ٹیکنیکل ایجوکیشن: پاکستان میں ہنر سیکھنے والے ڈپلومہ ہولڈرز کو ڈگری یافتہ افراد جیسا مقام کیوں نہیں دیا جاتا؟

محمد صہیب - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’ڈاکٹر صاحب جس خوبصورت ہسپتال میں آپ دل کا بائی پاس کرتے ہیں اس کے باہر جو ویلڈر بیٹھا ہے وہ بھی ٹانکا لگاتا ہے اور آپ بھی۔ آپ دونوں برابر ہیں کیونکہ اگر آپ کے ہاتھ میں اس کی ویلڈنگ گن تھمائی جائے تو وہی ٹانکا آپ نہیں لگا سکیں گے۔‘

یہ مکالمہ ایک ڈاکٹر اور معروف دانشور و لکھاری اشفاق احمد کے درمیان ہوا تھا جس کا ذکر انھوں نے اپنے ٹی وی پروگرام ’زاویہ‘ میں کیا تھا۔

اس بحث کا مقصد ملک میں اس ’طبقاتی خلیج‘ کو اُجاگر کرنا تھا اور یہ سمجھانا تھا کہ معاشرے میں صاحبانِ علم صرف بڑی ڈگری حاصل کرنے والے افراد ہی کیوں کہلائے جاتے ہیں۔

جہلم سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ حماد طلعت بٹ کے گھر میں بھی آج کل کچھ ایسی ہی بحث جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شاہد جوئیہ: ’ایک ہزار میں کاروبار کروانے والے یوٹیوبر‘

پاکستانی نوجوان کے لیے ’اپنا کاروبار‘ کرنا کتنا مشکل ہے؟

سائیکل پر 43 ممالک گھومنے والے لیہ کے کامران علی کی کہانی

ایک ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پانے والے نابینا ڈاکیا

حماد نے اپنے مرحوم والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے میٹرک کے بعد مکینیکل انجینیئرنگ کا تین سالہ ڈپلومہ (ڈی اے ای) کیا اور اب وہ ایک نجی کمپنی میں ملازمت کر رہے ہیں۔

تاہم حماد کے بڑے بھائی سعد ان کی اس تعلیم کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔

سعد نے خود بی بی اے کر رکھا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ’یہ کچھ بھی کر لے، کام تو کسی انجینیئر کے ماتحت ہی کرے گا اور اس کے پاس مستقبل میں آگے بڑھنے کے مواقع نہیں رہیں گے۔‘

حماد نے اپنی تین سالہ تعلیم ایک سرکاری کالج سے حاصل کی اور یہاں انھوں نے فیس کی مد میں کل 50 ہزار روپے ادا کیے اور اب وہ اپنی پہلی نوکری سے ماہانہ 18 ہزار روپے کما رہے ہیں۔

میٹرک میں اُن کے ساتھی طلبا میں سے کچھ اپنی یونیورسٹی کے پہلے سال میں ہیں اور فیس کی مد میں لاکھوں روپے ادا کر رہے ہیں۔ حماد مستقبل میں اپنا کاروبار کرنے کی بھی سوچ رکھتے ہیں، مزید پڑھنا بھی چاہتے ہیں اور نوکری تو ہے ہی۔

تو پھر حماد کے بھائی پریشان کیوں ہیں؟ کیا وہ معاشرے میں ہنرمند افراد یا ’بلیو کالر‘ نوکری کرنے والوں سے منسلک ایک مخصوص سوچ سے خائف ہیں؟

پاکستان میں ’بلیو کالر‘ نوکری اور ووکیشنل ٹریننگ کو وہ مقام حاصل کیوں نہیں ہے جو ’وائٹ کالر‘ نوکریوں اور یونیورسٹیز اور کالجوں کے ذریعے ڈگریاں حاصل کرنے والوں کو ہے؟

یہ سوال ہم نے پاکستان کے مختلف سرکاری و نجی ووکیشنل ٹریننگ سکولز سے ہنر سیکھنے والوں، اس موضوع پر تحقیق کرنے والی ایک پاکستانی محقق سمیت یوٹیوب پر کاروباری مشورے دینے والے خانیوال کے مقبول ولاگر شاہد حسین جوئیہ کے سامنے رکھا۔

لیکن اس سوال کا جواب دینے سے پہلے اسما خلیل اور حسن علی کی کہانی بتانا انتہائی اہم ہے۔

’صرف ڈگری ہوتی تو مجھے نوکری نہ ملتی‘

سنہ 2012 میں جب بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تو وفات پانے والوں میں کراچی سے تعلق رکھنے والی اسما کے والد بھی شامل تھے۔ اسما ان دنوں اپنی گریجوئیشن کر رہی تھیں لیکن یہاں انھیں اچانک سے اپنے مستقبل کے بارے میں از سرِ نو سوچنا پڑا۔

تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ ہی انھیں اب اپنے خاندان کی مالی معاونت بھی کرنا تھی۔ ایسے میں انھیں حکومت کی جانب سے ایک ووکیشنل کورس آفر ہوا۔

اسما نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ ہی کراچی کے بفر زون میں خواتین کے لیے مخصوص ووکیشنکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ سے آفس مینیجمنٹ کا کورس مکمل کیا۔

اسما اب ان کورسز کو اپنے کریئر کے لیے ’انتہائی اہم‘ قرار دیتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ ’اس مشکل وقت کے دوران شاید صرف بی کام کی ڈگری کے باعث مجھے نوکری نہ ملتی۔‘

اسما آج پاکستان کے ایک نجی بینک میں کسٹمر کیئر ڈیپارٹمنٹ میں نوکری کر رہی ہیں اور آئندہ اپنی بہن، جنھوں نے بیوٹیشن کا کورس کر رکھا ہے، کے ساتھ مل کر بیوٹی پارلر بھی کھولنا چاہتی ہیں۔

حسن علی

BBC

’ہاتھ پاؤں سلامت ہیں تو ہنر کو کوئی مات نہیں دے سکتا

اب آتے ہیں حسن علی کی کہانی کی طرف۔

حسن کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے ان سے ملاقات کے بعد آپ یہ نہیں جان پائیں گے کہ ان کی عمر محض 26 سال ہے اور وہ تقریباً 14 برس سے بطور الیکٹریشن کام کر رہے ہیں۔ آج ان کی اپنی دکان ہے اور وہ کمرشل سطح پر بھی کام جانتے ہیں اور گھریلو سطح پر بھی۔

حسن خاصے بے باک بھی ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ پڑھائی کرنے کی جانب ان کا کبھی ذہن تھا ہی نہیں۔ انھوں نے پانچویں جماعت میں پڑھائی چھوڑی، الیکٹریشن کا کام سیکھنا شروع کیا اور پھر اسی دوران انھیں دوستوں نے میٹرک کرنے کا مشورہ دیا۔

میٹرک کرنے کے بعد حسن نے سرکاری ادرے نیوٹیک اور ایک نجی ادارے سے کورسز کیے اور اپنے ہنر میں مزید مہارت حاصل کی۔

حسن بتاتے ہیں کہ اس تعلیم کے ذریعے مجھے اپنا کاروبار کھولنے کا بھی خیال آیا اور معاشرے میں لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا بھی اندازہ ہوا۔

اس دوران انھیں اس معاشرتی فرق کے باعث باتیں بھی سننے کو ملیں۔ حسن کہتے ہیں کہ 100 میں سے 80 فیصد لوگ آپ کو یہی کہتے ہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے، چاہے آپ میٹرک ہوں یا انجینیئر۔

’لوگوں نے باتیں بھی سنائیں ہیں اور کم تر بھی محسوس کروایا، معاشرے میں تو بہت لوگ انگلیاں اٹھاتے ہیں لیکن آپ انھیں کاٹ نہیں سکتے۔ بس یہ یقین تھا کہ جب تک ہاتھ پاؤں سلامت ہیں تو ہنر کو کوئی مات نہیں دے سکتا۔‘

’اگر میں ان لوگوں کی باتوں میں آ جاتا تو میں نشے کی لت میں مبتلا ہوتا، اور لوگوں سے ادھار مانگ رہا ہوتا۔‘

حسن جو تین برس سے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں کہتے ہیں کہ ہم کلاس کی آخری سیٹوں پر بیٹھنے والے وہ طالب علم ہیں جو 100 میں سے صرف 33 نمبر حاصل کرتا ہے لیکن کام کے معاملے میں وہ سب سے آگے ہوتا ہے۔

’ایک انجینیئر کو تھیوری تو آتی ہے لیکن پریکیٹیکل کے لیے وہ ہمیشہ ایک سب انجینیئر کی طرف ہی دیکھتا ہے لیکن اسے تخواہ ہم سے زیادہ دی جائے گی، صرف اس لیے کہ اس نے 99 نمبر حاصل کیے تھے، یا وہ ایک کھاتے پیتے گھرانے سے ہے۔‘

’ہنر مند افراد کو کیش ہر کوئی کرتا ہے لیکن انھیں کیش دیتا کوئی نہیں‘

ولاگار اور کاروباری مشورے دینے والے شاہد جوئیہ ہاتھ میں ہنر ہونے کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں لیکن پاکستان میں بلیو کالر نوکری کی قدر نہ ہونے کی بات بھی کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہنرمند افراد کو آگے بڑھنے کے لیے اور اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے سرکاری سطح پر کوئی معاونت نہیں کی جاتی۔

’جس کے پاس کوئی ہنر ہے وہ بہت جلدی کسی نہ کسی طرح اپنی زندگی کا پہیہ رواں رکھ سکتا ہے، لیکن ڈگری حاصل کرنے والے کے پاس یہ آسائش نہیں ہوتی۔‘

وہ اس بات کو پنجابی کی ایک کہاوت سے سمجھاتے ہیں جس کا اردو ترجمہ ہے کہ ’لاہور کا راستہ سارے بتاتے ہیں لیکن کرایہ کوئی نہیں دیتا۔‘ وہ اس بات پر اس لیے بھی زور دے رہے ہیں کیونکہ کالج یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو کسی نہ کسی حیثیت میں یہ چیزیں میسر آ جاتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ بلیو کالر نوکری کرنے والے جلد زیادہ پیسہ کمانے کے لیے بیرونِ ملک نوکری کرنے کو ترجیح بھی اسی لیے دیتا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر آپ ایک چھت کے نیچے ان افراد کو یہ بھی بتا دیں گے کہ کاروبار رجسٹر کہاں سے کروانا ہے، اس کے لیے فنڈ کہاں سے مل سکتے ہیں اور اس کا ڈھانچہ کھڑا کرنے کے لیے کیا کچھ درکار ہو گا تو پھر کوئی بیرونِ ملک کیوں جائے گا۔

وہ معاشرے میں طبقاتی فرق اور بلیو کالر نوکری سے منسلک ایک منفی سوچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہاں ہنرمند لوگوں کی قدر نہیں ہے، ہم من حیث القوم ایسے بن چکے ہیں کہ ہمیں ہر چمکتا پتھر سونا دکھائی دیتا ہے لیکن اصل میں ہمارا سونا یہ ہنر مند لوگ ہی ہیں جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمیں اپنا مستقبل بابو لوگوں کے ہاتھوں میں دکھائی دیتا ہے۔‘

کاروبار

BBC

وہ کہتے ہیں کہ یہ کلچر یہاں ابھی کا تو نہیں ہے، یہ تو یہاں پاکستان بننے سے پہلے کا چلتا آ رہا ہے اور ہم نے اسے ختم کرنے کی کوشش کی ہی نہیں ہے۔ ہم نے ہنرمند لوگوں کو وہ مقام دیا ہی نہیں ہے جو ان کا حق بنتا ہے یا انھیں دیا جانا چاہیے۔

وہ مثال دے کر بتاتے ہیں کہ ’جب ہم اس معاشرے میں کسی افسر کو دیکھتے ہیں، اس کا رہن سہن، عیش و عشرت، اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا اور مراعات دیکھتے ہیں تو ہر بندے کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ یا اس کی اولاد بھی ایسی ہی بنے۔

’ہنرمند افراد کیونکہ میلے کچیلے کپڑوں میں رہتے ہیں، محنت کرتے ہیں اور پسینے میں شرابور رہتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ شاید یہ لوگ اس عزت و احترام کے قابل نہیں ہیں۔

’یہ ایک سوچ ہے جو ہمارے معاشرے میں پنپ رہی ہے لیکن بدقسمتی کے ساتھ ان 70، 72 سالوں میں کسی بھی طبقے کی جانب سے اس سوچ کے خاتمے کے لیے کام نہیں کیا گیا۔

ووکیشنل ٹریننگ کے کورسز کر کے اکثر لڑکیاں گھر بیٹھے کما رہی ہیں’

اس موضوع پر تحقیق کرنے والی حنا ایوب اس وقت لاہور میں ہی ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کی پرنسپل بھی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمارے ہاں ایک سوچ ہے جس کے تحت ہاتھ سے کام کرنا زیادہ پسند نہیں کیا جاتا اور یہی وجہ ہے کہ بلیو کالر نوکریاں کرنے والے افراد کو وہ مقام بھی نہیں دیا جاتا۔

ان کی جانب سے ووکیشنل اور ٹیکنیکل ٹریننگ سے متعلق ایک تحقیق کی گئی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ جن افراد کے مالی حالات بہتر نہ ہوں وہ خاص طور پر اس شعبے کی جانب سے آتے ہیں اور اس میں ان کے والدین اور ان کی تعلیم کا بھی بہت ہاتھ ہوتا ہے۔

حنا نے بتایا کہ جب سے انھوں نے اس محکمے میں شمولیت حاصل کی ہے تو انھیں ایک واضح بہتری دکھائی دے رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگ ڈگری حاصل کرنے کو ووکیشنل تعلیم پر فوقیت دیتے ہیں حالانکہ اس کے بعد بھی آپ کو عموماً نوکری کی تلاش میں خاصی تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ کچھ برس پہلے تک بیوٹیشن کے کورس کو بُرا سمجھا جاتا تھا اور والدین اپنی بیٹیوں کے داخلے نہیں کرواتے تھے لیکن اب یہ تبدیل ہو رہا ہے۔

’لوگوں کو اندازہ ہو رہا ہے کہ یہ کورس کرنے کے بعد وہ اپنا کاروبار کر سکتی ہیں، پہلے یہ سوچ نہیں تھی۔‘

حنا بتاتی ہیں کہ سلائی کڑھائی کا کام، یا فیشن ڈیزائننگ یا مہندی لگانے جیسے ہنر سیکھ کے لڑکیاں گھر بیٹھے کما رہی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16562 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp