پی ایس ایل فائیو: کیا ڈیرن سیمی کی دل گرفتگی زلمی کو لے ڈوبی؟

سمیع چوہدری - کرکٹ تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

منزل پہ نہ پہنچ پانا یا ہدف کو حاصل نہ کر سکنا کوئی ایسی انہونی بات نہیں۔ یہ کھیل کا حصہ ہے۔ مگر بیچ سفر کاررواں کا اپنی قیادت پہ اعتماد کھو بیٹھنا کسی بھی زاویے سے مثبت اور قابلِ قبول بات نہیں ہے۔

سنہ 2003 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کی ٹیم غالباً تاریخ کی بہترین ٹیموں میں سے ایک تھی مگر اچانک قیادت کی تبدیلی نے اسے ایسی گزند پہنچائی کہ لیجنڈز کا ایک جتھہ نہ صرف اپنا اعتماد کھو بیٹھا بلکہ ساری ٹیم ہی بکھر کر رہ گئی۔

پشاور زلمی کے معاملات فی الوقت اُس نہج تک تو نہیں پہنچے مگر ہفتے کی شب پاکستان سپر لیگ فائیو کے الیمینیٹر نے یہ واضح کر دیا کہ قیادت کا بحران اس ڈریسنگ روم میں پنپ رہا ہے۔

ڈیرن سیمی کے ہوتے ہوئے جو ممکنات کا انبار دکھائی دیتا تھا، کل شب وہ یکسر معدوم نظر آیا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

ڈیرن سیمی پشاور زلمی کے کپتان مقرر

کراچی میں کھیلنے پر خوش ہوں: ڈیرن سیمی

’یہ جیت میرے کریئر کا ایک اہم مقام ہے‘

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ڈیرن سیمی یہ سیزن بطور کپتان مکمل کرنا چاہتے تھے مگر فرنچائز انتظامیہ ان کے خیالات سے متفق نہیں تھی اور بیچ سفر کاررواں کو اپنے لیے نیا قائد ڈھونڈنا پڑ گیا۔

سیمی دل گرفتہ بھی تھے اور یہ ان کی ٹویٹس میں بھی جھلکتا رہا۔

مگر پھر وہی بات کہ جو کارپوریٹ کلچر کا خاصہ ہے، دو روز بعد ڈیرن سیمی سفارتی اندازِ بیاں اپناتے ہوئے اپنے نئے کردار میں ڈھلنے کا عزم کرتے پائے گئے اور اپنی ٹیم کو نئی بلندیوں کی راہ دکھانے کے ارادوں سے معمور پائے گئے۔

مگر قیادت ایک ایسا منصب ہے کہ جس کے لیے کوئی راتوں رات تیار نہیں ہو جاتا۔ یہ صلاحیتیں عموماً فطری طور پہ موجود ہوتی ہیں اور جس میں ان صلاحیتوں کا فقدان ہو، اس کے لیے مواقع کی بہتات بھی کچھ نہیں کر پاتی۔

حالیہ وقتوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے بھی کچھ ایسی ہی سوچ اپنا کر ٹیسٹ ٹیم کی باگ ڈور اظہر علی کو تھما دی کہ بھئی جب کھیلتا رہے گا تو سیکھ بھی جائے گا۔

لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ایسا ہو نہیں سکتا اور بالآخر بورڈ کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی پڑ گئ۔

بعینہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے جب مصباح کی خدمات مزید حاصل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو قیادت کا ایسا بحران پیدا ہو گیا کہ انتظامیہ نے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں اور جب کوئی سجھائی نہ دیا تو قیادت کا تاج محمد سمیع کے سر پہ رکھ دیا۔ اور بالآخر وہ اسلام آباد کا نہایت برا سیزن ثابت ہوا۔

اس بار یونائیٹڈ نے کپتانی کی ذمہ داری شاداب خان کو دے دی کہ ہو جائے گا کچھ نہ کچھ، لیکن شاداب کے آنے اور سمیع کے چلے جانے سے بھی نتیجے پہ کوئی فرق نہ پڑ سکا۔

زلمی پی ایس ایل کی مضبوط ترین ٹیموں میں سے ایک ہے۔ اس نے سب سے زیادہ بار فائنل تک پہنچنے کا ریکارڈ بنا رکھا ہے اور بعید نہیں کہ اس بار بھی یہ فائنل تک رسائی حاصل کر لیتی مگر قیادت کا بحران آڑے آ گیا۔

زلمی کے بلے بازوں نے جو مجموعہ ترتیب دیا تھا، وہ اس وکٹ اور ان کنڈیشنز کے لحاظ سے ایک مسابقتی سکور تھا۔

اگر زلمی بولنگ بھی ویسی ہی کرتی تو شاید لاہور پہلی بار ٹائٹل کے اتنے قریب نہ پہنچ سکتا۔

لیکن جب محمد حفیظ جیسا جہاندیدہ اور گھاگ کھلاڑی کریز پر موجود ہو تو بولنگ کپتان کو اپنی بہترین ذہانت کا اظہار کرنا چاہیے اور کوئی ایسی غیر متوقع منصوبہ سازی لے کر آنا چاہیے جو بیٹنگ ٹیم کے تخمینوں پہ سوالیہ نشان اٹھا سکے۔

مگر ویاب ریاض کچھ ایسا نہ کر پائے۔

ان کے بولنگ کارڈ کو ہی دیکھ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ حفیظ ان کے سبھی منصوبوں سے ایک انچ آگے چلتے رہے اور وہاب ریاض کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔

یہ یقینی نہیں ہے کہ زلمی اگلے سیزن میں بھی وہاب ریاض کو ہی کپتان برقرار رکھے گی۔ لیکن یہ تقریباً طے ہے کہ ڈیرن سیمی اس فرنچائز کے ساتھ مزید کچھ سال وابستہ رہیں گے اور امید ہے کہ اگلے سیزن میں زلمی بہتر فیصلے کرتی دکھائی دے گی۔

مگر اگلا سیزن جب آئے گا، تب آئے گا۔ فی الحال تو یہی گمان ہوتا ہے کہ سیمی کی دل گرفتگی ہی زلمی کو لے ڈوبی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16598 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp