کورونا وائرس کے اثرات: بے گھر امریکیوں کو مفت کھانا کھلانے والا پاکستانی مسیحا خود مشکل میں

خالد کرامت - بی بی سی اردو، لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قاضی منان
BBC
قاضی منان نے سکینہ گرل ریستوران 2013 میں کھولا تھا اور اُن کی خواہش تھی کہ وہاں سے ہر سال 16000 غریبوں کو مفت کھانا کھلائیں
یہ کہانی ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری کی ہے جس کی سخاوت اور مہمان نوازی نے سب کے دل موہ لیے اور ان کی سخاوت کی کہانی انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی۔

وہ امریکہ میں اپنے ریستوران سے روزانہ درجنوں ضرورت مند افراد کو مفت کھانا کھلاتے تھے۔ مگر کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے حالات اتنے خراب ہو گئے کہ ان کو اس ریستوران کو چلانے کے لیے دوسروں سے مدد مانگنی پڑی۔

واشنگٹن ڈی سی میں سکینہ حلال گرل نامی یہ ریستوران قاضی منان چلاتے ہیں اور یہ امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے چند بلاکس دور واقع ہے۔ قاضی منان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’جب ہم نے کاروبار شروع کیا تھا تو یہ سوچ کر کیا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کی طرح غریبوں کے لیے لنگر چلائیں گے۔‘

’میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ جو شخص روزانہ 70 سے 80 افراد کو مفت کھانا کھلاتا ہے اُسے دوستوں اور دوسروں سے مدد مانگنی پڑے گی تاکہ ریستوران کو جاری رکھا جا سکے۔‘

ان مشکل حالات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا پہلے میں دوسروں کو کھانا کھلا رہا تھا اور اب ایسی صورتحال آنے کو ہے کہ اپنے پاس بھی شاید کھانے کو نہ ہو۔‘

یہ بھی پڑھیے

‘میں شاید وائرس کے بجائے بھوک سے مر جاؤں’

’غریبوں کی مدد کے لیے انڈیا کو بہت زیادہ فراخدلی دکھانے کی ضرورت ہے‘

فلاڈیلفیا کی ایک دکان میں ضرورت مندوں کے لیے مفت پیزا

برطانوی بےگھروں کے لیے سکھوں کا لنگر

سکینہ حلال گرّل ریستوران

BBC
قاضی منان کا سکینہ گرل حلال ریستوران وائٹ ہاؤس سے چند بلاک دور واقع ہے

قاضی منان کے مطابق کاروبار اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہوا تھا جب پہلا لاک ڈاؤن ہوا اور مارچ سے جون تک انھیں اسے بند رکھنا پڑا۔ ان کے مطابق ریستوران میں پندرہ کے قریب ملازمین تھے جن کو کچھ ماہ تو ملازمت پر رکھا مگر پھر معاشی صورتحال کی وجہ سے انھیں تنخواہیں دینا ممکن نہ رہا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جون کے آخر میں جب ریستوران دوبارہ کھولا تو کاروبار بہت خراب تھا اور گزارا ممکن نہیں تھا۔ نومبر تک صورتحال اتنی خراب ہو چکی تھی کہ کاروباری اخراجات پورے کرنا ناممکن ہو گیا اور نوبت یہاں تک آ گئی کہ لگا اب ریستوران بند کرنا پڑے گا اور غریبوں اور بے گھر افراد کو مفت کھانا کھلانے کی مہم بند کرنا پڑی۔‘

قاضی منان

BBC
قاضی منان کو ان کے فلاحی کام کی وجہ سے متعدد اعزازات اور ایوارڈز سے نوازا گیا ہے

اس موقع پر قاضی منان نے عطیات جمع کرنے کے لیے گو فنڈ می اکاؤنٹ کھولا اور ڈھائی لاکھ ڈالر اکٹھا کرنے کی درخواست دی۔ قاضی منان کے اس ریستوران کا چرچا بہت لوگوں نے سن رکھا ہے اور ان کی کہانی انٹرنیٹ پر وائرل ہونے کے بعد بہت سے میڈیا اداروں نے ان کی مہم کے بارے میں رپورٹس بھی بنائیں تھیں۔

قاضی منان کی اپیل پر ان کے چاہنے والوں اور ان کی مہم کے حامی بہت سے افراد نے فوراً عطیات دیے۔

قاضی منان کے مطابق اس اپیل پر لوگوں نے دل کھول کر رقم دی اور بہت کم عرصے میں دو لاکھ ڈالر سے زیادہ جمع ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جو دنیا میں محبت بانٹی خدا نے وہ دگنی تگنی کر کے واپس کی۔‘

اب انھیں امید ہے کہ سکینہ حلال گرل ریستوران کی رونق ایک بار پھر بحال ہو گی اور وہ غربا کو مفت کھانا کھلانے کے کام کو دوبارہ شروع کر پائیں گے۔

قاضی منان کون ہیں اور وہ غریبوں کو مفت کھانا کیوں کھلاتے ہیں؟

واشنگٹن ڈی سی میں قائم سکینہ حلال گرل ریسٹورنٹ کے مالک قاضی منان کا تعلق پاکستان کے شہر جہلم سے ہے۔ وہ جہلم کے گاؤں گڑھی شریف سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی ابتدائی تعلیم جہلم سے حاصل کرنے کے بعد معمولی نوکریاں کرتے رہے۔ سنہ 1996 میں وہ نقل مکانی کر کے امریکہ آئے اور وہاں سکونت اختیار کی۔

امریکہ پہنچ کر انھوں نے پیٹرول سٹیشن پر نوکری شروع کی اور معمولی نوکریاں کر کے کچھ سرمایہ اکٹھا کیا اور امریکہ میں مقبول بڑی گاڑی لمو کی سروس شروع کی۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے قاضی منان نے بتایا کہ انھوں نے اپنے بچپن میں غربت دیکھی اور نقل مکانی نے جو مواقع دیے اس کے نتیجے میں انھوں نے دوسروں کی مدد کا عہد کیا۔

وہ جب صاحب استطاعت ہوئے تو وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایسے غربا اور بے گھر افراد جو دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے بھوکے رہیں۔ اسی لیے انھوں نے اپنے ریستوران کے دروازے معاشرے کے غریب افراد کے لیے کھول دیے اور غریبوں کو مفت کھانا دینے کی مہم چلائی۔

سکینہ حلال گرّل ریستوران

BBC
سکینہ گرل حلال ریستوران لاک ڈاؤن کے بعد دوبارہ کھلا لیکن گاہکوں کی کمی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہو گیا

قاضی منان نے بتایا کہ ’دوسروں کی خدمت کا یہ جذبہ مجھے میں اپنی والدہ سے منتقل ہوا ہے جو اکثر کھانے بنا کر دوسروں کو بھجوایا کرتی تھیں۔‘ قاضی منان کہتے ہیں کہ بچپن میں تو اُنھیں یہ بات سمجھ نہ آئی لیکن اپنی عملی زندگی میں قدم رکھنے پر اپنی والدہ کی اس عادت کے بارے میں صحیح اندازہ ہوا۔‘

گذشتہ برس بی بی سی سے بات کرتے ہوئے قاضی منان نے بتایا تھا کہ ’میں نے سنہ 2013 میں اپنا ریستوران اس امید کے ساتھ کھولا تھا کہ میں اس عظیم ملک میں لوگوں کے نظریات بدل سکوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اکثر بے گھر افراد کو دیکھتا تھا کہ وہ کیسے کچرے میں سے کھانا تلاش کر رہے ہوتے تھے اور یہ دیکھ کر مجھے بہت تکلیف ہوتی تھی۔ یہ صورتحال دیکھ کر میرا پورا دن دکھ میں گزرتا تھا اور مجھے اپنا بچپن یاد آ جاتا تھا جب میرے پاس بھی کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا۔ میں نے بچپن کے بہت سے شب و روز یہ تکلیف دیکھی تھی۔‘

اور یہی وہ تکلیف تھی تو جو قاضی منان کے دل میں معاشرے کے دھتکارے ہوئے لوگوں کی مدد کرنے کا جذبہ بنی۔ انھوں نے اپنے ریستوران کا نام اپنی والدہ سکینہ کی یاد میں رکھا ہے تاکہ ان کی ضرورت مندوں کو کھانا کھلانے کے جذبے کو برقرار رکھ سکیں۔ ان کا مشن تھا کہ وہ ہر سال 16 ہزار افراد کو مفت کھانا کھلائیں۔

مگر ایک کاروبار چلانے میں پیسے کی گٹھ جوڑ کرنی پڑتی ہے۔ منافع کمانا ہوتا ہے اور یوں غریبوں کو کھانا کھلانے سے کاروبار کو کوئی مالی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ الٹا نقصان ہوتا ہے۔ جب اس بارے میں قاضی منان سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے تو کوئی نقصان نظر نہیں آتا، مجھے تو لگتا ہے یہ سب کر کے میں بہت کچھ پا رہا ہوں۔‘

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے قاضی منان کا کہنا تھا کہ ’جب لوگوں نے ریستوران کے منصوبے کے بارے میں سنا تو سب کا خیال تھا کہ یہ چند ماہ سے زیادہ نہیں چل پائے گا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ اس ملک میں اتنے مواقع ہیں کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کر کے سب کی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں۔

سکینہ حلال گرل ریستوران سے مستفید ہونے والی ایک بے گھر خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میری خواہش ہے کہ اس دکان کے مالک کی طرح کے اور بھی لوگ ہوں۔ خدا ان کا بھلا کرے۔‘

جبکہ اس ریستوران سے کھانا کھانے والی ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ ’دوسرے لوگ تو اُنھیں اپنی دکان میں داخل تک نہیں ہونے دیتے۔ مگر قاضی منان بلا امتیاز ایسے ہی لوگوں کو مفت کھانا کھلاتے ہیں اور لاچار افراد کی مدد کرتے ہوئے ان سے کوئی سوال بھی نہیں پوچھتے۔‘

قاضی منان کا کہنا ہے کہ ان کے اس فلاحی کام پر انھیں عوامی سطح پر پچاس کے قریب اعزازت اور ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے جن میں سب سے قابل ذکر امریکی حکومت کی طرف سے ینگ ایمرجنگ لیڈر نیشنل کیریکٹر ایوارڈ اور مارٹن لوتھر کنگ فاؤنڈیشن کی جانب سے ایوارڈ شامل ہیں۔

کورونا وائرس کی وبا نے قاضی منان کی اس قابل ستائش مہم کو سخت نقصان پہنچایا لیکن ان ہی کی طرح معاشرے میں بسنے والے سخی اور ان سے محبت کرنے والے افراد نے اس مشکل وقت میں ان کی مدد کی تاکہ یہ فلاحی کام جاری رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16562 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp