امریکی صدارتی الیکشن: صدر ٹرمپ کے اقدامات پر امریکہ کے خفیہ ادارے اضطراب کا شکار کیوں ہیں؟

گورڈن کوریرا - سکیورٹی نامہ نگار، بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

CIA logo
Getty Images
موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یکے بعد دیگرے کئی لوگوں کو نوکریوں سے برخاست کرنے یا چند کو نئی نوکریاں فراہم کرنے پر امریکہ کے خفیہ اداروں اور سکیورٹی کمیونٹی میں اضطراب کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

جو لوگ اس ’جاسوسی کی دنیا‘ سے منسلک نہیں ہیں انھوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ یہ شاید موجودہ صدر کی جانب سے اپنی طاقت کو نہ چھوڑنے کی ایک کوشش ہے، لیکن وہ جو اُس دنیا میں ہی رہتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ شاید یہ ایک ذاتی انتقام پر مبنی اقدام ہے جو کہ صدر ٹرمپ کے دور صدارت کا خاصہ رہا ہے۔

لیکن یہ حقیقت ہے کہ صدارت کی منتقلی کے دوران ایسے اقدام بہت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پینٹاگون کی قیادت میں سے متعدد سویلین افراد کو نوکری سے نکال دینا شاید ایک شروعات ہے۔

کچھ معاملات میں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسے صدر کے فیصلے ہیں جو اپنی صدارت کے آخری دنوں میں اپنے پالیسی اہداف کو پورا کرنے کے خواہشمند ہیں اور ان لوگوں کو ہٹانا چاہتے ہیں جو ان کے راستے میں رکاوٹ تھے، جیسے وہ لوگ جو افغانستان سے فوج نکالنے کے خلاف ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

صدارتی استثنیٰ کے خاتمے کے بعد ٹرمپ کو کن مقدمات کا سامنا ہو گا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو کس طرح تبدیل کیا ہے؟

وہ پانچ وجوہات جو بائیڈن کی فتح کا سبب بنیں

لیکن ساتھ ساتھ کئی مبصرین کو ایسا لگتا ہے کہ یہ اقدامات ایک چھپے ہوئے غیض و غضب کی عکاسی کرتے ہیں اور یہ ایک طویل جنگ کا آخری مرحلہ ہیں۔

Mark Esper and Donald Trump

Getty Images
امریکی ڈیفنس سیکریٹری مارک ایسپر کو ایک ’ٹویٹ‘ کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا تھا

صدر ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں امریکہ کے قومی سلامتی کے اداروں کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’ڈیپ سٹیٹ‘ ہیں اور انھیں صدارت سے ہٹانے کی سازش میں مصروف ہیں۔

امریکی خفیہ اداروں نے اپنی تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ روس نے سنہ 2016 کے صدارتی انتخاب میں مداخلت کی تھی۔ البتہ صدر ٹرمپ اس پر خفا تھے کیونکہ یہ انھیں ان کی اپنی صدارت کے لیے خطرہ محسوس ہوتا تھا کہ شاید اس سے ان کی جیت پر سوالیہ نشان اٹھائے جائیں۔

اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے انھوں نے اپنی صدارت کے آغاز سے ہی ان اداروں کے خلاف جارحانہ مزاج اپنائے رکھا اور پھر کبھی اسے تبدیل نہیں کیا۔

گذشتہ چند ماہ میں انھوں نے ان معلومات کو عوام کے سامنے ظاہر کرنے پر زور دیا جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس سے خفیہ اداروں کی روس کے بارے میں تجزیہ غلط ثابت ہو سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے حال ہی میں اپنے ایک سیاسی حلیف رچرڈ گرینل کو ڈائریکٹر قومی انٹیلیجنس کا عہدہ سونپا ہے جنھوں نے صدر ٹرمپ کے بیانیے کو مزید تقویت دی ہے لیکن انھیں مزاحمت کا سامنا ہے۔

دوسری جانب سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہاسپیل کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کی نوکری بھی خطرے میں ہے، اور ان کے سر پر یہ تلوار اس وقت سے لٹک رہی ہے جب سے وہ اس عہدے پر ہیں۔

جینا کے ناقد کہتے ہیں کہ وہ وائٹ ہاؤس کے بہت قریب ہیں اور اس کے بارے وہ مثال دیتے ہیں کہ جینا نے سٹیٹ آف یونین کی تقریب میں شرکت کی تھی اور صدر ٹرمپ کی تقریر پر تالیاں بھی بجائیں تھیں۔

لیکن جینا کے حامی کہتے ہیں کہ انھوں نے بہت احتیاط سے اپنے فرائض انجام دیے ہیں تاکہ وہ صدر ٹرمپ سے دشمنی بھی مول نہ لیں اور سی آئی اے کو سیاسی فریق بننے سے بچائیں، کیونکہ انھیں ڈر ہے کہ اگر انھیں ہٹا دیا گیا تو ان کی جگہ کسی ایسے فرد کو لایا جائے گا جو صدر ٹرمپ کی طرفداری کرے۔

واضح رہے کہ جینا ہاسپیل کی جانب سے روسی مداخلت کے بارے میں خفیہ مواد سامنے نہ لانے سے صدر ٹرمپ کے حامیوں نے ان پر تنقید کی ہے۔

لیکن اس سے بھی زیادہ متنازع فیصلہ ہو گا اگر ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرس رے کو ان کی نوکری سے نکال دیا جائے۔

کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایف بی آئی سے صدارتی انتخاب میں حریف جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے بیرون ملک کاروباری تعلقات کے بارے میں تفتیش نہ کرنے کی وجہ سے سخت ناراض ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی خواہش تھی کہ ایف بی آئی ان انتخاب میں ویسا کردار ادا کرے جب سنہ 2016 کے انتخاب میں اس وقت کے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے ڈیموکریٹک امیدوار ہلیری کلنٹن کی ای میلز کے بارے میں تفتیش کی تھی اور اس کی وجہ سے انھیں اپنی صدارتی مہم کے آخر میں نقصان ہوا تھا اور وہ انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ سے شکست کھا گئی تھیں۔

عمومی طور پر سی آئی اے کے سربراہ کو نئے آنے والے صدر تبدیل کر دیتے ہیں، ایف بی آئی کے سربراہ کو عام طور پر دس سال کے لیے مقرر کیا جاتا ہے۔

امریکی ایجنسی سائبر سکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی (سیسا) کے صدر کرس کریبز بہت اچھی ساکھ ہونے کے باوجود خطرے میں ہیں کیونکہ ان کے ادارے کی بنائی ہوئی ایک ویب سائٹ پر یہ کہا گیا کہ صدر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کی جانب سے الیکشن میں فراڈ اور دھاندلی کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

جو بائیڈن اور کملا ہیرس

Getty Images

ایک اور خدشہ یہ ہے کہ پینٹاگون میں اہم عہدوں پر سیاسی نوعیت کی تعیناتی ہوئی جس سے خدشہ ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم چاہتی ہے کہ ایسے افراد کو قومی سلامتی کے اداروں میں شامل کر دیا جائے جو نئے صدر کے آنے کے باوجود صدر ٹرمپ کے لیے کردار ادا کرتے رہیں۔

اس بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ شاید وفادار کارکنوں کو نوازنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ یہ لوگ دور صدارت کے آخری مراحل میں اہم عہدوں پر کچھ عرصے کام کر لیں اور اس عرصے میں مزید متنازع پالیسیوں کو اختیار کریں۔

یہ بہت ممکن ہے کہ نئے صدر اپنے عہدے پر آنے کے بعد ان کئی افراد کو تبدیل کر دیں لیکن اس کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔

جو بائیڈن کی انتخاب میں جیت کو تسلیم نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ابھی تک روزانہ دی جانے والی خفیہ معلومات کی خبریں نہ دی جائیں جو کہ عمومی طور پر ہوتا ہے۔ اور اگر یہ سلسلے زیادہ دیر چلا تو اس سے بہت نقصان ہو سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16633 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp