کورونا کی وباء کے دوران خواتین سٹاک مارکیٹ میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہی ہیں؟

ندھی رائے - بی بی سی نامہ نگار، ممبئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سکینہ گاندھی
BBC
سکینہ گاندھی نے لاک ڈاؤن کے دوران حصص بازار میں سرمایہ کاری شروع کی
سکینہ کا کہنا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران گھر پر ہی رہتی تھیں اور ان کے پاس وقت کافی تھا۔ اس دوران وہ سٹاک مارکیٹ یا حصص بازار پر نظر رکھتی تھی۔ وہ اس شعبے کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر کے ایک سوچا سمجھا فیصلہ کرنا چاہتی تھیں

’شروع کے 15 دنوں میں، میں نے حصص بازار کو صحیح سے سمجھا، بعض شیئرز کی ایک فہرست تیار کی اور اس بات کا جائزہ لیا کہ ہر روز ان شیئرز میں کس طرح کی تبدیلی یا اتار چڑھاو آرہا ہے۔ اپنے ساتھ کام کرنے والے لوگوں سے صلاح و مشورہ کرنے کے بعد میں نے وہ شیئر خرید لیے۔‘

سکینہ گاندھی نے میوچوئل فنڈز میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔

سٹاک مارکیٹ یا حصص بازار میں ان کی دلچسپی اس وقت بڑھی جب کورونا کی وباء کے شروع کے دنوں میں حصص بازار میں زبردست مندی آئی تھی۔

پبلک ریلیشن یا عوامی روابط کے شعبے میں کام کرنے والی 31 سالہ سکینہ گاندھی آج کل کافی مصروف ہیں۔ حال میں انہوں نے حصص بازار میں دلچسپی لینا شروع کی ہے اور سرمایہ کاری بھی کی ہے جس کی لیے وہ مسلسل کام کرنا چاہتی ہیں۔

سکینہ کو یہ ایک بے حد فائدہ مند متبادل نظر آیا اور انہوں نے فوراً اپنا ‘ڈی میٹ اکاؤنٹ’ کھول لیا۔ حصص بازار میں سرمایہ کاری کر کے وہ اضافی کمائی کرنا چاہتی تھی۔

سکینہ بتاتی ہیں، ’یہ میری کمائی ہے، میرا پیسہ ہے۔ اس میں میرے خاوند یا کیا کسی دیگر شخص کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس لیے میں نے سوچا کیوں نہ یا کام کیا جائے، تھوڑا رسک یا خطرہ مول لیا جائے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘

سکینہ بتاتی ہیں کہ وہ روزانہ اخبار کا مطالعہ کرتی تھیں اور انہوں نے اپنے فون میں کمپنیوں اور حصص بازار سے متعلق خبروں کے لیے گوگل الرٹ بھی لگایا ہوا تھا۔

بمبئی سٹاک ایکسچینج

EPA
کورونا کی وباء کے شروع کے دنوں میں سٹاک مارکیٹ میں زبردست مندی دیکھی گئی تھی۔

پہلی بار سرمایہ کاری

حصص بازار میں سرمایہ کاری کرنے والی سکینہ گاندھی واحد خاتون نہیں ہیں۔

کورونا کی وباء نے متعدد کاروباروں کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ابھی ان کاروباروں کو دوبارہ پٹری پر لانے میں وقت لگے گا۔

لیکن کورونا کی وباء سے سٹاک مارکیٹ پر خاص اثر نہیں پڑا ہے۔ وباء کے آغاز میں اس میں زبردست مندی آئی تھی لیکن بعد میں اس میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو فائدہ ہی فائدہ ہوتا نظر آیا ہے۔

متعدد انڈین شہری جو حصص بازار سے دور ہی رہتے تھے اور اسے آمدنی کا بہت مستحکم ذریعہ نہیں سمجھتے تھے اب وہ بھی اس میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

36 برس کی رتیکا شاہ بھی ایسی خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران حصص بازار میں سرمایہ کاری کرنی شروع کی ہے۔ رتیکا بھی پبلک ریلیشن کے شعبے سے وابسطہ ہیں۔

رتیکا نے بی بی سی کو بتایا ’میرے خاندان میں لوگ حصص بازار میں سرمایہ کاری کرتے رہتے ہیں اور اب میں بھی یہ کام کرنا چاہتی تھی لیکن صحیح وقت کی منتظر تھی۔ وباء کے دوران مجھے اتنا وقت ملا کہ میں اپنی مالی صورتحال سے متعلق منصوبہ بندی کر سکوں۔ لاک ڈاؤن کے دوران مجھے اس کے بارے میں ریسرچ اور مزید معلومات حاصل کرنے کا وقت ملا۔‘

ان کا مزید کہنا ہے ’اس سے آپ کو ٹیکس بچانے میں مدد ملتی ہے۔ میں ہر مہینے 50 ہزار روپے انویسٹ کرتی ہوں اور اب میں اس رقم کو بڑھا کر 60 ہزار کرنا چاہتی ہوں۔‘

رتیکا شاہ

BBC
رتیکا شاہ نے پہلی بار حصص بازار میں سرمایہ کاری کرنی شروع کی ہے۔

حصص بازار میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ

سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا یعنی سیبی کے تازہ اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ برس کی بہ نسبت اس وقت حصص بازار میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں 54 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سیبی کے صدر اجے تیاگی نے میڈیا کو دیے ایک بیان میں کہا ہے ’ سنہ 2020 میں اپریل اور ستمبر کے درمیان 63 لاکھ نئے ڈی میٹ اکاؤنٹ کھولے گئے ہیں۔ جبکہ گزشتہ برس اتنے عرصے کے دوران تقریبا ساڑھے 27 لاکھ اکاؤنٹ کھولے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈی میٹ اکاؤنٹس میں 130 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔`

انڈیا کی سب سے ٹرینڈنگ یا مقبول اکاؤنٹ ڈپوزٹری سینٹرل ڈپوزٹری سروسز لمیٹیڈ (سی ڈی ایس ایل) کے مطابق سنہ 2020 کے شروع کے نو مہینوں میں 50 لاکھ نئے ڈی میٹ اکاؤنٹ کھولے گئے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ پانچ برس میں کھولے گئے کل کھاتوں کا نصف ہے۔ ڈی میٹ اکاؤنٹ شيئرز کا خرید و فروخت کا ریکارڈ رکھتا ہے اور جو بھی شخص سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے اس کے لیے ڈی میٹ اکاؤنٹ کھولنا ضروری ہوتا ہے۔

جرودھا جیسی بروکنگ کمپنیوں نے سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ درج کیا ہے۔ ان سرمایہ کاروں نے ڈی میٹ کھاتوں کے ذریعے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے کمپنی کی ویب سائٹ کا استعمال کرنا شروع کیا ہے۔

جردوھا کے شریک بانی اور سی ای او نکھل کامتھ کہتے ہیں، ’اس مارچ سے ہر مہینے کھلنے والے ڈی میٹ کھاتوں میں اوسطا 100 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اور اس کی ایک بڑی اور اہم وجہ کورونا وائرس کی وباء ہے۔`

جردوھا کے پاس 30 لاکھ سرکردہ یا ایکٹو سرمایہ کار ہیں ان میں سے 10 لاکھ وہ ہیں جنہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران پہلی بار سرمایہ کاری شروع کی ہے۔

خاتون

Getty Images
جردوھا کمپنی کے پاس 30 لاکھ سرکردہ یا ایکٹو سرمایہ کار ہیں ان میں سے 10 لاکھ وہ ہیں جنہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران پہلی بار سرمایہ کاری شروع کی ہے

لاک ڈاؤن اور ورک فرام ہوم کا کمال

ماہرین کا خیال ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کو اتنا وقت مل سکا ہے کہ وہ حصص بازار کے بارے میں سوچیں یا اس پر نظر ڈالیں۔ اس سے قبل روز مرہ کی مصروفیات کی وجہ سے ایسا نہیں کر پاتے تھے۔

متعدد افراد جن کی اس میں دلچسپی تھی وہ بھی دفتر کے اوقعات کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ پر دھیان نہیں دے پاتے تھے۔

نکھل کامتھ کہتے ہیں ’بازار میں موجود بڑے سرمائے والی کمپنیوں کی جانب سے دی جانے والی بھاری رعایت، سود کی شرح میں کمی، گزشتہ ایک دہائی سے ریل اسٹیٹ میں کسی بڑے اتار چڑھاؤ کی کمی، لاک ڈاؤن اور ورک فرام ہوم بعض ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے لوگوں نے حصص بازار کی طرف توجہ دی ہے۔`

یہ بھی پڑھیے:

سٹاک ایکسچینج

AFP

بعض دیگر وجوہات

انڈیا میں بے حد سستے موبائل فون اور اس سے بھی زیادہ سستے انٹرنیٹ کنکشن، خاص طور سے سستے ڈیٹا نے حصص بازار میں لوگوں کی دلچسپی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے . متعدد ایسی بروکنگ کمپنیاں ہیں جو سرمایہ کاروں سے بروکنگ فیس بھی نہیں لے رہی ہے جس سے زیادہ آسانی سے سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔

بعض ایسی بروکنگ کمپنیاں بھی ہيں جنھوں نے سرمایہ کاروں کو سٹاک مارکیٹ کے بارے میں معلومات دینے، سرمایہ کاری کا صحیح طریفہ اور اس سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنے کا کام شروع کیا ہے۔

مثال کے طور پر جرودھا نے اپنے سرمایہ کاروں کو حصص بازار سے متعلق ٹیوشن دینا شروع کیا ہے جس سے کمپنی کی ویب سائٹ کی مقبولیت میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سیبی نے ڈی میٹ کھاتے کھولنے کا عمل بے حد آسان کر دیا ہے۔

الیکٹرونک طریقے سے نو یور کسٹومر ( کے وئی سی) کے ذریعے سرمایہ کار چند منٹ میں اپنا ڈی میٹ اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں۔

موبائل دیکھتی ایک خاتون

Getty Images
انڈیا میں بے حد سستے موبائل فون اور اس سے بھی زیادہ سستے انٹرنٹ کنکشن، خاص طور سے ڈیٹا نے حصص بازار میں لوگوں کی دلچسپی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے

خواتین کی شرکت

جرودھا کمپنی کے اعدادوشمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد آن لائن ٹریڈنگ میں دلچسپی لے رہی ہے۔

نکھل کامتھ کہتے ہیں، ’انڈیا میں کورونا وائرس کی وباء پھیلنے کے بعد جرودھا کے 15 لاکھ نئے کلائنٹ یا صارفین بنے ہیں جن میں سے 35 ہزار خواتین ہیں۔‘

جرودھا کے پاس فی الوقت 60 ہزار خواتین سرمایہ کار ہیں جن کی اوسط عمر 33 برس کے قریب ہے۔

ایسی ہی ایک کمپنی ‘فائرس’ ہے جس کا بھی یہی کہنا ہے کہ وباء کے دور سے پہلے کے مقابلے میں اب اس کے پاس خواتین ٹریڈرز اور سرمایہ کاروں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

فائرس کے شریک بانی اور سی ای او تیجس کھوڑے نے بی بی سی کو بتایا ” خواتین ٹریڈنگ یا تجارت کرنے سے زیادہ سرمایہ کاری کو ترجیج دیتی ہیں۔ انڈیا میں ایک طویل وقت سے خواتین سونا خرید کر اپنی رقم محفوظ کرتی ہیں یا یہ کہیں گولڈ میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ یا پھر فکس ڈپوزٹ کرتی ہیں لیکن کورونا کی وباء کے دوران انہوں نے سٹاک مارکیٹ میں انویسٹ کرنا شروع کیا ہے۔`

موبائل دیکھتے لوگ

Getty Images

نوجوان سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ

ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ آن لائن ٹریڈنگ میں نوجوان زیادہ آگے آ رہے ہیں۔

جرودھا کمپنی کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے اب یعنی کورونا کی وباء میں نوجوان سرمایہ کاروں کے تعداد میں 69 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ایک دیگر آن لان بروکنگ پلیٹ فارم ‘اپسٹاکس’ کے صارفین کی اوسط عمر اس برس اپریل سے اگست کے درمیان 29 برس رہی ہے۔ اس سے قبل صارفین کے اوسط عمر 31 برس تھی۔

فائرس کے بھی 50 فی صد سرمایہ کار نوجوان ہیں۔ تیجس کھوڑے کہتے ہیں، ’گزشتہ کچھ مہینوں سے جب سے کم عمر کے لوگ سٹاک مارکیٹ میں اترے ہیں تب سے موبائیل ٹریڈنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ پہلی بار ہم ایسی نسل کو دیکھ رہے ہیں جو سٹاک مارکیٹ کی تجارت سے متعلق ہدایات کو ماننے کے بجائے بازار میں کام کرنے کے طریقوں پر زیادہ دھیان دے رہی ہے۔`

سٹاک مارکیٹ

AFP

سرمایہ کاروں کے لیے بعض اہم ٹپس یا مشورے

حصص بازار ہمیشہ سے ایک بے حد پرکشش شعبہ رہا ہے اور آگے بھی رہے گا۔ لیکن اس شعبے میں قدم رکھنے سے پہلے ماہرین بعض مشورے دینا چاہتے ہیں جس سے سرمایہ کاروں کو صحیح فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی۔

اسوسی ایشن آف میوچوئل فنڈز آف انڈیا (اے ایم ایف آئی) کے صدر نیلیش شاہ کہتے ہیں کسی بھی کمپنی کے شیئرز میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے سرمایہ کاروں کو کمپنی کی بیلنس شیٹ دیکھنی چاہیے۔ انہیں اس بات پر دھیان دینا چاہیے کہ کمپنی کسی مشکل کی گھڑی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ نیلیش شاہ گزشتہ 25 برس سے حصص بازار پر نظر رکھ رہے ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں ’ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ آنے والا وقت مشکل ہوگا۔ اس لیے سرمایہ کاروں کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ جس کمپنی میں رقم لگا رہے ہیں وہ معاشی طور پر کتنی مضبوط ہے۔`

ان کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کمپنی کتنی ڈیجیٹل ہے اور وہ نئی تکنیکی تبدیلوں کو کتنی جلدی اور با آسانی قبول کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16555 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp