کجا ہستی، جان پدر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جہالت کا ایک اپنا معاشرہ ہے نہ اس معاشرے میں انسانیت ہوتی ہے نہ کوئی مذہب، نہ کوئی اخلاقیات۔
جہالت کے معاشرے کے مکینوں کے نزدیک ہر چیز ان کی ہوس کو پورا کرنے کے لئے جائز ہے
نہ حرام کی تمیز نہ حلال کی۔
جہاں دنیا چاند کے مکین بننے کے لئے مقابلے میں ہیں

وہی آج بھی قائد کے دیس میں معصوم بچیوں کو اپنی ماؤں کے اور ماؤں کو بچوں کے سامنے ہوس کا نشانہ بنایا جا رہا ہیں۔

اور کہیں بے گناہوں کو شہید کر دیاجاتا ہیں
گزشتہ چند ہفتوں میں دو ایسے واقعات رونما ہوئے
جنہوں نے والدین اور اولاد کے رشتے کو بہت درد دیا۔
قصہ مختصر،
چند دن پہلے سندھ کے شہر کشمور میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔

چند حیوانوں نے تبسم نامی خاتون کو نوکری کا لالچ دے کر کراچی سے کشمور بلایا۔ خاتون کے ساتھ اس کی چار سالہ بیٹی بھی تھی۔ درندوں نے نوکری خاک دینی تھی کئی دن اس خاتون کو پاس رکھا اور حرام کرتے رہے۔ اس دوران خاتون تڑپتی رہی، قدرت کو پکارتی رہی کہ کوئی محمد بن قاسم بھیجے۔ جب ظلم حد سے بڑ جاتا ہے تو قدرت بن بلائے بھی پہنچ جاتی ہے یہاں تو ایک مظلوم آہو پکار کررہی رہی تھی۔ کوئی نہ کوئی بہانہ بننا تھا اور اوپر سے ملزمان عادی حرامی تھے۔ انہوں نے خاتون کو اس شرط پہ چھوڑ دیا کہ کراچی سے دیگر خواتین کو لاؤ تاکہ جنسی تسکین حاصل کرسکے۔ قسمت سے ہاری بدقسمت بچاری عورت (تبسم) کراچی تو نہ گئی پولیس کے پاس پہنچ گئی۔ ساری روداد اے ایس آئی محمد بخش کو سنائی۔ اس باکمال انسان نے فیصلہ کیا کہ ہر قیمت پہ بچی کو بھی بازیاب کرواں گا اور ملزمان کو بھی سزا دلواؤں گا۔

محمد بخش نے کسی اور کی بجائے خود اپنی بیوی اور بیٹی کو اس کیس کو حل کرنے کے لئے چنا۔ محمد بخش نے تبسم (متاثرہ خاتون ) سے معلومات اکٹھی کیں اور موبائل نمبر کے ذریعے ملزمان سے اپنی بیوی کی بات کروائی، جس وہ لالچ میں آئے۔ اور انہیں یقین ہو گیا کہ تبسم اپنے ساتھ عورت لے کر آئے گی۔ اس دوران جہنمی چار سالہ بچی سے بھی اجتماعی زیادتی کرتے رہے۔

اے ایس آئی محمدبخش کا ملزمان کے خلاف کارروائی قانونی فرض تھا لیکن اس فرض کو پورا کرنے کے لئے اسنے جس طرح اپنی بیوی اور بیٹی کو استعمال کیا وہ اس کا فرض نہیں تھا۔ لیکن انسانیت کا درد رکھنے والے ہر انسان کے لئے یقیناً ضروری تھا۔ اس سارے عمل میں محمد بخش کی بیٹی کی زندگی داو پہ تھی۔

کسی باپ کے لئے یہ آسان نہیں ہوتا کہ وہ بیٹی کودرندوں کے سامنے پیش کریں
محمد بخش کی بیوی اور صاحبزادی کی جرات کا بھی سلام۔

محمد بخش کے مطابق اس کے ذہن میں ملزمان کی گرفت میں چار سالہ معصوم بچی کے ساتھ ہونے والاظلم اس کو تڑپا رہا تھا

محمد بخش بالآخر اپنے مشن میں کامیاب ہو گیا۔ اور بچی کوبھی بازیاب کروالیا
اور مرکزی ملزم رفیق پولیس مقابلے میں مارا گیا
اس دنیا میں سب سے زیادہ عظیم رشتہ والدین اور اولاد کاہے، دوسری طرف یہی رشتہ بہت ظالم ہے

دونوں ایک دوسرے کا دکھ برداشت نہیں کر سکتے، کشمورواقعہ میں کیسے ماں نے بچی کا اور بچی نے ماں کا دکھ برداشت کیا ہوگا۔ ؟

دعاگو ہے! کہ
اماں کی جان معصوم چار سالہ بچی کو رب کعبہ صحت کاملہ عطا فرمائے اور یہ سانحہ بھول جائے۔
جس کا تصور کرنا ناممکن ہے۔

چند ہفتے پہلے کابل یونیورسٹی افغانستان میں ایک کتاب میلہ کا انعقاد کیا گیا، جہاں ابھی افغانی اور ایرانی مہمانوں کی آمد کا انتظار تھا کہ دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔

عالمی، مقامی اور سوشل میڈیا نے اس حملے سے متعلق رپورٹ کیا۔ اس حملے سے متعلق بہت سے دردناک قصے سننے کو ملے۔ بہت مشکل سے کچھ افغانی رائٹرز سے رابطہ ہوا۔ کچھ چشم دید گواہان طلبا سے بھی ڈسکس کیا۔ کیونکہ دھماکہ کی خبر تو عام ہوئی۔ لیکن وہ کرب خبروں کی زینت نہیں بنا تھا، صرف سوشل میڈیا تک معلومات تھی۔

خیر! چشم دید گواہان کہتے ہیں کہ دہشت گرد تاک تاک کر طلبا کو نشانہ بنا رہے تھے۔
جیسے ہی یہ خبر عام ہوئی، طلبا کے ورثا نے رابطے کرنے شروع کردیے۔

جب حملہ آوروں کو سیکورٹی فورسز نے ہلاک کیا تب تک بہت نقصان ہو چکا تھا۔ تقریباً طلبا سمیت بیس سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔

حملے کے بعد جب شہید ہونے والے طلبا اور زخمیوں کا سامان (کتابیں، بیگز، پرسز موبائل فونز وغیرہ) اکٹھا کیا جا رہا تھا۔

ایک طالب علم کے مطابق سامان اکٹھاکرتے ہوئے موبائل فونز پہ مختلف ناموں پہ محفوظ نمبرز (والد، والدہ، بہن، بھائی، رشتہ دار ) سے کالز آ رہی تھی۔

طالب علم نے قیامت خیز مناظر کو بیان کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ ایک شہید طالبہ کے موبائل پہ 140 بار کالز آئیں۔ اور نمبر والد کے نام پہ محفوظ تھا۔

کالز کا جواب نہ آنے کے بعد ایک میسج آیا ”کجا ہستی، جان پدر ”( اے بابا کی جان کہاں ہو

اس میسج میں موجود تڑپ کو صرف ایک بیٹی کا باپ ہی محسوس کر سکتا ہے عام انسان کا بھی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ کتنا کرب ہوگا اس باپ کے لئے

انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اسفند یار لکھتے ہیں جوخودبھی کابل یونیورسٹی کا طالبعلم ہے کہ میرے دوستوں کے والدین جب دیوانہ وار اپنے بچوں کی لاشوں کے ٹکڑے اکٹھے کر رہے تھے تو ساتھی طالبہ کے موبائل پہ اس کی والدہ نے میسج کیا ہوا تھا۔ جانم! آپ کی پسند کا کھانا بنا دیا ہے واپسی پہ کھا لینا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •