’انٹرنیٹ کی نگرانی سے متعلق ’نئے قواعد‘: سے ’حکومت کو ناقدین کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں سہولت ہو گی‘

محمد صہیب - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے بدھ کو انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے مواد پر پابندی سے متعلق نئے قواعد جاری کیے گئے جن میں ’پاکستان کی ساکھ، سکیورٹی اور دفاع‘ کی اصطلاح سے متعلق ’متنازع‘ تشریح سمیت دیگر قواعد پر ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ان قواعد کا مقصد انٹرنیٹ سے مواد ہٹانے یا اس بلاک کرنے سے متعلق طریقہ کار وضع کرنا ہے اور انھیں اس سال فروری میں سب سے پہلے پیش کیا گیا تھا۔

نئے قواعد کی ایک شق کے مطابق پی ٹی اے ایسے کسی بھی مواد کو ہٹانے کا مجاز ہو گا جو ’وفاقی و صوبائی حکومت اور سرکاری ملازمین کے خلاف نفرت یا بد اندیشی پھیلائے، یا ان کی ساکھ کو نقصان پہنچائے۔‘

دیگر تشریحات جیسے ’بدامنی‘ کی اصطلاح کی تشریح میں مواد کے ’جھوٹ پر مبنی‘ ہونے کی شرط موجود ہے لیکن ’پاکستان کی ساکھ، سکیورٹی اور دفاع‘ کی تشریح میں اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔

پاکستان میں میڈیا کے حقوق و آزادی سے متعلق کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی شریک بانی صدف خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیکشن اس لیے زیادہ پریشان کن ہے کیونکہ اس میں اس بات کی تفریق نہیں کی گئی کہ آیا یہ مواد جھوٹ پر مبنی ہو گا تب ہی اسے ہٹایا جائے گا یا پھر حقائق پر مبنی مواد یا کسی کی ذاتی رائے بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔

’ ان قواعد کے تحت اگر حکومت پر کسی بھی قسم کی تنقید کی جائے گی تو چاہے وہ حقائق پر مبنی ہی کیوں نہ ہو ایسے مواد کو ہٹایا جا سکے گا۔ یعنی کرپشن، بد انتظامی اور مخالفین کی جانب سے کی گئی تنقید کو بھی غیر قانونی مواد سمجھا جائے گا۔‘

کے نام سے پیش کیے گئے ان قواعد کے بارے میں وکیل عمر گیلانی نے کہا کہ ’جن الفاظ میں اس اصطلاح کی تعریف کی گئی ہے وہ بہرحال مبہم ہیں اور ان سے حکومت کو اپنے ناقدین کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں سہولت ہو گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ضمن میں تشریح کرنے کا حق صرف پارلیمان کے پاس ہے اور قواعد کے ذریعے قانون میں اضافے نہیں کیے جا سکتے۔

انٹرنیٹ پر مواد پر پابندی سے متعلق نئے قواعد میں مختلف کیا ہے؟

یاد رہے کہ سنہ 2019 میں جب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) کی جانب سے جب سیاسی جماعت عوامی ورکرز پارٹی کی ویب سائٹ کو بلاک کیا گیا تو انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور جسٹس اطہر من اللہ نے اس ویب سائٹ پر سے پابندی ہٹاتے ہوئے قواعد بنا کر طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

رواں برس فروری میں ان قواعد کا مسودہ پیش کیا گیا تھا تاہم ان پر تنقید کی وجہ سے انھیں واپس لے لیا گیا تھا اور حکومت کی جانب سے موقف تھا کہ وہ تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر اس کا از سر نو جائزہ لے گی۔

اس مرتبہ شائع ہونے والے قواعد کو ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سمیت اکثر وکلا نے سیکشن 37 کے دائرہ کار سے بھی باہر قرار دیا ہے اور ان میں کی گئی تشریحات پر تشویشں کا اظہار کیا ہے۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے وکیل عمر گیلانی کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے کے پاس انٹرنیٹ پر سے مواد بلاک یا ہٹانے سے متعلق پہلے ہی اختیار موجود تھا تاہم ان قواعد کے ذریعے ایک طریقہ کار وضع کر دیا گیا ہے۔

’اس سے پہلے کوئی سرکاری ادارہ یا کسی بھی شخص کی درخواست پر مواد ہٹا دیا جاتا تھا یا کسی پلیٹ فارم پر کوئی ٹھوس وجہ بتائے بغیر پابندی عائد کر دی جاتی تھی۔‘

تاہم اب جس شخص کے خلاف شکایت کی جائے گی اسے نوٹس جاری کرنے اور سننے کے بعد ہی اس مواد پر پابندی عائد کی جا سکے گی اور مواد کو بلاک کرنے کا ایک فیصلہ بھی دیا جائے گا جس میں وجوہات پیش کی جائیں گی اور اس پر نظر ثانی یا اپیل کی جا سکے گی۔

عمر گیلانی کے مطابق یہاں تک تو یہ ایک خوش آئند بات ہے تاہم اس میں کچھ ایسے قواعد شامل ہیں جو پیکا کے سیکشن 37 میں بھی موجود نہیں تھے۔

ان قواعد میں پانچ لاکھ سے زیادہ پاکستانی صارفین والی سوشل میڈیا کمپنیوں کو نو ماہ کے اندر پاکستان میں دفتر قائم کرنے، اور 18 ماہ کے اندر یہاں اپنا ڈیٹا بینک قائم کرنے اور ساتھ ہی ایک نمائندہ خصوصی تعینات کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔

اسی طرح آئی ایس پیز اور سوشل میڈیا کمپنیوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد کر دی گئی ہے کہ وہ مواد کی نگرانی کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ ’غیرقانونی‘ مواد کی نشر و اشاعت نہ ہو۔

ان سوشل میڈیا کمپنیوں اور آئی یس پیز کو اس سے قبل اس بات سے استثنی حاصل تھا اور وہ اپنے قواعد کے تحت ہی مواد کی کو ہٹانے کے بارے میں فیصلے کرتے تھے۔

اس کے ساتھ ہی یہ قواعد پی ٹی اے کو سوشل میڈیا کمپنیوں پر 50 کروڑ روپے تک کا جرمانہ عائد کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

وکیل عمر گیلانی کا کہنا تھا کہ ’قواعد کے ذریعے جرمانے عائد کرنا یا موجودہ قانون میں اضافے کرنا ایک غیر آئینی عمل ہے اور اس کا اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہے۔‘

’سینسرشپ کی نجکاری‘

سوشل میڈیا کمپنیوں اور آئی ایس پیز کو مواد کی نگرانی کرنے اور انھیں ہٹانے کی ذمہ داری دینے کو ڈیجیٹل حقوق کے کارکنان کی جانب سے ’سینسرشپ کی نجکاری‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔

ان قواعد کے مطابق کمپنیوں کو مواد کی جارحانہ نگرانی کرنے کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور کہا گیا ہے اور ان سے ایک ایسا نظام ترتیب دینے کا کہا جا رہا ہے جس کے ذریعے مواد کو آن لائن آنے سے پہلے ہی روک دیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ سنسرشپ کی نجکاری کی ایک خطرناک کوشش ہے، حکومت کیسے نجی کمپنیوں کو یہ اختیار دے سکتی ہے۔‘

نہ صرف یہ بلکہ ان نئے قواعد میں ذاتی معلومات اور مواد کی رازداری سے متعلق بھی خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

ان قواعد میں کمپنیوں کو بلاک کیے گئے مواد کو محفوظ رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ اس کا استعمال کون کرے گا اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔

ڈیجیٹل رائٹس کے کارکنان نے کہا کہ حکومت یہ چاہتی ہے کہ ان کمپنیوں کو مواد ہٹانے کے لیے اختیار دیا جائے لیکن وہ ایسا حکومتی قواعد کے مطابق کریں۔

صدف کا کہنا تھا کی خواتین سے متعلق مواد کے سیکشن کو بھی ’پاکستان کی ساکھ، سکیورٹی اور دفاع‘ کا حصہ بنایا گیا حالانکہ پیکا میں الگ سے اس کی تشریح بھی کی گئی ہے اور اس پر دی جانے والی سزائیں بھی سخت ہیں۔

پاکستان کی انٹرنیٹ سے جڑی معیشت پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟

ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ایک اتحاد ایشیا کولیشن کمیشن (اے آئی سی) کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ ان نئے قواعد کے باعث پاکستان کی انٹرنیٹ سے جڑی معیشت یعنی ڈیجیٹل اکانومی ’بند ہو سکتی ہے۔‘

اے آئی سی کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان قواعد کے باعث ’لوگوں کی انٹرنیٹ تک مفت اور یکساں رسائی مشکل ہو جائے گی جس کے باعث پاکستان کی ڈیجیٹل اکانومی باقی دنیا سے کٹ کر رہ جائے گی۔‘

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اگر پاکستان چاہتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے ایک پرکشش ملک بنے اور ڈیجیٹل شعبے میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو اسے صنعت کے ساتھ مل کر واضح قواعد وضع کرنے چاہئیں جس سے انٹرنیٹ کی افادیت کو محفوظ رکھنے اور لوگوں کو مسائل سے بچانے میں مدد ملے۔‘

انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (اسپاک) نے بھی ان قواعد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان قواعد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

صدف کا کہنا تھا کہ اکثر انٹرنیٹ سے جڑی کمپنیوں کے لیے ان قواعد پر عمل کرنا ممکن نہیں ہو گا اور اگر حکومت کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو یقیناً یہ ملک کی ڈیجیٹل اکانومی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کمپنیوں سے اپنا ڈیٹا بینک پاکستان منتقل کرنے کی شرط بھی سمجھ سے باہر ہے کیونکہ اے آئی سی پہلے ہی اس بارے میں تحفظات کا اظہار کر چکی ہے اور بصورت دیگر یہاں موجود کمپنیوں کے بیرون ملک منتقل ہونے کے بارے میں بھی بات کر چکی ہیں۔

’پاکستان میں رواں ہفتے ہی دو دن کے لیے موبائل سروس بند کی گئی تھی ایسے میں بین الاقوامی سوشل میڈیا کمپنیاں جو صرف پاکستان سے ہی جڑی ہوئی نہیں ہوتیں ان کے لیے ڈیٹا بینک یہاں منتقل کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16635 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp