عمران خان: سینیٹ انتخابات میں خفیہ رائے شماری کی بجائے ’شو آف ہینڈ‘ کا طریقہ کار اپنانے کے لیے آئینی ترمیم لائیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اُن کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پارلیمان میں قانون سازی کے ذریعے سینیٹ الیکشن میں خفیہ رائے شماری کے بجائے ’شو آف ہینڈ‘ کا طریقہ کار اپنایا جائے۔

منگل کے روز کاینہ اجلاس کے بعد اپنے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں سنہ 1970 کے انتخابات کے علاوہ، جس میں ہارنے والے امیدوار نے اپنی شکست تسلیم کی، ایسا کبھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ دھاندلی کا الزام نہ لگا ہو۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’آئینی ترمیم کے ذریعے سینیٹ الیکشن میں شو آف ہینڈ ہو گا، یعنی خفیہ بیلٹ نہیں ہو گا۔۔۔ ایم پیز کو پیسے دے کر (سینیٹ کی سیٹوں کے لیے) ووٹ خریدے جاتے ہیں۔ ہم سینیٹ کے الیکشن میں کرپشن ختم کرنا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ہر کوئی کہتا ہے کہ سینیٹ کے الیکشن میں ووٹوں کی خرید و فروخت کی جاتی ہے۔ ’ہم یہ بِل اسمبلی میں لائیں گے، دیکھتے ہیں یہ (حزب اختلاف) کتنا ساتھ دیتے ہیں کیونکہ آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہو گی۔‘ انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت انتخابی اصلاحات سے متعلق دو مزید بل، الیکٹرانک ووٹنگ اور سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق، بھی جلد سامنے لائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

گلگت بلتستان انتخابات: کیا تحریک انصاف کو وہ کامیابی نہیں مل پائی جس کی توقع تھی؟

مریم کا گلگت بلتستان انتخابات میں دھاندلی کا الزام، بلاول کی ’اسلام آباد جانے‘ کی دھمکی

’وزیر اعظم نیشنل سکیورٹی کی میٹنگ نہیں کرسکتے تو استعفیٰ دیکر کسی اور کو موقع دیں‘

عمران خان نے مزید کہا کہ ’موجودہ حکومت کبھی ایسا نہیں کرتی کہ اس طرح کی اصلاحات لے کر آئے۔ ہم چاہتے ہیں پاکستان میں صاف شفاف الیکشن ہوں۔‘

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’میری کوشش ہے کہ ملک میں ایسے الیکشن ہوں جس میں ہارنے والے شکست تسلیم کریں۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں الیکٹرانگ ووٹنگ کا نظام لانے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

’ساری دنیا میں الیکٹرانک ووٹنگ کو صحیح مانا جاتا ہے، ہم یہ نظام لے کر آئیں گے۔ الیکشن کمیشن سے الیکٹرانک مشینیں منگوانے کی بات کی ہے۔‘

اس کے بعد انھوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹنگ کے عمل میں شامل کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت پڑے گی۔

’تقریباً 90 لاکھ اوورسیز پاکستانی ہیں۔ ہم ان کو بھی عمل میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ متحدہ اپوزیشن عمران خان کی حکومت کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کر رہی ہے اور انھوں نے حکمراں جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو بارہا ’سلیکٹڈ‘ قرار دیا ہے۔ اپوزیشن کا ماننا ہے کہ سنہ 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت حاصل تھی۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف، جو علاج کی غرض سے لندن میں ہیں اور جن پر ان کے ملک میں بدعنوانی کے مقدمات چل رہے ہیں، یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ سنہ 2018 کے انتخابات میں ان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔ انھوں نے ایک مظاہرے کے دوران کہا تھا کہ ’ہماری جنگ عمران خان سے نہیں، انھیں لانے والوں سے ہے۔‘

عمران خان نے کابینہ کے اجلاس کے بعد اپنے مختصر بیان میں سب سے پہلے گلگت بلتستان انتخابات میں، ابتدائی غیر حتمی نتائج کے تحت، اپنی جماعت کی برتری پر قوم کو مبارکباد پیش کی اور لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو صوبائی درجہ دینے کا مقصد یہ تھا کہ وہاں کے لوگ خود کو برابر کا شہری سمجھیں۔‘ اس کے بعد انھوں نے ماضی میں پاکستان میں انتخابی عمل کے حوالے سے اپنے تجربات کا ذکر کیا۔

’ایک 2013 میں الیکشن ہوا۔ جب یہ ختم ہوا تو ساری سیاسی جماعتوں نے کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ مسلم لیگ نے کہا سندھ میں دھاندلی ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اسے ’آر اوز کا الیکشن‘ قرار دیا۔‘

’ہم نے کہا کہ بس چار حلقے کھول دیں۔ جب الیکشن ختم ہوتا ہے تو یہ دعویٰ کرنے والوں نے الیکشن کمیشن پٹیشن (درخواست) دائر کرتے ہیں الیکشن کمیشن کے پاس۔ 133 لوگوں نے دھاندلی کا دعویٰ دائر کیا۔ ہم نے صرف چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا۔‘

’چار حلقوں سے حکومت نہیں بننے والی تھی۔ میں نے یہ اس لیے کہا کہ جب چار حلقوں کا آڈٹ ہو گا تو چار حلقوں سے سب سامنے آجائے گا۔ تاکہ اگلا الیکشن ٹھیک ہو جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے لیے ایک سال تک میں پارلیمان میں گیا، الیکشن کمیشن میں گیا، ٹرائبیونل میں گئے۔ ہم سپریم کورٹ گئے۔ ایک سال تک تمام دروازے کھٹکھٹائے۔ اس کے بعد 126 دن تک اسلام آباد میں دھرنا دیا۔‘

’جوڈیشل کمیشن بنا اور ناصر الملک نے اس کی صدارت کی۔ ہم نے ثبوت جمع کیے، لوگ بٹھائے اور سپریم کورٹ میں لے کر گئے۔ اس پر سپریم میں کئی ہفتے کیس چلا۔ کمیشن نے تجاویز دیں تاکہ اگلا الیکشن ٹھیک ہو۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’صاف اور شفاف الیکشن کی مہم میں نے سب سے پہلے چلائی تھی۔‘

’1970 کے علاوہ، جس میں ہارنے والے نے شکست تسلیم کی، سب الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگا ہے۔‘

عمران خان نے اپنے کرکٹ کیریئر کے دوران نیوٹرل امپائرنگ سے متعلق اپنی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ ’پاکستان پہلا ملک تھا جس نے نیوٹرل امپائر کھڑے کئے۔ ہماری وجہ سے نیوٹرل امپائرنگ آئی۔‘

سنہ 2013 میں الیکشن کمیشن، پولنگ سٹاف اور حکومت ان کی۔ 2018 میں الیکشن کمیشن ان کی، نگراں حکومت ان کی۔۔۔ انھوں نے 2018 الیکشن کا شور مچایا ہوا ہے۔ ہم (2013 میں) کہتے رہے چار حلقے کھول دیں۔ چاروں میں دھاندلی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کی فتح کے بعد ’میں نے پہلے دن سے کہا ہے کہ حلقے کھولنے کے لیے تیار ہیں۔ کمیٹی میں ان کے لوگ نہیں آئے۔ یہ ان کی سنجیدگی تھی۔ انھوں نے صرف 24 درخواستیں دائر کی ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16595 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp