اے تو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تو (حصہ اول)۔

             گرمیوں کی شکر دوپہر تھی۔ طویل دن کٹنے کا نام نہیں لیتے تھے۔ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ان کی بیٹھک میں بیٹھا تھا۔ اور اس کے ساتھ بیٹھنا معمول تھا تو ایسے تعلق میں خاموشی کے طویل وقفے بھی ملاقات کا حصہ ہی تصور ہوتے ہیں۔ موبائل تب نہیں آئے تھے کہ خاموشی کے وقفے ان پر صرف ہوں۔ اس دوران سر پیچھے کی جانب کرسی پر ٹیک لگا کر آنکھیں موند لی جاتیں اور خیالات میں … Continue reading اے تو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تو (حصہ اول)۔