چین: ڈوبتی خاتون کی جان بچانے پر برطانوی سفارت کار ’ہیرو‘ بن گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سٹیفن ایلیسن
Getty Images
برطانوی قونصل جنرل سٹیفن ایلیسن دریا کے کنارے چہل قدمی کر رہے تھے جب انہوں نے خاتون کو دریا میں ڈوبتے دیکھا
چین میں ایک ڈوبتی ہوئی طالبہ کو بچانے پر برطانوی سفارت کار کو ہیرو کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔

چین کے شہر چونگ کنگ میں برطانوی قونصل خانے کے قونصل جنرل سٹیفن ایلیسن جن کی عمر 61 برس ہے، وہ ایک گاؤں کے قریب سے گزرتے ہوئے دریا کے کنارے چہل قدمی کر رہے تھے کہ انہوں نے ایک 24 سالہ خاتون کو دریا میں ڈوبتے دیکھا۔

کنارے پر کھڑے لوگوں کے فون سے لی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک لڑکی دریا کی تیز لہروں میں بہتے ہوئے ایک پل کے نیچے سے بہتی ہوئی جا رہی ہے۔ پل کے دوسری جانب جب وہ پانی میں نمودار ہوتی ہے تو وہ منہ کے بل بے حس و حرکت نظر آتی ہے۔

سٹفین ایلیسن جب یہ منظر دیکھتے ہیں تو وہ اپنے جوتے اتار کر دریا میں کود پڑتے ہیں۔ وہ جس خاتون کو دریا کی بے رحم لہروں سے بچانے میں کامیاب ہوئے اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

برطانوں قونصل جنرل جو ماہر تیراک ہیں اور ‘ٹرائی ایتھلون’ مقابلوں میں، جن میں دوڑ اور سائیکلنگ کے علاوہ تیراکی بھی شامل ہوتی ہے، حصہ لیتے رہتے ہیں۔ سٹیفن ایلیسن نے خاتون کو پہلے سیدھا کیا اور اس کا منہ پانی سے نکال کر ذرا سے بلند کیا۔

اسی دوران کنارے پر کھڑے ایک شخص نے ان کی طرف رسی پھینکی جس سے خاتون کو باہر نکال لیا گیا اور ایلیسن بھی تیر کر کنارے پر آ گئے۔

وہ جب دریا سے باہر آئے تو گاؤں والوں نے انھیں خشک کپڑے اور گرم مشروب دیا۔

سنیچر کو پیش آنے والے اس واقعے کی تفصیل بی بی سی کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خاتون کو جب دریا سے نکالا گیا تو وہ بے ہوش تھی اور اس کی سانس نہیں چل رہی تھی۔ کچھ دیر تک وہ اسی حالت میں رہی جس کو دیکھ کر وہ ڈر گئے کہ کہیں وہ مر تو نہیں گئی۔

یہ بھی پڑھیے

برطانیہ: ’چین کے خلاف پابندیاں خارج از امکان نہیں‘

برطانیہ اور چین کے معاشی تعلقات کتنے گہرے ہیں؟

چین نے برطانیہ کو ہانگ کانگ کے اندرونی معاملات میں مبینہ مداخلت پر خبردار کیا ہے

اس خاتون کا تعلق وہان سے ہے اور وہ کونگ کنگ یونیورسٹی کی طالبہ ہیں۔ وہ اس خوفناک تجربے سے بری طرح ڈری ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ قونصل جنرل کی بہت شکر گزار ہیں اور انھوں نے انھیں اپنے گھر والوں کے ساتھ کھانے پر بھی مدعو کیا ہے۔

سٹیفن ایلیسن انگلینڈ کے علاقے نیو کاسل سے تعلق رکھتے ہیں اور چونگ کنگ میں برطانوی قونصل خانے کے سربراہ ہیں جہاں ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں چین اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت کو فروغ دینا شامل ہے۔

چین میں ہم انھیں ایک ہیرو کی طرح یاد رکھیں گے

کیری ایلن چینی ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کار

چین اور برطانیہ کے تعلقات گزشتہ ایک سال سے تیزی سے خراب ہو رہے ہیں جن کی بڑی وجہ ہانگ کانگ میں عوامی مظاہرے، چینی کمپنی ہواوے کا ٹھیکہ اور کورونا وائرس کی وبا سے پیدا ہونے والا تنازع ہے۔

اس کے باوجوہ برطانوی سفارت کار کی چین کے میڈیا میں بہت تعریف کی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا پر چینی عوام انھیں ہیرو قرار دے رہے ہیں۔ ایک خاتون جو سیلفی لیتے ہوئے دریا میں گر پڑی تھی اس کی جان بچانے پر کہا جا رہا ہے کہ سٹیفن ایلیسن نے قابل تقلید مثال قائم کی ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

کئی چینی شہری انھیں ’انکل‘ بھی کہہ رہے ہیں، ایک ایسی اصطلاح جو چین میں کسی غیر ملکی کے لیے کبھی استعمال نہیں کی جاتی۔

سوشل میڈیا پر ایک شخص سینا ویبو نے لکھا کہ ’برطانیہ میں آپ ایسے شخص کو ’نائٹ‘ کہتے ہیں اور ہم چین میں اسے ہیرو کہتے ہیں‘۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’اتنی اہم شخصیت کے خود کو خطرے میں ڈال کر کسی کی جان بچانا بڑی بات ہے، آپ کو ان جیسا ہونا چاہیے۔’

چین کی سرکاری ویب سائٹ گلوبل ٹائمز میں اس واقعے کی ویڈیو جاری کیے جانے کے بعد اس کو دس لاکھ لوگوں نے دیکھ چکے ہیں۔

اس واقعے کی وجہ سے چین میں غیر ملکیوں کو جس نظر سے دیکھا جاتا ہے اس پر بھی غور کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔

چین میں عوامی سطح پر برطانیہ کے بارے میں منفی سوچ پائے جانے کے باوجود بہت سے چینی شہریوں کا کہنا کہ وہ اس بات پر حیران رہ گئے ہیں کہ بہت سے مقامی لوگ یہ منظر دیکھ رہے تھے لیکن کسی نے آگے بڑھ کر لڑکی کی مدد کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس طرح کے واقعات میں عوام کی طرف سے خاموش تماشائی بنے رہنا چین میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بہت سے لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کسی کی مدد کرنے سے کہیں وہ خود کسی پریشانی میں نہ پھنس جائیں۔

جب کبھی بھی اس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں تو چینی معاشرے کی اخلاقیات پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16578 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp