راولپنڈی: تحریک لبیک کے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احتجاج
AFP
وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی میں مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لبیک کے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان ’جھڑپیں‘ جاری ہیں۔

اس جماعت کے مظاہرین فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف مظاہرہ کر ر ہے ہیں اور تحریک لبیک کے ایک ترجمان کے مطابق ان کی جماعت کی طرف سے ان خاکوں کے خلاف پرامن ریلی کا اہتمام کیا گیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ اس ریلی کی قیادت علامہ خادم حسین رضوی کر رہے ہیں اور منصوبے کے مطابق اس ریلی نے راولپنڈی میں واقع لیاقت باغ سے فیض آباد تک جانا تھا۔

لیکن ان کے بقول پولیس نے پرامن مظاہرین کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی جس پر کارکنوں نے احتجاج کیا تو پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

خادم حسین رضوی کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟

خادم حسین رضوی، افضل قادری کی ضمانت منظور

خادم رضوی کے بھائی سمیت لبیک کے کارکنوں کو سزائیں

2017: مذہبی جماعتوں کی مقبولیت کا سال

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ان مظاہرین نے ناصرف لیاقت روڑ پر واقع دوکانوں کی توڑ پھوڑ کی بلکہ وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ بھی کیا جس کے جواب میں پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

خادم حسین رضوی

AFP

راولپنڈی پولیس کی سپیشل برانچ کے ایک اہلکار کے مطابق اس وقت لیاقت باغ اور اس کے قریبی علاقوں میں مظاہرین کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ابھی بہت سے مزید مظاہرین اس احتجاجی ریلی میں شرکت کے لیے آرہے ہیں۔

اہکار کے مطابق صورت حال کو دیکھتے ہوئے اضافی نفری طلب کرنے سے متعلق پولیس کے اعلی حکام سے کہا گیا ہے۔

اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ پولیس کے علاوہ رینجرز کے اہلکاروں کو بھی پولیس کی مدد کے لیے طلب کیا گیا تھا جنھیں حساس مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔

حکومت نے اس احتجاجی ریلی کے پیش نظر راولپنڈی اور اسلام آباد کے محتلف علاقوں میں موبائیل سروس آج صبح سے بند کر رکھی ہے جبکہ راولپنڈی کی انتظامیہ نے لیاقت باغ سے فیض آباد کی طرف جانے والی مری روڑ کو مختلف جگہوں سے کنٹینرز لگا کر بند کردیا ہے۔

اس ریلی کی کوریج کے لیے آئے ہوئے مقامی صحافی بابر ملک کا کہنا ہے کہ جونہی وہ حالات کا جائزہ لینے کے باہر نکلے تو وہاں پر موجود تحریک لبیک کے کارکنوں نے اُنھیں پکڑ لیا اور ان سے موبائل بھی چھین لیا۔

بابر ملک کے بقول ان مظاہرین نے ان کا موبائل پر بیان ریکارڈ کیا اور کہا کہ وہ شہر کی صورت حال کے بارے میں بتائیں اور اگر ان کی ایک بات بھی غلط ثابت ہوئی تو اُنھیں جسمانی طورپر نقصان پہنچایا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ جب وہ بیان ریکارڈ کروا رہے تھے تو ان کے پیچھے تحریک لبیک کے کارکن ڈنڈے لیکر کھڑے تھے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کے مطابق تحریک لبیک کی یہ ریلی پلان کے مطابق فیض آباد پہنچ کر اختتام پذیر ہوگی لیکن صورت حال کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد میں حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ راولپنڈی سے اسلام آباد آنے والے راستوں پر سکیورٹی سخت کی گئی ہے جبکہ کچھ مقامات سے اسلام آباد ہائی وے کو بند کیا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا ہے اور خاص طور پر ڈپلومیٹک انکلیو کی طرف جانے والے راستے سیل کردیے گئے ہیں۔ اُنھوں نےبتایا کہ اس علاقے میں پولیس کے علاوہ رینجرز کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔

دوسری جانب دارالحکومت کے حالات اور سڑکوں کی بندش کے سبب وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کی جانب سے غیر ملکی صحافیوں کو انڈیا کے پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے متعلق، پریس بریفنگ بھی پیر تک معطل کر دی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16633 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp