انڈین پولیس انسپکٹر کی کہانی جو پُرانے ساتھیوں کو سٹرک پر بھیک مانگتے ہوئے ملے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈین ریاست مدھیا پردیش کے شہر گوالیار میں واقع سارڈن آشرم (پناہ گاہ) میں آج کل منیش مشرا نام کے ایک شخص سے ملنے کے لیے پولیس اہلکاروں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔

منیش دس برس سے سڑکوں پر بھیک مانگ کر زندگی گزار رہے تھے، لیکن چند روز قبل ہی انھیں اس بے سہارا افراد کی پناہ گاہ میں لایا گیا۔ ان سے ملنے آنے والے پولیس اہلکار ان کے ساتھ پولیس ٹریننگ کا حصہ تھے۔

آشرم کے منتظم پون سوریا ونشی نے بتایا کہ ’آشرم میں منیش کی اچھی طرح دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ اب وہ کافی بہتر محسوس کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ پولیس ٹریننگ کے دور کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر منیش پرانے دنوں کو یاد کرتے ہیں۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ انھیں چار سے پانچ ماہ تک یہاں رکھا جائے تاکہ وہ مکمل صحتیاب ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیے

ذہنی مسائل کا علاج، جس میں پیسہ پانی کی طرح بہتا ہے

ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے کتنی دیر سونا ضروری ہے؟

’شوبز میں اب ذہنی صحت پر کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے‘

منیش سڑکوں پر بھیک کیوں مانگ رہے تھے؟

منیش کی داستان جاننے کے لیے ماضی میں جانا پڑے گا۔

یہ گذشتہ 10 نومبر کی بات ہے جب گوالیار میں انتخابات کی گنتی ہو رہی تھی اور ڈی ایس پی رتنیش سنگھ تومر اور وجے بھڈوریا کو سکیورٹی کے انتظامات دیے گئے تھے۔

اس دوران رات ڈیڑھ بجے دونوں اہلکار سکیورٹی انتظامات میں مصروف تھے جب انھوں نے ایک بھکاری کو سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے دیکھا۔

بھکاری کی حالت کو دیکھتے ہوئے ان دو اہلکاروں میں سے ایک نے اپنے جوتے، تو دوسرے نے اپنی جیکٹ اس بھکاری کو دے دی۔ جب دونوں اہلکار وہاں سے جانے لگے تو بھکاری نے انھیں ان کے نام سے پکارا۔

یہ سن کر وہ دونوں بہت حیران ہوئے اور اس کے پاس آ کر جب پوچھا کہ وہ انھیں کیسے جانتے ہیں تو پتا چلا کہ وہ بھکاری دراصل ان کے بیچ میٹ، سب انسپکٹر منیش مشرا ہیں۔

اطلاعات کے مطابق منیش گذشتہ دس برسوں سے اسی طرح سڑکوں پر زندگی گزار رہے تھے۔

منیش مشرا مدھیہ پردیش پولیس کے سنہ 1999 بیچ کے افسر تھے۔ وہ سالوں سے گوالیار کے علاقے جھانسی روڈ میں سڑکوں پر گھوم رہے تھے۔ ان کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ ایک بہترین شوٹر (نشانہ باز) بھی تھے۔

ذہنی توازن کھو دینے کے سبب یہ حال ہوا

رتنش سنگھ تومر نے بتایا کہ ’ان کی یہ حالت ذہنی توازن کھو دینے کے سبب ہوئی۔‘

منیش دونوں اہلکاروں کے ساتھ سنہ 1999 میں بطور سب انسپکٹر پولیس فورس میں بھرتی ہوئے تھے۔ منیش مشرا نے سنہ 2005 تک نوکری کی۔ اس کے بعد ان کا ذہنی توازن بگڑ گیا۔

’ذہنی توازن بگڑنے کے بعد ابتدائی پانچ برس وہ گھر پر ہی رہے، لیکن ذہنی حالت خراب ہونے کے سبب وہ اکثر گھر سے بھاگ جایا کرتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق جن ہسپتالوں میں ان کا علاج کروایا گیا وہ وہاں سے بھی بھاگ گئے۔ آخر کار گھر والوں نے بھی انھیں اُن کے حال پر چھوڑ دیا۔‘

ان کی اہلیہ سے ان کی طلاق ہو چکی ہے اور ان کے خاندان والے نہیں جانتے تھے کہ وہ کہاں رہتے ہیں۔

اس رات جب انھیں منیش سڑک پر ملے تو دونوں اہلکار انھیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے، لیکن انھوں نے جانے سے انکار کر دیا۔

اس کے بعد انھوں نے منیش کو ایک فلاحی تنظیم کے ذریعے آشرم میں داخل کروا دیا جہاں ان کا خیال رکھا جا رہا ہے۔

منیش کے والدین عمر رسیدہ ہیں اور ان کی ایک چچیری بہن چین میں نوکری کر رہی ہیں۔

آشرم کے منتظم سوریا ونشی نے بتایا کہ چین میں مقیم ان کی بہن نے فون پر ان کا حال چال معلوم کیا ہے۔ انھوں نے بتایا ’ان کی بہن نے کہا ہے کہ وہ جلد آئیں گی اور دیکھیں گی کہ وہ کیا مدد کر سکتی ہیں۔‘

منیش کے والدین سے بھی رابطے کی کوشش کی گئی، لیکن تاحال ان سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

آشرم کے منتظم کے بقول ’ان کے ساتھی چاہتے ہیں کہ اب منیش ایک بہتر زندگی گزاریں اس لیے وہ صرف ان سے ملنے ہی نہیں آتے بلکہ ان کی مدد بھی کرنا چاہتے ہیں۔‘

گوالیار کے مقامی افراد نے بتایا کہ انھوں نے منیش کو بھیک مانگ کر گزارا کرتے دیکھا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16597 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp