ٹرمپ کے جانے کے بعد بائیڈن ایران پالیسی میں کیا تبدیلی لا سکتی ہیں؟

پال ایڈمز - سفارتی نامہ نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

A copy of Iranian daily newspaper Shargh, with a picture of US president-elect Joe Biden and headline
EPA
امریکہ میں صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے والے جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی امور کا نظام بگڑتا جا رہا ہے۔

ان کا وعدہ ہے کہ وہ امریکہ کی ساکھ کو بہتر کریں گے اور اس معاملے میں وہ جلدی میں ہیں۔ اس سال ’فارن افیئرز‘ نامی جریدے میں انھوں نے لکھا تھا کہ ’اب ضائع کرنے کے لیے کوئی وقت نہیں ہے۔‘

ان کی طویل فہرست میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) میں دوبارہ شامل ہونا بھی شامل ہے۔ یہ معاہدہ صدر اوباما کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک تھا۔

مگر 2018 میں صدر ٹرمپ اس معاہدے سے علیحدہ ہوگئے اور اس کے بعد سے ان کی پوری کوشش یہ ہے کہ اسے کسی طرح ختم کر دیا جائے۔

مگر ایران پر صدر ٹرمپ کے دو سال کے دوران ’بہت زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی کے باوجود ایران آج ایک جوہری ہتھیار بنانے کے زیادہ قریب ہے۔

تو کیا آئندہ سال جنوری میں صدارت کا عہدہ سنبھالنے والے جو بائیڈن معاملات کو پرانے طریقے سے ہی حل کریں گے؟ اور امریکی سیاست کی صورتحال دیکھتے ہوئے کیا وہ ایسا کر بھی سکتے ہیں؟

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ میں ایرانی امور کی ماہر انیسے بسری تبریزی کہتی ہیں کہ ’اب لائحہ عمل انتہائی واضح ہے۔ مگر یہ آسان نہیں ہوگا۔‘

واپسی آسان نہیں‘

یہ کہنا درست ہوگا کہ اس حوالے سے کافی چیلنج ہیں۔

گذشتہ دو سالوں میں امریکہ کی جانب سے پابندیوں کا جو پیچیدہ جال بنایا گیا ہے، اس سے جو بائیڈن کے پاس کافی آپشنز آ جاتی ہیں، اگر وہ انھیں استعمال کرنا چاہیں۔ اب تک تو انھوں نے صرف ایران کی جانب سے موجودہ معاہدے کی مکمل پاسداری کا کہا ہے۔

جنوری میں انھوں نے لکھا تھا کہ تہران کو اس معاہدے کی پاسداری کی جانب لوٹ آنا چاہیے۔ مگر اب تو یہ بھی ایک چیلنج ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے سے نکل جانے کے بعد ایران نے خود پر لاگو شرائط میں بھی کمی کرنا شروع کر دی تھی۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے اپنی آخری سہ ماہی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کو جے سی پی او اے کے تحت کم سطح تک یورینیئم افزودگی کی جتنی مقدار کی اجازت ہے، اس نے اس سے بارہ گنا جمع کی ہے۔

اس کے علاوہ ایران نے اونچے درجے کی افزودگی کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ اس وقت 3.67 فیصد تک افزودگی کی اجازت ہے مگر ایران نے اس حد سے تجاوز کیا ہے۔

کم سطح کی یورینیئم افزودگی کا بنیادی استعمال غیر عسکری ہوتا ہے مثلاً پاور پلانٹ وغیرہ میں۔ تاہم اونچے ترین درجے کی افزودگی کے بعد یورینیئم جوہری ہتھیار کی تعمیر میں استعمال کی جاتی ہے۔ تاہم جوہری بم کے لیے درکار سطح کی افزودگی کے قریب نہ تو ایران ہے اور نہ ہی اطلاعات کے مطابق کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بظاہر یہ معاملات قدرے آسان ہیں۔۔۔ ایرانی حکام کہہ چکے ہیں کہ ایران کے وہ اقدامات جو جے سی پی او اے کے مطابق نہیں ہیں، انھیں روکا جا سکتا ہے۔ تاہم ایرانی تحقیق کو بالکل مٹایا نہیں جا سکتا۔

ایران کے آئی اے ای اے میں سابق سفیر علی اصغر سلطانی کا کہنا ہے کہ ’ہم پیچھے تو نہیں جا سکتے۔ ہم پوائنٹ اے سے پوائنٹ بی تک پہنچ رہے ہیں، اور اب ہم یہاں ہی ہیں۔‘

سیاسی دباؤ

مگر ایران، جو کہ ٹرمپ کا دباؤ برداشت کر چکا ہے، اس کے اپنے مطالبات ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب صرف پابندیوں کا ہٹایا جانا ہی کافی نہیں ہے۔ ایران ڈھائی سال کی معاشی تباہی کا ازالہ چاہتا ہے۔

A man checks currency exchange rates in Tehran, Iran (14 October 2020)

EPA

ایران کا اپنا صدارتی انتخاب اگلے سال جون میں ہونا ہیں اور ملک میں تبدیلی کے حامی اور قدامت پسند دونوں کیمپ سخت تر پوزیشن لے رہے ہیں۔

جیسے ایران کی معاشی صورتحال بگڑی ہے، صدر حسن روحانی کی مقبولیت گری ہے۔ مگر کیا جو بائیڈن پابندیوں میں نرمی کرکے روحانی کے الیکشن جیتنے کا امکان بڑھا سکتے ہیں؟

یونیورسٹی آف تہران میں سیاسیات کے پروفیسر ناصر ہدیان جیزی کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن کو عہدہ سنبھالنے سے پہلے اپنے عزائم واضح کرنے چاہئیں۔

|عوامی سطح پر ایک واضح پیغام کہ وہ جے سی پی او اے میں جلد واپس جانا چاہتے ہیں کافی ہوگا۔

’مگر ایسا نہ کرنے سے ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات خراب کرنے والوں کو غلط فہمیاں پیدا کرنے کا موقع مل جائے گا۔‘

Iranian President Hassan Rouhani speaks during a meeting in Tehran, Iran (8 November 2020)

EPA

مگر جو بائیڈن کے پاس خود آپشنز محدود ہوں گی۔ جے سی پی او اے کی امریکہ میں حمایت پارٹی لائنز میں منقسم ہے اور ریپبلکن پارٹی میں زیادہ تر لوگ اس کے خلاف ہیں۔

ریاست جارجیا کے سینیٹ انتخابات کے نتائج سینیٹ میں طاقت کا تعین کریں گے اور مستقبل کی بائیڈن انتظامیہ کے پاس کتنی جگہ ہوگی، اس بات کا بھی تعین کریں گے۔

نئے اتحاد

جے سی پی او اے صرف ایک دوطرفہ معاہدہ نہیں تھا۔ اس کے دیگر اراکین، روس، چین، فرانس، برطانیہ، جرمنی، یورپی یونین سبھی کسی نہ کسی حد تک اس کے مستقبل سے منسلک ہیں۔

خاص کر یورپی ممالک تو امریکہ کو واپس شامل کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اس معاہدے کو زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے اور اب واشنگٹن کی واپسی میں اپم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Iran's top nuclear negotiator Abbas Araqchi and Secretary General of the European External Action Service (EEAS) Helga Schmid attend a meeting of the JCPOA Joint Commission in Vienna, Austria (1 September 2020)

Reuters

تاہم ان ممالک کو احساس ہے کہ دنیا اب آگے چل چکی ہے اور بالکل ابتدا کی طرح امریکہ کی سادہ سی واپسی نہیں ہو سکتی۔

انیسے تبریزی کہتی ہیں کہ ’اب تو یورپی ممالک بھی جے سی پی او اے کے بعد اضافی معاہدے کی بات کر رہے ہیں۔‘

‘ایسی کسی بھی ممکنہ ڈیل میں ایران کے علاقائی اقدامات کو معاہدے میں لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے اور اس کے علاوہ ایران کے بلاسٹک میزائل بنانے کی کوششیں اور جوہری سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکتا ہے۔‘

اور حال ہی میں ممالک جنھوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے کہنے پر اسرائیل کو تسلیم کیا ہے ان کے لیے اسرائیل کے مفادات پر توجہ نہ دینا انتہائی مشکل ہوگا۔

حال ہی میں ایک سیمینار میں متحدہ عرب امارات کے واشنگٹن میں سفیر یوسف العطیبہ کا کہنا تھا کہ اگر آپ ہمارے خطے کی سلامتی پر مذاکرات کر رہے ہیں تو ہمارا ان میں شریک ہونا اہم ہے۔ ادھر اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ بھی ان مذاکرات میں شریک ہونا چاہتے ہیں۔

ادھر سعودی عرب کے شاہ سلمان نے بین الاقوامی برادری کی جانب سے ایران کے خلاف ایک واضح پوزیشن کا مطالبہ کیا ہے۔

جے سی پی او اے میں دوبارہ جان ڈالنا اور اس معاہدے کے مخالفین کے خدشات کا بھی خیال رکھنا آسان کام نہیں ہے۔ اور یہ نہ بھولیں کہ ٹرمپ کا دور ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے اپنے مشیران سے ایران کے جوہری مراکز پر حملہ کرنے کے بارے میں پوچھا تاہم بعد میں انھیں روک لیا گیا۔

اب سے لے کر جنوری تک وہ کیا کرتے ہیں، اس میں ان کی ایک نیت تو واضح ہے۔۔۔ جو بائیڈن کے لیے مشکل ترین حالات چھوڑ کر جاتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16578 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp