا کرتا تھا اب بالکل بدل چکا ہے۔

انھیں احساس ہوا کہ انٹرنیٹ محدود ہو رہا ہے جو کہ انٹرنیٹ کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی صارفین انٹرنیٹ پر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟

گھر بیٹھے ہزاروں ڈالر کمانے والے پاکستانی فری لانسرز

غیر ملکی طلبہ کا ہوم ورک کر کے پیسے کمانے والے پاکستانی نوجوان

درخشاں لکھتے ہیں کہ ’جب میں جیل سے آزاد ہوا تو مجھے یہ احساس ہوا کہ انٹرنیٹ کا لازمی عنصر سمجھے جانے والے ہائپر لنکس کو بہت کمزور اور لگ بھگ متروک کر دیا گیا ہے۔‘

یہ تبدیلیاں دھیرے دھیرے متعارف کروائی گئی جو زیادہ تر لوگوں کے لیے ناقابل فہم تھیں، لیکن چھ سال کے وقفے کے بعد درخشاں انھیں نئے نظریے سے دیکھ سکتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ان تبدیلیوں کے وجہ سے سوشل میڈیا کے باہر کی ویب موت کی جانب گامزن ہے۔

انٹرنیٹ

Getty Images

ان کی جیل سے رہائی کو چھ سال ہو چکے ہیں۔ تیز رفتار ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ ایک بہت طویل عرصہ ہے۔

اس دوران اُن پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ کئی حکومتیں نظریات کے آزاد تبادلے کی روادار نہیں رہی ہیں اور ویب پر آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔ ساتھ ہی انٹرنیٹ کی دنیا پر کچھ خاص بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے غلبہ حاصل کر لیا ہے۔

درخشاں کہتے ہیں کہ ’سنہ 2014 میں ان کی رہائی کے بعد سے حالات اور بدتر ہو چکے ہیں۔ کورونا وائرس کے وبا کے بعد زندگی مزید ڈیجیٹل ہوگئی ہے۔ لہذا شفافیت، احتساب، جمہوریت اور سماجی انصاف کے لیے اس طرح کا غلبہ ایک ڈراونی بات ہے۔‘

گذشتہ ماہ ڈیجیٹل مارکیٹ میں مقابلہ پر تحقیق کرنے والی امریکی پارلیمان کی ایک کمیٹی بھی کچھ اسی طرح کے نتیجے پر پہنچی ہے۔

کمیٹی نے کہا ہے کہ ایمازون، ایپل، فیس بک اور گوگل جیسی امریکہ کی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنی اجارہ داری کی طاقت کا غلط استعمال کیا ہے جو کہ اوپن انٹرنیٹ کےاصولوں کے خلاف ہے۔

کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ ’حالیہ برسوں میں کمپنیوں نے متضاد طریقوں سے اپنی مارکیٹ کی طاقت کو بڑھایا ہے اور اس طاقت کا استحصال کیا ہے۔‘

کمیٹی نے متعلقہ اداروں سے یہ بھی سفارش کی کہ وہ مسابقت کی بحالی، جدت اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھائیں۔


انٹرنیٹ

Getty Images
65 فیصد نائجیرین، 61 فیصد انڈونیشین، 58 فیصد انڈین، 55 فیصد برازیلین اور پانچ فیصد امریکی شہری محض فیس بک کو ہی انٹرنیٹ سمجھتے ہیں

کوارٹز کی سنہ 2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق 65 فیصد نائجیرین، 61 فیصد انڈونیشین، 58 فیصد انڈین، 55 فیصد برازیلین اور پانچ فیصد امریکی شہری محض فیس بک کو ہی انٹرنیٹ سمجھتے ہیں۔

شاید ایسا ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے بنیادی واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے ہو سکتا ہے لیکن یہ رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ فیس بک اور ایمازون جیسے عام زندگی میں استعمال ہونے والے ویب پلیٹ فارم کو کس طرح سے تشکیل دیا گیا ہے۔

ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں اپنے نظام کو ایسے تشکیل دے رہی ہیں جو لوگوں کے انٹرنیٹ کے تجربے کو محدود کرتی ہیں۔ ان کے ڈیزائن صارفین کو اپنے کمپنی کی پراڈکٹس کو استعمال کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر جب آپ فیس بک پر کوئی بیرونی لنک کھولتے ہیں تو وہ آپ کو باہر کے انٹرنیٹ براوزر میں لے جانے کے بجائے ایپ کے اندر ہی پڑھنے یا دیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔

اوبامہ انتظامیہ میں وائٹ ہاؤس کے ٹیکنالوجی پالیسی کے مشیر دیپاین گھوش پوچھتے ہیں کہ ’ایسا کیوں ہے؟‘ ان کا کہنا ہے کہ ایسا اس لیے ہے ’تاکہ فیس بک آپ کے انٹرنیٹ کے استعمال پر زیادہ قابو رکھ سکے اور اس استعمال کو اپنے لیے زیادہ آمدنی میں تبدیل کر سکے۔‘

’صارفین کا کسی مخصوص ایپ سے باہر جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے کمپنی کو کسی صارف کی انٹرنیٹ پر سرگرمی کو ٹریک کرنے کا موقع کم ملے گا اور اس کا بھی امکان ہے کہ وہ اس ایپ پر واپس نہ آئیں، یا کمپنی کی حریف ایپ کو استعمال کرنے لگیں۔‘

انٹرنیٹ

Getty Images
جب آپ فیس بک پر کوئی بیرونی لنک کھولتے ہیں تو وہ آپ کو باہر کے انٹرنیٹ براوزر میں لے جانے کے بجائے ایپ کے اندر ہی پڑھنے یا دیکھنے کی ترغیب دیتا ہے

گھوش کا مزید کہنا ہے کہ ’کیا یہ اوپن انٹرنیٹ کے لیے نقصان دہ ہے؟ مجھے یقین ہے کہ یہ نقصان دہ ہے۔‘

گھوش نے بعد میں فیس بک میں پرائیویسی اور عوامی پالیسی کے مشیر کی حیثیت سے کام کیا اور سنہ 2016 میں امریکی انتخابات میں کمپنی کے قابل اعتراض کردار پر استعفی دے دیا تھا۔

فیس بک اور گوگل (جو پوری دنیا کی ڈیجیٹل اشتہاری مارکیٹ پر حاوی ہیں) نے بہت سے ممالک میں زیرو ریٹنگ نامی ایک سکیم چلائی ہے۔

زیرو ریٹنگ سکیم کے تحت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کو کمپنی منتخب کردہ خدمات کے عوض ڈیٹا فیس میں چھوٹ دیتی ہے۔ اس طرح کی سکیم صارف کی مرضی اور جدت پسندی کو محدود کر دیتی ہے۔

اس طرح کے سکیم ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے پلیٹ فارمز پر کیا، کسے اور کن شرائط پر آنے کا فیصلہ کرنے کی طاقت دیتی ہے جو کہ ممکنہ طور پر مخالف اور نئے آنے والے خیالات اور تصورات کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ایپل اپنے سافٹ ویئر پر مکمل اجارہ داری کی بدولت غیر معمولی منافع کماتا ہے۔ وہیں گوگل اپنے پلے سٹور پر ایپس سے ہر خرید فروخت کا 30 فیصد حصہ لیتا ہے۔

کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ’ڈیجیٹل مارکیٹ پر قابو پا کر یہ کمپنیاں ہماری پوری معیشت میں فاتح اور غیر فاتح افراد کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔

انھوں نے نہ صرف زبردست طاقت حاصل کر لی ہے بلکہ وہ اس طاقت کا غلط استعمال کر کے زبردستی فیس وصول کرتی ہیں، جابرانہ معاہدے کی شرائط عائد کرتی ہیں اور ان پر منحصر کاروباری اداروں سےجبراً قیمتی ڈیٹا لیتی ہیں۔‘

اس رپورٹ میں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں خاص طور پر ایمازون، ایپل، گوگل اور فیس بک کی کاروباری اخلاقیات کے بارے میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کس طرح سے ایمازون آن لائن مارکیٹ پر اپنا تسلط فروخت کرنے والوں کا استحصال کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے اور کس طرح سے گذشتہ برسوں میں قابل اعتراض اکویزیشن (دوسرےپلیٹ فارم کی خریداری) کی گئی ہے۔

وہیں ایپل نے اپنے ایپ سٹور کو مسابقتی طریقوں سے استعمال کیا ہے۔ دوسری جانب گوگل نے سرچ کے نتائج کو صارفین کے بہتری کے بجائے اپنی بہتری کے لیے استعمال کیا ہے اور ساتھ میں ’اپنے حریفوں کے آرگینک سرچ نتائج کو سرچ فہرست میں نیچے کیا ہے۔‘

فیس بک نے بھی قابل اعتراض ایکوزیشنز کی ہیں۔ رپورٹ فیس بک کی ایک اندرونی روداد بیان کرنے کے بعد واضح کرتی ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے ’یا تو ہر کوئی ان (فیس بک کی ایپس) کو استعمال کرے یا کوئی نہیں۔‘

درخشاں کے لیے موجودہ انٹرنیٹ ایک ٹی وی انٹرنیٹ کے مترادف ہے جس میں آپ کی مرضی بھی ایک الگورتھم پہ مبنی ہے۔


ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اوپن انٹرنیٹ کو کمزور ضرور کیا ہے لیکن موجودہ حکومتوں، خاص طور پر جو آمرانہ طرز حکومت پر یقین رکھتی ہیں، نے انٹرنیٹ پر قابو پانے کی کوشش میں کوی کثر نہیں چھوڑی ہے۔

مثال کے طور پر چین بہت سی بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اپنے ملک میں رسائی پر پابندی عائد کرتا ہے۔ وہ فیس بک، گوگل، ٹوئٹر اور ویکی پیڈیا جیسی سائٹوں پر پابندی عائد کرتا ہے اور اس کی جگہ مقامی متبادل سائٹس کو ترجیح دیتا ہے۔

روس نے بھی عالمی انٹرنیٹ کے مقامی متبادل کا تجربہ کیا ہے جس کے تحت روسی حکام فیصلہ کریں گے کہ ملک کے انٹرنیٹ میں وہ کس قسم کے ڈیٹا کو جگہ دیں گے۔

گھوش کہتے ہیں کہ ’اس طرح کے منتشر انٹرنیٹ کو کچھ لوگ ’اسپلنٹرنیٹ‘ کہتے ہیں اور یہ دنیا میں رائج مختلف قسم کے طرز حکمرانی کو بیان کرتا ہے۔’

انھوں نے مزید کہا کہ ‘اس قسم کی پابندی عالمی سطح پر تفریق کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ہم تیزی سے ایک امریکہ کے ارد گرد بننے والے جزیرے اور دوسرا چین کے آس پاس قائم ہونے والے جزیرے میں تقسیم ہو رہے ہیں۔‘

اوپن انٹرنیٹ کے اصول اور بھی کئی وجوہات کی بنا پر کمزور ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر انڈیا دوسری جمہوریتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ بند کرتا ہے (جسے انٹرنیٹ شٹ ڈاون کہتے ہیں)۔

سافٹ ویئر فریڈم لا سینٹر، جو کہ انٹرنیٹ بند ہونے کے واقعات پر نظر رکھتے ہیں، کے مطابق انڈیا نے 2019 میں ایک سو سے زائد مرتبہ انٹرنیٹ بند کیا۔ گذشتہ سال انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پانچ اگست کو آئینی ترمیم کے بعد 213 دنوں تک انٹرنیٹ بند رہا تھا۔

چین

AFP
چین بہت سی بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اپنے ملک میں رسائی پر پابندی عائد کرتا ہے

انڈیا ملک میں امن و امان کو برقرار رکھنے کی کوشش کو انٹرنیٹ پر پابندی کی وجہ قرار دیتا ہے۔ (محقق جان رڈزاک کی سٹڈی سے پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کی پابندی تشدد کو کم کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوتی ہیں۔)

ٹیکنالوجی پورٹل ’میڈیا نامہ‘ کے بانی نکھل پہوا کہتے ہیں کہ ’انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن آزادی کے ہمارے بنیادی حق کی معطلی ہے۔‘ پہوا فیس بک کی سنہ 2016 میں انڈیا میں صفر ریٹنگ کی سروس متعارف کروانے کی مخالفت کرنے والوں میں صف اول میں تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کواختیار ہے کہ وہ ایک مناسب مدت کے لیے بنیادی حقوق پر پابندی لگا کر شہریوں کی حفاظت کرے لیکن ’یہ صرف اس صورت میں ہونا چاہیے جب یہ بہت ضروری ہو، اور اسے عارضی طور پر ہی ہونا چاہیے۔‘

اس صورتحال میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا متعدد چینی ایپس پر انڈیا اور امریکہ کی حالیہ پابندی سے بھی اوپن انٹرنیٹ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے؟ گوش کہتے ہیں ’بظاہر، جی ہاں۔‘

اگرچہ پہوا اوپن انٹرنیٹ کے چیمپئین ہیں لیکن وہ چینی ایپ پر حالیہ پابندی کے مسئلے پر جمہوری اور آمرانہ ممالک کے درمیان فرق کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم جمہوری ممالک پر بھروسہ کر سکتے ہیں کیونکہ وہاں کی حکومتیں مطلق العنان نہیں ہوتیں۔ ہم چین جیسے ممالک پر اعتماد نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ ان کی حکومتوں کومکمل طاقت حاصل ہے۔‘

ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر اوپن انٹرنیٹ کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال نہیں کیا گیا اور اس کے اصولوں کا صحیح طریقے سے دفاع نہیں کیا گیا تو منفی خدشات اور بڑھ سکتے ہیں۔ خدشہ ہہ بھی ہے کہ یہ اپنی زوال کا سبب خود نہ بن جائے۔

اس کو انسانی تعلقات پر مبنی ایک بنیادی اصول سے ہی بچایا جا سکتا ہے اور وہ ہے اعتماد۔

پہوا کہتے ہیں کہ ’اگر ہم انٹرنیٹ کی اوپن نیس کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں اعتماد پیدا کرنا ہوگا، شہریوں اور حکومتوں کے درمیان، حکومتوں اور حکومتوں کے درمیاں اور ہر ایک شراکت دار کے درمیان۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16562 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp