چائلڈ پورنوگرافی: عدالت کا سہیل ایاز کو پھانسی کی سزا دینے کا حکم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی ایک مقامی عدالت نے بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر پورنو گرافی کے ذریعے پیسہ کمانے والے بین الاقوامی ڈارک ویب سائٹ کے سرغنہ سہیل ایاز کو تین بار سزائے موت اور تین بار عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

بدھ کی شام ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر علی گوندل نے 47 سالہ مجرم سہیل ایاز کے خلاف دائر مقدمات کا فیصلہ سنایا۔

راولپنڈی پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق عدالت نے ٹھوس شواہد اورشہادتوں کی بنا پر ملزم سہیل ایاز کوجر م ثابت ہونے پرتین مقدمات میں مختلف دفعات پر تین بارسزائے موت،تین بار عمرقید، تین مرتبہ 10/10سال اور15/15سال قید، منشیات کے مقدمہ میں 5سال، 06 ماہ قید،15 لاکھ روپے جرمانہ اور متاثرہ بچوں کو پانچ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

مجرم کے ساتھی خرم طاہرعرف کالو کو07 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

خیال رہے نومبر 2019 میں تھانہ روات میں درج ایک مقدمے کی درخواست گزار خاتون نے پولیس کو بتایا تھا کہ ان کے تیرہ سالہ بچے کو جو قہوہ بیچتا تھا سہیل ایاز زبردستی اپنے گھر لے گئے اور رات کے وقت کوئی نشہ آور چیز دی۔

مقدمے کا فیصلہ آنے کے بعد پولیس کی جانب سے جاری تحریری بیان میں بتایا گیا کہ دوران تفتیش مجرم سہیل ایاز نے اپنے ساتھی خرم طاہرعرف کالو کے شریکِ جرم ہو نے کو اعتراف کیا جس پر روات پولیس نے مورخہ 14-11-2019کو ملزم خرم طاہرعرف کالو کوٹریس کرکے گرفتارکرلیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ’راولپنڈی پولیس نے سہیل ایاز کو گرفتار کرنے کے بعد اس کے زیر استعمال موبائل فونز،لیپ ٹاپ،ویڈیو کیمرہ اوردیگر سامان برآمد کرکے فرانزک لیبارٹری بھیجوایا،ملزم سے تفتیش کے دوران پونو گرافی کے لیے استعمال ہونے والی نشہ آورادویات،منشیات اورآئس وغیر ہ برآمد کرکے ملزم کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کیا گیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

فیصل آباد: بچوں سے جنسی زیادتی کے پانچ ملزمان گرفتار

زینب قتل کا ایک سال: ’قصور کے بچے آج بھی محفوظ نہیں‘

برطانیہ سے بھاگا ہوا جنسی مجرم پاکستان سے گرفتار

سہیل ایاز کون ہیں؟

سہیل ایاز ماضی میں برطانیہ اور اٹلی میں ایسے ہی جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود خیبر پختونِخوا کی صوبائی حکومت کے ایک منصوبے میں بطور مشیر کام کر رہے تھے۔

گذشتہ برس ان کے خلاف مقدمات درج ہونے کے بعد سی پی او راولپنڈی فیصل رانا نے بتایا کہ گرفتار ہونے والا شخص سہیل ایاز عرف علی بچوں سے جنسی زیادتی کر کے اُن کی ویڈیوز عالمی ڈارک ویب پر فروخت کرتا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ دورانِ تفتیش سہیل نے متعدد بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کیا۔ سی پی او کے بقول جنسی تشدد کا شکار ہونے والے بچوں کی عمریں ایک سال سے لے کر 17 سال کے درمیان تھیں۔

پولیس کے مطابق سہیل ایاز چارٹرڈ اکاؤٹنٹ تھے اور صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں سول سیکریٹیریٹ میں ملازم رہے۔ تاہم خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ملزم صوبائی حکومت کا ملازم تھا۔

ادھر پاکستان میں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ملزم کو خیبرپختونخوا حکومت نے کثیر الجہتی ٹاسک فورس کے منصوبوں کے لیے بطور مشیر نوکری پر رکھا تھا اور وہ عالمی بینک کا ملازم نہیں تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم ماضی میں برطانیہ میں ایک 14 سالہ بچے کے ریپ کے کیس میں چار سال قید کی سزا بھی کاٹ چکا ہے۔

گرفتاری کیسے عمل میں آئی تھی؟

سہیل ایاز کو گذشتہ برس ایک خاتون کے جانب سے ایف آئی آر درج کروائے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق اسلام آباد کے نواحی علاقے کی رہائشی ایک خاتون نے تھانہ روات میں درخواست دی تھی کہ ان کے 13 سال کا بیٹا رات کے وقت راولپنڈی کی ایک رہائشی سکیم میں ریڑھی لگاتا تھا۔

ملزم کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ چند روز قبل ملزم سہیل ایاز نے ان کے بیٹے کو اپنی گاڑی میں بٹھایا اور اپنے ساتھ لے گیا، جہاں وہ اسے نشہ آور چیزیں کھلا کر اسے چار روز تک جنسی تشدد کا نشانہ بناتا رہا۔

شکایت کے مطابق چار روز کے بعد سہیل ایاز نے جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے بچے کو دھمکی دی کہ اگر اُس نے اِس بارے میں کسی کو بتایا تو اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی جائے گی۔

سی پی او راولپنڈی کے مطابق سہیل ایاز گذشتہ چار سال سے بچوں کو اپنے گھر میں ہی لا کر اُنھیں نشہ آور اشیا کِھلا کر اُنھیں جنسی تشدد کا نشانہ بناتا رہا۔

بین الاقوامی گروہ سے تعلقات

سہیل ایاز کو 2009 میں ایک برطانوی عدالت نے ایک 14 سالہ بچے کے ریپ کے اعتراف کے بعد چار سال قید کی سزا سنائی تھی۔ سہیل نے عدالت میں اس بچے کی تصاویر تقسیم کرنے اور 397 دیگر غیر اخلاقی تصاویر اپنے پاس موجود ہونے کا بھی اعتراف کیا تھا۔

وہ بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی برطانوی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کے سابق ملازم ہیں۔

https://twitter.com/RwpPolice/status/1194160517574737920

سہیل کے تعلقات رومانیہ کے ایک بچوں سے زیادتی میں ملوث گینگ سے پائے گئے۔

سنہ 2008 میں برطانیہ میں ورک ویزا کے ذریعے داخل ہونے والے سہیل ایاز کو فروری 2009 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اٹلی کے شہر روم کی پولیس نے ایک بچوں سے زیادتی کرنے والے ایک اطالوی شخص کے خلاف تحقیقات شروع کیں۔

انھیں معلوم ہوا کہ سہیل نے اطالوی ملزم کو 15 رومانیئن بچوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں۔

سہیل مبینہ طور پر بچوں سے زیادتی کرنے والے ایک سوئیڈش شخص کے مڈل مین تھے جن کا کہنا تھا کہ وہ زیادتی کرنے کے لیے رومانیئن بچے فراہم کر سکتے ہیں۔

اطالوی پولیس نے برطانوی پولیس کو خبردار کیا جس کے بعد ان کے خلاف برطانیہ میں تحقیقات شروع ہوئیں۔

سہیل کے فلیٹ میں 2000 سے زائد غیر اخلاقی تصاویر اور ویڈیوز پائی گئیں جن میں نہایت کم عمر بچوں اور زیادتی کا نشانہ بنائے گئے بچوں کی تصاویر بھی شامل تھیں۔

پولیس حکام کے مطابق برطانوی حکومت نے سہیل ایاز کو جولائی 2009 میں اٹلی کی حکومت کے حوالے کیا تھا۔

مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ سہیل اٹلی میں بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کے مقدمات بھگت چکا ہے اور اٹلی سے بھی ملزم کو اسی جرم کے بعد ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16602 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp