عمران خان اور اشرف غنی کی ملاقات، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کیسے ممکن؟

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے جمعرات کو اپنا پہلا دورۂ افغانستان مکمل کیا جہاں انھوں نے صدر اشرف غنی سے ملاقات کی اور ’انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور قریبی تعاون بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا۔‘

سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق عمران خان اور اشرف غنی نے کابل میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ’افغانستان میں قیام امن اور استحکام کے لیے فوری اقدامات کے سلسلہ میں اپنے عزم کا اعادہ کیا۔‘

وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے ہمسایہ ملک افغانستان کے اس دورے پر مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی بحالی اور اختلافات کے خاتمے میں وقت درکار ہوگا لیکن یہ باہمی تعلقات کی بہتری کے لیے اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا عمران خان اپنے پہلے دورے میں افغانستان کے ساتھ بداعتمادی کی فضا کم کر سکیں گے؟

پاکستان، افغانستان مذاکرات: کیا اس سے مسائل حل ہوں گے؟

پاک-افغان سفارتی تعلقات میں اتنا تناؤ کیوں؟

خطے میں پائیدار امن پر زور

سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان، جو پہلی بار افغانستان کے دورے پر کابل آئے، نے دوطرفہ تعلقات، بین الافغان امن اور علاقائی اقتصادی ترقی کی بات کی ہے۔

اس پر بعض پاکستانی تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ پاکستان نے اپنے طور پر افغان امن کے لیے بہت کچھ کیا ہے اور اب افغانستان کو بھی ایسا ہی کچھ کرنا چاہیے۔

تجزیہ نگار امتیاز گل کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے ہی امریکہ اور طالبان کے درمیاں دوحا میں ’کامیاب مذاکرات‘ ہونے کے بعد امن معاہدے پر دستخط ہوئے۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے حالیہ دورہ افغانستان اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان شروع دن سے ہی افغانستان میں عدم تشدد کا حامی ہے اور وزیر اعظم کے افغانستان کے دورے سے طالبان کو یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ تشدد کا راستہ ترک کردیں۔

امتیاز گل کا کہنا تھا کہ اعتماد کے فقدان کو ایک جھٹکے میں ہی ختم یا کم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے فریقین کو ایسے اقدامات کرنا پڑتے ہیں جس سے دونوں کا ایک دوسرے پر اعتماد بحال ہو۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان نے گذشتہ چند روز کے دوران پاک افغان بارڈر پر پھنسے ہوئے ہزار کنٹینرز کو کلیئر کروایا ہے۔ ’پاکستانی حکومت نے افغان باشندوں کے لیے چھ ماہ کے ملٹی پل ویزے کا اجرا کیا ہے۔‘

امتیاز گل کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے معاہدے کے لیے سات راؤنڈز ہوچکے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ’افغانستان کا جھکاؤ انڈیا کی طرف زیادہ ہے اس لیے خطے میں پائیداد امن کے لیے تمام ملکوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘

’اختلافات کا خاتمہ، اعتماد کی بحالی ضروری‘

جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’ہم اعتماد سازی کے لیے افغان حکومت کی توقعات کو پورا کرنے میں مدد دیں گے۔‘

دوسری طرف افغان صدر اشرف غنی نے عمران خان کے دورے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کے دورے کو ’اعتماد اور تعاون میں اضافہ کے لیے اہم‘ قرار دیا۔

تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بہت سے معاملات میں اختلافات ہیں اور جب تک یہ ختم نہیں ہوں گے اس وقت تک تعلقات میں بہتری نہیں آئے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ ’پاکستانی حکام کی طرف سے حالیہ یہ بیان دیا گیا کہ پاکستان میں شدت پسندی کی وارداتوں کے لیے ’افغاستان کی سرزمین استمعال ہو رہی ہے‘ لیکن افغان حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔‘

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان انڈیا پر یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں شدت پسندی کی وارداتوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استمعال کرتا ہے۔ افغان حکومت سے بھی کہا گیا کہ وہ انڈیا کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکے۔ تاہم انڈیا اور افغانستان دونوں ایسے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ افغانستان نے تو آج تک پاکستان کے ساتھ لگنے والے بارڈر کو تسلیم نہیں کیا۔ ’افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے پاکستان کا دورہ کیا لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں کا ایک دوسرے پر اعتماد بحال نہیں ہوسکا۔‘

اُنھوں نے کہا کہ علاقے میں پائیداد امن اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے دونوں ملکوں کو اپنی کوششوں میں تیزی لانا ہوگی۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ اگلے سال فروری تک اپنے دو ہزار فوجی افغانستان سے نکال لے گا اور ایسے حالات میں امن کی خاطر دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہی ہے۔ ’دونوں ملکوں کے درمیان جتنی تجارت بڑھے گی، اس کا فائدہ دونوں ملکوں کی عوام کو ہوگا۔‘

اُنھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی واقع ہوسکتی ہے جس سے کسی حد تک عوام کو ریلیف ملے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’افغانستان چاہتا ہے کہ اس کی انڈیا کے ساتھ واہگہ بارڈر کے راستے تجارت ہو لیکن پاکستان ایسا کرنے کو تیار نہیں ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16555 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp