سوات اور کالام میں برفباری: خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقام پر پھنسے 15 افراد کی واپسی کا پُرخطر سفر

محمد زبیر خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

'ہم تین دن تک شدید برفباری کی وجہ سے مہوڈنڈ جھیل کے علاقے میں محصور رہے ہیں۔ اس علاقے سے محفوظ مقام تک پہنچنے کا سفر میری زندگی کا خطرناک ترین سفر تھا۔ برفباری اتنی شدید تھی کہ ہمیں لگ رہا تھا کہ ہماری قبریں بھی مہوڈنڈ جھیل میں ہی برف تلے بنیں گی۔'

یہ کہنا ہے ہے محمد سوار ان 15 افراد میں شامل تھے جنھوں نے منگل کی صبح سات بجے مہوڈنڈ جھیل سے پیدل سفر کا آغاز کیا تھا اور اسی رات نو بجے وہ محفوظ مقام یعنی پلوگہ گاؤں پہنچے جہاں موبائل سگنل موجود تھے۔

پاکستان میں موسم سرما کی حالیہ برفباری کے دوران صوبہ خیبرپختونخوا کا سیاحتی مقام سوات بھی متاثر ہوا ہے۔ سوات انتظامیہ کے مطابق یونین کونسل کالام کا علاقہ ویلج کونسل مٹلتان شدید برفباری سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ مہوڈنڈ جھیل اسی متاثرہ علاقے میں واقع ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق اب تک کالام میں ڈھائی فٹ، مالم جبہ میں تقریباً دو فٹ، مٹلتان میں چھ فٹ جبکہ مہوڈنڈ جھیل کے علاقے میں اس سے بھی زیادہ برفباری ہوئی جس کی وجہ سے مرکزی اور رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

برفباری دیکھنے جائیں مگر پوری تیاری کے ساتھ

’دنیا کی سب سے بڑی غلطی کی، واپسی سے خوف آ رہا ہے‘

کشمیر: ’برف کم، مگر خطرناک ہے‘

پاکستان میں ’پہاڑی خداؤں کے تخت‘ تک پہنچنا آسان نہیں

محمد سوار مہوڈنڈ جھیل کے علاقے میں ہوٹل چلانے کے کاروبار سے منسلک ہیں۔

محمد سوار کہتے ہیں کہ ‘ہم لوگ دریائے سوات کے کنارے کنارے پانی سے گزر کر زندگی اور موت کا سفر طے کر کے آ رہے ہیں۔ راستے میں مقامی لوگوں اور ہمارے علاقے سے بھی نوجوانوں کی ٹیم مدد کو پہنچی ہے ورنہ ہماری لاشیں بھی برف میں دفن ہو جاتیں۔’

محمد سوار کا کہنا تھا کہ ‘ہم 15 لوگ ضلع سوات ہی کے رہائشی ہیں۔ مہوڈنڈ کے علاقے میں اس وقت نا تو ٹیلی فون ہے نہ بجلی۔’

انھوں نے بتایا کہ ‘برفباری رُکی اور کوئی مدد دستیاب نہ ہوئی تو ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت علاقے کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا کہ وہاں پر رکنے اور مدد کا انتظار کرنے کا مطلب صرف اور صرف موت کا انتظار کرنا تھا۔’

محمد سوار کا کہنا تھا کہ جب ‘ہم لوگوں نے چلنا شروع کیا تو ہمیں اندازہ ہوا کہ مہوڈنڈ کے علاقے میں آٹھ سے دس فٹ برفباری ہو چکی ہے۔ پہاڑی اور روایتی راستوں پر پیدل چلنا بھی ممکن نہیں تھا۔ جس کے بعد ہم لوگوں نے دریائے سوات کے کنارے کنارے سفر کیا۔’

انھوں نے کہا کہ ‘ہم لوگوں نے زندگی اور موت کی جنگ لڑی ہے۔ دریائے سوات کے پانی میں چلتے ہوئے کئی مرتبہ اگر کسی ساتھی کا پاؤں پھسلتا تو ہم سب کا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ جاتا تھا۔ چلنے کے ساتھ ساتھ ہر لمحے دھڑکا لگا رہتا کہ اگر ایک پاؤں بھی غلط پڑ گیا تو کیا ہو گا؟’

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے شدید موسم کے پیش نظر انھوں نے سیاحوں سے گزارش کی ہے کہ وہ اس برفباری میں ان دشوار گزار راستوں کا رُخ کرنے سے گریز کریں۔

ویلج کونسل مٹلتان کے سابق نائب ناظم انجینیئر سعید خان کے مطابق اس وقت مٹلتان کا علاقہ مکمل طور پر برف باری میں گھرا ہوا ہے۔

انجینئر سعید خان کا کہنا ہے کہ مہوڈنڈ جھیل میں پھنسے 15 لوگ افراد کو نکالنے کے لیے ‘ہم نے حکومت سے کئی بار مدد کی اپیل کی مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ جس کے بعد وہ 15 لوگ انتہائی پرخطر راستے پر سفر کرتے ہوئے کم از کم ایسے علاقے میں پہنچ چکے ہیں جہاں سے مقامی طور پر نوجوانوں کی صورت میں بھیجی ہوئی مدد میسر آ چکی ہے اور ٹیلی فون سگنل بھی کام کر رہے ہیں۔’

‘کالام سے آگے سب راستے بند’

انجینیئر سعید خان نے بتایا کہ جب حکومت کی طرف سے مایوس ہوئے تو علاقے کا جرگہ کر کے نوجوانوں کا ایک قافلہ منگل کے روز روانہ کیا گیا۔

انجیئر سعید خان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی خطرناک فیصلہ تھا۔ مگر وہ لوگ مہوڈنڈ جھیل کے علاقے میں بھی نہیں رک سکتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ‘ہمارے نوجوانوں کی ٹیم بھی راستے میں انھیں جا ملی اور اب امید ہے کہ وہ رات کے کسی بھی وقت اپنے گھروں میں خیریت سے پہنچ جائیں گے۔’

انجیئر سعید خان کا کہنا تھا کہ یونین کونسل کالام میں ویلج کونسل مٹلتان ایک بڑی وادی ہے۔ جس میں ہزاروں لوگ رہائش پزیر ہیں۔ وادی مٹلتان کا آغاز کالام ختم ہونے کے بعد ہوتا ہے۔

اس وقت برفباری کی وجہ سے پوری مٹلتان کی وادی محصور ہو کر رہ چکی ہے۔ حکام مشنیری کے ذریعے سے راستے کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر برفباری زیادہ ہے جس وجہ سے ابھی تک پوری وادی تقریباً بند ہی پڑی ہے۔

انجینیئر سعید خان کا کہنا تھا کہ مقامی لوگوں کو اس وقت مال مویشی کو چارہ فراہم کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ‘حکومت جس سیاحت کی صنعت کو فروغ دینے کی بات کرتی ہے اس کے لیے ہم لوگ اور اس میں خدمات فراہم کرنے والے ہی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر زندگی اور موت کی جنگ میں ان لوگوں کو مدد میسر نہ آئے تو پھر کس طرح سیاحت ترقی کرئے گئی؟’

امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا

ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا اسلم کا کہنا تھا کہ گذشتہ دونوں کی شدید برفباری میں پہلے ہمیں اطلاعات ملی تھیں کہ مہوڈنڈ جھیل کے علاقے میں کچھ سیاح بھی محصور ہیں۔ مگر اب ہمیں پتا چلا ہے کہ ان میں سیاح شامل نہیں ہیں بلکہ ضلع سوات ہی کے لوگ تھے جو کہ وہاں پر کاروبار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ اب محفوظ علاقے میں پہنچ چکے ہیں۔

‘مہوڈنڈ جھیل کے علاقے میں کوئی باقاعدہ روڈ نہیں ہے۔ وہاں تک سفر صرف جیپوں ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ جس وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا رہا تھا۔’

سوات ریسیکو 1122 کے ضلعی آفسیر محمد عمران کے مطابق مہوڈنڈ جھیل کے علاقے کو برفباری سے صاف کرنے کے لیے بھاری مشنیری کی ضرورت تھی۔ جس کے لیے این ایچ اے اور سی اینڈ ڈبیلو سے مدد لی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ‘بند راستوں کی بنا پر مشنیری کو بھی پہچانا ایک مشکل کام تھا۔ مگر اب وہ مشنیری مہوڈنڈ جھیل اور مٹلتان کے راستے صاف کرنے میں مصروف ہیں۔’

ثاقب رضا اسلم کے مطابق برفباری کے دوران کالام اور اس کے قریب کے علاقوں سے سیاحوں اور مقامی لوگوں کی تین سو گاڑیاں کو مدد فراہم کی گئی تھی۔ اس وقت کالام شہر تک جانے والے راستے کھلے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی سیاح کالام شہر میں اس وقت موجود بھی ہیں تو وہ محفوظ ہیں۔ مگر ان کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چاہیے جبکہ ہم کالام سے آگے جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16597 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp