انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جنگلات کی اراضی پر نسل در نسل آباد قبائلیوں کے گھر کیوں مسمار کیے جا رہے ہیں؟

ریاض مسرور - بی بی سی اردو، سرینگر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’میں اپنے بچے کو دُودھ پلا رہی تھی کہ اچانک سینکڑوں گاڑیوں میں انتظامیہ اور پولیس کے اہلکار یہاں پہنچے اور لاٹھیوں اور کدالوں سے ہمارا گھر توڑنے لگے۔ بچے ڈر گئے۔ ہم سب خواتین رو رہی تھیں۔‘

یہ کہنا ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے قصبے پہلگام کی رہائشی نسیمہ اختر کا جن کا خاندان گذشتہ کئی عشروں سے جنگلات کی اراضی پر قائم کچے اور عارضی گھر (جنھیں مقامی طور پر کوٹھا کہا جاتا ہے) میں رہائش پذیر تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ کہاں کا انصاف ہے، کیا یہی ہے وہ وعدہ جو سرکار نے کیا تھا کہ اب خود مختاری ختم ہو گئی ہے اور اب خوشحالی ہو گی۔ سخت سردی میں جنگل کے بیچ ہم کدھر جائیں۔‘

نسیمہ اختر کا خاندان ان سینکڑوں قبائلی خاندانوں میں سے ایک ہے جو پہلگام کے مامل اور لِدرو جنگلات کی اراضی پر نسل در نسل آباد رہے ہیں۔ تاہم اب مقامی حکومت نے جنگلات کی اراضی پر آباد قبائلی خاندانوں کے عارضی گھروں کو مسمار کرنے کی مہم شروع کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آرٹیکل 370: کشمیری ہو، مکان خالی کر دو

’انڈیا معاملہ وہاں لے گیا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہے‘

آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ایک برس بعد کشمیری پنڈت کس حال میں ہیں؟

حکام کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر ہائی کورٹ کی طرف سے باقاعدہ ہدایات جاری کی گئیں تھیں کہ قصبے کے جنگلات میں اڑھائی ہزار کنال سے زیادہ اراضی پر ناجائز قبصہ اور ناجائز تجاوزات کو ہٹایا جائے۔

عارضی مکانوں کے منہدم ہونے کے بعد سینکڑوں خاندان اب سخت سردی اور جنگلی جانوروں سے محفوظ رہنے کے لیے در در بھٹک رہے ہیں۔

لِدرو جنگل میں اسی مسماری مہم کی وجہ سے اپنا کوٹھا (کچا مکان) کھونے والے عبدالعزیز کھٹانا کہتے ہیں ’ہمیں قانون کے بارے میں کچھ نہیں معلوم، لیکن یہ کوٹھا میرے پردادا نے تعمیر کیا تھا، ہم تو پانچ نسلوں سے یہاں رہ رہے ہیں، اچانک ہمارے غیرقانونی کیسے ہو گئے؟‘

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی نیم خودمختاری ختم کرنے کے بعد جب یہ خدشات زور پکڑنے لگے کہ فلسطینیوں کی طرح یہاں لوگوں کو بے گھر کیا جائے گا تو انڈین حکومت نے بارہا ان خدشات کی تردید کی تھی۔ لیکن آرٹیکل 370 کے خاتمے کے فیصلے کے بعد مسلسل نئے قوانین نافذ ہوئے اور نئے اعلانات کیے گئے۔

ابھی زمینوں کی ملکیت سے متعلق قانون پر سماجی اور سیاسی حلقے اظہار ناراضی کر رہے تھے کہ حکومت نے جنگلات کی اراضی پر آباد قبائلی خاندانوں کے عارضی گھروں کو مسمار کرنے کی مہم شروع کر دی۔ باظاہر یہ سب وفاقی قانون فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت کیا جا رہا ہے، لیکن کشمیر میں اس حوالے سے کافی ناراضگی پائی جاتی ہے۔

جنوبی ضلع اننت ناگ کے علاقے پہلگام میں جاری اس مہم سے سینکڑوں گجر اور بکروال خاندان بے گھر ہو رہے ہیں۔

کوٹھے کہلانے والے یہ عارضی گھر اب ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، متاثرین جگہ جگہ مظاہرہ کر کے اپنی رُودار حکام تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ حیران ہیں کہ حکومت نے اچانک مسماری مہم کیوں چلائی۔

قبائلی لیڈر محمدیوسف گورسی کہتے ہیں کہ ’کشمیر خودمختار تھا تو دلی کے قوانین یہاں لاگو نہیں ہوتے تھے، لیکن جس فاریسٹ رائٹس ایکٹ کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ سنہ 2006 میں بنایا گیا۔ گجر اور بکروال آبادی ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے پہلگام، گلمرگ اور سونہ مرگ کے جنگلات میں آباد ہیں۔ ہم سمجھ نہیں پا رہے کہ اس مسماری مہم کے پیچھے اصل مقاصد کیا ہیں۔‘

یہ کوٹھے اُن لاکھوں گجر اور بکروال کشمیریوں کے ہیں جو بھیڑ بکریاں چراتے ہیں اور ہمالیائی سلسلے کے دونوں طرف ہر سال دو بار ہجرت کرتے ہیں۔

سابق وزیر اور نیشنل کانفرنس کے رہنما میاں الطاف حکومت کی مسماری مہم کو غیر قانونی سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’فاریسٹ ایکٹ کے تحت جنگلات کی اراضی پر آباد لوگ جنگلات کے ایکو سسٹم کا حصہ ہیں۔ حکومت نے خود اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات کے ذریعہ یہ اعلان کیا ہے کہ جنگلوں میں آباد قبائلی کشمیریوں کو تیس کنال اراضی کی ملکیت دی جائے گی اور جنگلی پیداوار کے مالک ہوں گے۔ اگر واقعی قانون کی بات ہے تو حکومت سراسر غیرقانونی کام کر رہی ہے۔‘

پہلگام کے عام باشندے بھی اس فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ محمد رفیع نامی رہائشی کہتے ہیں کہ غیرقبائلی باشندے اپنے قبائلی باشندوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔’حکومت کہتی تھی غربت ختم کریں گے، لیکن صاف لگ رہا ہے کہ غریبوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔’

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پہلگام ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ مشتاق سمنانی کا کہنا تھا کہ وہ محض قانون کو نافذ کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ ’ہم صرف گجر اور بکروال لوگوں کے مکانات نہیں گرا رہے ہیں، جنگلات کی اراضی پر جو بھی ناجائز تعمیرات ہیں انھیں ہٹانے کا حکم ہے۔ ہم نے بعض ہوٹل اور ہٹس بھی مسمار کیے ہیں۔‘

جنگلات کی اراضی پر حقوق سے متعلق انڈین قانون کا پہلے کشمیر پر اطلاق نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر بھی خودبخود اس قانون کے زمرے میں آ چکا ہے۔

مقامی لوگوں کو اب خدشہ ہے کہ کہیں مکانوں کی مسمساری اُسی عمل کی شروعات تو نہیں جو اسرائیل نے فلسطین میں بہت پہلے شروع کیا تھا۔ مورخ اور تجزیہ نگار پی جی رسول کہتے ہیں کہ ’پورے ہندوستان میں گجر لوگ آباد ہیں، ایسا نہیں کہ صرف مسلمان گجر ہیں، ہندو بھی گجر اور قبائلی ذاتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔‘

انڈیا میں گجروں کی آبادی ساڑھے سات لاکھ سے بھی زیادہ ہے اور درجہ فہرست ذاتوں اور قبائل میں گجروں کی شرح ستّر فیصد ہے۔ جب دفعہ 370 ہٹایا گیا تو لوگوں نے کھل کر کہا تھا کہ اب لوگوں کو بے گھر کیا جائے گا، اس پر انڈین حکومت نے وضاحت کی تھی کہ لوگ افواہوں پر کان نہ دھریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16555 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp