حویلیاں پی کے 661 طیارہ حادثہ: کیا تکنیکی خرابی میں انسانی غلطی کو خارج از امکان قرار دیا جا سکتا ہے؟

شجاع ملک - بی بی سی اردو، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تصویر
Getty Images
پاکستان میں شعبہ ہوا بازی کے نگراں ادارے، سول ایوی ایشن اتھارٹی، کا کہنا ہے کہ دسمبر 2016 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی پرواز 'پی کے 661' کو پیش آنے والا حادثہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور یہی وجہ ہے کہ اس حادثے کی تفتیش میں لگ بھگ چار سال کا عرصہ لگا۔

اس حادثے کی تفتیش میں چار برس کا عرصہ لگنے کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں سول ایوی ایشن کے ترجمان عبدالستار کھوکھر نے بتایا کہ ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بورڈ کے صدر کے خیال میں ‘یہ ایک ایسا حادثہ تھا جس کی کوئی مثال نہیں تھی کیونکہ اس نوعیت کا حادثہ پہلے کبھی نہیں ہوا، یہی وجہ تھی کہ اس حادثے کی تفتیش کافی تفصیل کے ساتھ کرنی پڑی کیونکہ یہ ایسی وجوہات تھیں جو کہ پہلے معلوم نہیں تھیں۔’

اگرچہ سول ایوی ایشن حکام نے سندھ ہائی کورٹ میں اس حادثے کے حوالے سے جمع کروائی گئی کریش انویسٹیگیشن رپورٹ میں تین تکنیکی وجوہات کو حادثے کی وجہ قرار دیا ہے تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فضائی حادثوں کے ایک تفتیش کار کا کہنا ہے کہ جب بھی طیارے میں کوئی تکنیکی مسئلہ پیش آتا ہے یا کوئی پرزہ خراب ہوتا ہے تو اس کے پیچھے بھی انسانی غلطی ہو سکتی ہے اور اسے خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

یاد رہے کہ دسمبر 2016 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کا مسافر بردار طیارہ ‘پی کے 661’ صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’صرف ایک بچے کا بازو سلامت تھا‘

حویلیاں کے قریب پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ

پاکستان میں ہونے والے فضائی حادثات کی تاریخ

لگ بھگ چار برس قبل پیش آئے اس حادثے میں طیارے پر سوار مسافروں سمیت عملے کے 48 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں پاکستان کے معروف گلوکار اور نعت خواں جنید جمشید بھی شامل تھے۔

یہ ایک دو انجنوں والا اے ٹی آر طیارہ تھا جس نے چترال سے اڑان بھری مگر منزل پر پہنچنے سے کچھ دیر قبل حویلیاں میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

حادثے کی تفتیشی رپورٹ میں اس طیارے کے گرنے کی تین تکنیکی وجوہات تھیں جن میں انسانی غلطی شامل نہیں تھی۔

حادثے کی تین وجوہات

رپورٹ کے مطابق یہ طیارہ تین وجوہات کی بنا پر حادثے کا شکار ہوا۔ سب سے پہلی وجہ انجن نمبر ایک کے پاور ٹربائن کے ایک بلیڈ میں فریکچر، دوسری وجہ طیارے کے اوور سپیڈ گورنر کے اندر ایک پن کا فریکچر اور تیسری وجہ ممکنہ طور پر پروپیلر والوو موڈیول کے اندر پہلے سے موجود گندگی بتائی گئی ہے۔

سی اے اے کے ترجمان عبد الستار کھوکھر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ وہ مسائل ہیں جو کہ پری فائلٹ چیکس کا حصہ نہیں ہوتے اور خرابیاں پرواز سے پہلے کی جانے والی چیکنگ میں پنہاں تھیں۔

عبد الستار کھوکھر نے کہا کہ سی اے اے سمیت ایئر لائنز کو سخت تر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات پیش نہ آئیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ حادثہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آیا نہ کہ انسانی غلطی کی وجہ سے۔

اے ٹی آر

AFP

رپورٹ آنے میں تاخیر پر عبد الستار کھوکھر کا کہنا تھا کہ یہ جہاز فرانس ساختہ ہے، پروپیلر (یعنی انجن کے گھومنے والے پر) کینیڈا کا بنا ہوا ہے جبکہ انجن امریکہ کا بنا ہوا ہے، ان سب پرزوں کو بنانے والی کمپنیوں سے رابطہ کرنے میں وقت لگا جبکہ کورونا وائرس کی وجہ سے بھی تین چار مہینے کی تاخیر ہوئی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک نجی کمپنی کے پائلٹ اور فضائی حادثوں کے تفتیش کار نوشاد انجم کا کہنا تھا کہ ہمیں اس تفتیش میں اس سے زیادہ تفصیل میں جانا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی تکنیکی مسئلہ پیش آتا ہے یا کوئی پرزہ خراب ہوتا ہے تو اس کے پیچھے بھی انسانی غلطی ہو سکتی ہے۔

نوشاد انجم کا کہنا تھا کہ سوال یہ بنتا ہے کہ کیا ان پرزوں کی انسپیکشن یعنی معائنہ صحیح انداز میں کی گئی تھی کہ نہیں؟ انھوں نے بتایا کہ ہر طیارے کی کم از کم تین قسم کی انسپیکشنز ہوتی ہیں۔

پہلی ٹرانزٹ انسپکشن جو کہ مختلف پروازوں کے درمیان کی جاتی ہے اور یہ بالکل سطحی قسم کی ہوتی ہے۔ یعنی اگر طیارہ اسلام آباد سے گلگت گیا ہے اور وہ گلگت ہوائی اڈے پر کھڑا ہے، تو اسلام اباد واپس آنے سے پہلے وہاں ایک جائزہ لیا جائے گا۔

اس کے علاوہ ڈیلی انسپکشن ہوتی ہے جو کہ ہر 24 سے 36 گھنٹوں کے دوران کی جاتی ہے اور وہ قدرے تفصیلی ہوتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ تیسری انسپیکشن ہفتہ وار بنیادوں پر ہوتی ہے۔ نوشاد انجم کے مطابق ہر جہاز کی ہفتہ وار اور روزانہ کی انسپیکشن کی لسٹ مختلف ہوتی ہے جبکہ اس کے علاوہ انجن کی اپنی انسپیکشن بھی ہوتی ہے جو کہ اس بنیاد پر ہوتی ہے کہ انجن کتنے گھنٹے چل چکا ہے۔

pia

BBC

ان کا کہنا تھا کہ طیارے کا جو پر فریکچر ہوا ہے وہ کسی نہ کسی انسپیکشن کا حصہ ضرور ہو گا اور فالٹ کے لیے چیک ہوا ہو گا۔ تاہم نوشاد انجم کا کہنا تھا کہ اہم سوال یہ ہے کہ یہ تکنیکی خرابی کیوں پیدا ہوئی؟

انھوں نے کہا کہ ‘فریکچر کا مائکرو سکوپک تجزیہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آ سکتی ہے کہ یہ فریکچر کتنا پرانا تھا۔’

نوشاد انجم نے بتایا کہ اکثر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ انسپکشن تو ٹھیک ہوئی تھی مگر طیارے کے ٹیک آف کرنے کے دوران رن وے پر کوئی نٹ یا بولٹ گرا ہوا تھا جو کہ آ کر پروپیلر کو لگا اور وہ فریکچر ہو گیا۔ ‘ایسا ممکن ہے تاہم اس کا امکان انتہائی کم ہے۔’

بتائی گئی دوسری وجہ اوور سپیڈ گورنرکے اندر کسی پن کا خراب ہونا تھا۔ نوشاد انجم کا کہنا ہے کہ جن غیر ملکی کمپنیوں نے اس رپورٹ میں سی اے اے کی تفتیش کے ساتھ اتفاق کیا ہے انھوں نے یہ ضرور نشاندہی کی ہو گی کہ یہ پن کسی انسانی مینٹیننس کی غلطی کی وجہ سے خراب ہوئی۔ ‘وہ یہ کبھی نہیں کہیں گے کہ ہماری چیز خراب تھی، اور ایسا ہو بھی نہیں سکتا۔’

نوشاد انجم کا کہنا تھا کہ ‘پی آئی اے میں جو انجینیئر ہیں جو انتہائی باصلاحیت ہیں مگر جس بات سے مسئلہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ دیگر ایئر لائنز میں کچھ پرزے جو کہ اپنی مدت استعمال کی بالائی حد کو پہنچ جاتے ہیں تو اچھی ایئر لائنز انھیں تبدیل کردیتے ہیں۔ مگر کبھی کبھی ایئر لائنز پیسہ بچانے کے لیے اور دیگر مالیاتی وجوہات کی بنا پر، جن میں مالیاتی بدعنوانی بھی شامل ہوتی ہے، وہ اس پرزے کو حد سے زیادہ چلاتے رہتے ہیں اور پرزے کے استعمال کی اجازت دیتے رہتے ہیں۔’

نوشاد انجم یہ کہتے ہیں کہ جو پروکیورمنٹ سٹیج پر بڑے افسران بیٹھتے ہیں جو پرزوں کے آرڈر کرتے ہیں، جو یہ فیصلے کرتے ہیں کہ کون سا پرزا خریدنا ہے، وہ اجازت دے دیتے ہیں کہ چلیں اس پرزے کو دس گھنٹے اور چلا لیں یا بیس گھنٹے چلا لیں۔

نوشاد انجم کے مطابق ‘پریشان کن بات یہ ہے کہ اس طرح کی خرابیوں کی رپورٹیں اور بھی طیاروں میں ہوں گی۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16562 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp