وہ سیارہ جہاں پتھروں کی بارش ہوتی ہے اور لاوا کے سمندر بنتے ہیں

ایوا اونتیویروس - بی بی سی ورلڈ سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

A NASA model representation of planet K2-141b, bright red and yellow over the dark universe
NASA
کے 2۔141 بی نامی سیارے پر پتھروں کی بارش ہوتی ہے، لاوے کے سمندر ایک کلومیٹر گہرے ہیں اور ہوا وہاں آواز کی رفتار سے چار گنا تیز چلتی ہے۔

ماہر فلکیات ٹیو جیان نیوجن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ بہت دلچسپ سیارہ ہے جہاں انتہائی شدید موسم ہے، معدنیات کی بارش ہوتی ہے، برف پڑتی ہے اور آواز سے تیز ہوا چلتی ہے۔‘

ان کے ساتھی پروفیسر نکولاس کوون کہتے ہیں ’یہ رہنے کے لیے اچھی جگہ نہیں مگر اس کا مطالعہ کرنے میں بہت مزہ آتا ہے۔‘

کینیڈا اور انڈیا کے ماہرینِ فلکیات کی ایک ٹیم نے کے 2۔141 بی نامی اس سیارے کے بارے میں ایک نئی تحقیق شائع کی ہے۔ یہ ایک پتھریلا سیارہ ہے جو کہ ہماری زمین جیسا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بڑے سیارے کی دریافت پر ماہرین حیران

نظام شمسی میں نویں سیارے کے شواہد

اتنے بڑے بڑے سیارے وجود میں کیسے آجاتے ہیں؟

Aquarius constellation stars in outer space. The elements of this image have been provided by NASA.

Getty Images

’لاوا سیارے پر خوش آمدید‘

کے 2۔141 بی نامی سیارہ ہم سے 202 نوری سال دور ہے اور یہ اکیوریئس نامی کانسٹیلیشن میں موجود ہے۔

یہ تباہ کن سیارہ اس قدر تیزی سے اپنے سٹار یعنی جیسے سورج کے گرد گھومتا ہے کہ اس کا ایک سال سات گھنٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔

یہ سٹار ایک اورنج ڈوارف ہے یعنی سورج کے مقابلے میں اس پر درجہ حرارت کافی کم ہے اور یہ اس قدر مدہم ہے کہ اسے زمین سے دیکھا نہیں جا سکتا۔

کلکتہ میں انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کینیڈا میں یارک یونیورسٹی اور مکگل یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک لاوا سیارہ ہے۔

یہ ایک سپر ارتھ بھی ہے کیونکہ اگرچہ اس کا حجم ہماری زمین سے زیادہ بڑا نہیں ہے تاہم اس کا ماس ہماری زمین سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

اسی لیے اس سیارے کی کششِ ثقل زمین سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

اگرچہ کے 2۔141 بی 2018 میں دریافت کیا گیا تھا تاہم محققین اب جا کر اس کی خصوصیات کے بارے میں پتا چلا سکے ہیں۔

تو موسم کیسا ہے؟

The Erta Ale lava lake in Ethiopia, Africa

Getty Images

اگرچہ کے 2۔141 بی چند گھنٹوں میں ہی اپنے سٹار کے گرد گھوم لیتا ہے مگر زمین کی طرح اپنے مدار کے گرد نہیں گھومتا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سیارے کا وہ دو تہائی حصہ جو ہمیشہ اپنے سٹار کی سمت پر رہتا ہے وہاں ہمیشہ دن رہتا ہے اور وہاں درجہ حرارت 3000 ڈگری سنٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ جبکہ کچھ حصوں میں ہمیشہ رات رہتی ہے اور وہاں درجہ حرارت منفی 200 ڈگری تک گر جاتا ہے۔

اس قدر مختلف موسی حالات کی وجہ سے ماہرینِ فلکیات یہاں پر پتھریلی بارش کے بارے میں دعوی کرتے ہیں۔

ایک لمحے کو زمین پر پانی کے سائیکل کا سوچیں۔

زمین پر پانی بخارات بن کر فضا میں جاتا ہے جہاں اس کے بادل بن جاتے ہیں۔ بارش سے جھیلیں اور دریا دوبارہ بھرتے ہیں اور یہی عمل دہرایا جاتا ہے۔

کے 2۔141 بی پر بھی یہی ہوتا ہے مگر پتھروں کے ساتھ!

’عجیب اور دلچسپ‘

A stormy landscape

Inpho

محققین کا کہنا ہے کہ ’ہمیں یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ اس سیارے پر ہر چیز پتھر کی بنی ہوئی ہے۔ دن والے حصوں میں گرمی اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ پتھر بخارات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

یہ عجیب بات ہے مگر دلچسپ بھی ہے۔

مگر دوسری طرف سردی اس قدر زیادہ ہے کہ اس طرف فضا ہے ہی نہیں۔ اور ہر چیز جم کر ٹھوس بن جاتی ہے۔‘

محققین کا کہنا ہے کہ سیارے کی گرم اور ٹھنڈی اطراف کی وجہ سے اس سیارے پر آواز کی رفتار سے تیز چلنے والی ہوائیں بھی چلتی ہیں۔ اور کبھی کبھی وہ 5000 میل فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہیں۔

پروفیسر کوون کا کہنا ہے کہ یہ ہوائیں تیزی سے پتھر کے بخارات کو ٹھنڈی طرف لے جاتی ہیں اور پتھر کے قطرات بننے لگتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’آپ کے پاس پھر پتھروں کی بارش ہوتی ہے اور نیچے لاوا کا سمندر ہوتا ہے۔‘

A woman looking at the night sky with a telescope

Getty Images

یہ سب بہت دلچسپ ہے مگر اس سے ہمارا کیا تعلق؟

پروفیسر نیوجن کہتے ہیں کہ کے 2۔ 141 بی پر تحقیق کرنے سے ہم اپنی زمین کی ابتدا کے بارے میں جان سکتے ہیں۔

پروفیسر کوون کہتے ہیں ’لاوا سیارے ہمیں سیاراتی ارتقا کی اہم سٹیج کے بارے میں بتاتے ہیں۔ زمین سمیت تمام پتھریلے سیارے پگھلنے والی دنیا کے طور پر شروع ہوئے تھے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16605 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp