پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ ماڈل، پاکستان کے لیے سود مند یا نقصان دہ؟

تنویر ملک - صحافی، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے صوبہ سندھ میں حیدرآباد سے میرپورخاص تک خستہ حال سڑک دونوں شہروں کے درمیان سفر کرنے والوں کے لیے عذاب بنی ہوئی تھی۔ سندھ کے ان دو شہروں کے درمیان تقریباً ساٹھ کلومیٹر کا سفر کئی گھنٹوں میں طے ہوتا تھا۔

تاہم چند سال قبل اس خستہ حال سڑک کے بجائے دو رویہ سڑک پر گاڑیاں تیز رفتاری سے سفر کرتے ہوئے ساٹھ کلومیٹر کے سفر کو ایک گھنٹے سے کم وقت میں طے کرتی نظر آئیں۔

حیدرآباد اور میر پورخاص کے درمیان بننے والی نئی دو رویہ سڑک سندھ حکومت نے نجی شعبے کے تعاون سے بنائی۔

اس منصوبے کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت بنایا گیا ہے۔ صوبہ سندھ میں حکمران جماعت اس ماڈل کے تحت تعمیر کی جانے والی اس سڑک کو پی پی پی ماڈل کی ایک بہترین مثال قرار دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’حکمرانوں کی مفاد پرستی نے کراچی کا کیا حشر کر دیا‘

پاکستان میں ’منی بجٹ‘، ترقیاتی اخراجات میں کمی

ترقیاتی فنڈز پر تحریکِ انصاف کے اراکین ناراض کیوں؟

پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل ہے کیا؟

پاکستان میں دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبتاً یہ ایک نیا تصور ہے، جس کے تحت انفراسٹرکچر اور سماجی شعبوں میں منصوبوں کی تکمیل کی جاتی ہوتی ہے۔

پاکستان میں وفاق اور صوبوں کی سطح پر پی پی پی ماڈل کے تحت کچھ منصوبے مکمل ہو چکے اور کچھ پر کام جاری ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں مالی وسائل کی کمی کا شکار ہونے کی وجہ سے پی پی پی ماڈل کے تحت منصوبے بنانا چاہتی ہیں۔

پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ یعنی پی پی پی ماڈل کس طرح کام کرتا ہے کہ بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستان میں پائیدار ترقی سے متعلق کام کرنے والے ادارے (ایس ڈی پی آئی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے بتایا کہ یہ ماڈل مختلف طریقوں سے کام کرتا ہے۔

ایک طریقہ تو ہے کہ حکومت کوئی منصوبہ مکمل کرتی ہے اور اس کا انتظام پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کر دیتی ہے کہ وہ اسے چلائے۔

دوسرے طریقے کے تحت پرائیوٹ سیکٹر ایک منصوبے میں پیسہ لگاتا ہے اور اس کا انتظام حکومت کے حوالے کر دیتا ہے یا پھر اس پیسے کی وصولی تک خود چلا کر اسے پھر حکومت کے حوالے کر دیتا ہے۔

ڈاکٹر سلہری نے کہا اس ماڈل کےتحت کچھ منصوبے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن میں حکومتی اور نجی شعبہ دونوں مل کر کام کرتے ہیں۔

ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اس سلسلے میں بتایا کہ اس ماڈل کے بہت سے پہلو ہیں کہ جس میں پرائیوٹ سیکٹر فناننسگ سے لے کر انتظام سنبھال سکتا ہے اور بعض معاملات میں تو حکومت ان منصوبوں کو بھی ان کے حوالے کر دیتی ہے جو کچھ عرصہ حکومتی نگرانی میں چلنے کے باوجود کارکردگی نہیں دکھاتے۔

انھوں نے کہا کہ اس ماڈل کے تحت انفراسٹرکچر کے شعبے سے لے کر سماجی شعبوں یعنی تعلیم اور صحت وغیرہ میں منصوبوں کو مکمل کر کے ان کا انتظام چلایا جاتا ہے۔

کراچی

Getty Images

یہ ماڈل ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتا

سندھ حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی تخفیف غربت حکمت عملی کے اسٹرٹیجک ایڈوائزر ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ سندھ میں صحت کے شعبے میں غیر سرکاری تنظیم کو رورل ہیلتھ سنٹرز کا انتظام دینے کا تجربہ کامیاب نہیں ہوا۔

ان کے مطابق اپنی ٹیم کے ساتھ جب انھوں نے مختلف رورل سنٹرز کا دورہ کیا تو وہاں کے حالات اچھے نہیں نظر آئے۔

ڈاکٹر، ادویات اور علاج معالجے کی سہولیات کے لحاظ سے ان سنٹرز کے حالات اچھے نہیں تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ایک سال پہلے ان سنٹرز کی جو بد تر حالت تھی وہ آج بھی برقرار ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اسی طرح انفراسٹرکچر کے شعبے میں حیدرآباد سے ضلع ٹنڈو محمد خان کے درمیان سٹرک کو پہلے پی پی پی ماڈل بنانے کا منصوبہ بنایا گیا۔

تاہم منصوبے کی ’فیزیبلٹی سٹڈی‘ مکمل ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ اس میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جب کہ اس روڈ پر ٹریفک کا بہاؤ اتنا زیادہ نہیں کہ پرائیوٹ سیکٹر کی جانب سے لگائی جانے والی رقم اسے منافع کے ساتھ واپس کی جا سکے۔

حکومت سندھ نے بعد میں اس منصوبے کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ ماڈل کی تحت بنانے کا منصوبہ ترک کر کے اسے صوبائی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت اپنے وسائل سے مکمل کیا۔

پاکستان میں پی پی پی ماڈل کب متعارف ہوا؟

پاکستان میں پی پی پی ماڈل کے تحت انفراسرکچر اور سماجی شعبوں میں منصوبوں کی تاریخ دنیا کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں نئی ہے۔

پاکستان میں صوبہ سندھ نے وفاق اور دوسرے صوبوں کے مقابلے میں پی پی پی ماڈل کے تحت منصوبوں پر کام میں پہل کی۔ وفاق اور دوسرے صوبوں کے مقابلے میں صوبہ سندھ میں اس ماڈل پر کام چار پانچ سال پہلے شروع ہواجس کی سب سے بڑی مثال حیدرآباد میر پورخاص ہائی وے ہے۔

پاکستان میں صوبہ سندھ کے بعد وفاق اور دوسرے صوبوں میں بھی اس ماڈل کے تحت منصوبوں پر کام شروع ہوا۔

وفاقی حکومت نے اس ماڈل کے تحت منصوبوں کو مربوط منصوبہ بندی کے تحت بروئے کار لانے کے لیے 2017 پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ اتھارٹی ایکٹ کو منظور کیا، جس کے تحت پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔

اس اتھارٹی کے ذمے ایک ریگولیٹری فریم ورک بنا کر پرائیوٹ سیکٹر کو مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنا ہے۔ اسی طرح چاروں صوبوں میں بھی پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے ایکٹ بن چکے ہیں۔

ڈاکٹر قیصر بنگالی نے پاکستان میں پی پی پی ماڈل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ماڈل پر وفاق اور دوسرے صوبوں کے مقابلےمیں بڑے پیمانے پر سندھ میں کام شروع ہوا۔

سندھ میں دوسروں کے مقابلے میں چار پانچ سال پہلے کام شروع ہوا۔

تاہم انھوں نے نشاندہی کی کہ جسے آج پی پی پی ماڈل کہا جاتا ہے وہ ایک دوسری شکل میں پاکستان میں پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں کامیاب ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں پاکستان انڈسٹریل ڈویلمپنٹ کارپوریشن (پی آئی ڈی سی) کے ذریعے حکومت ایک فکیٹری لگاتی تھی جب یہ فیکٹری چل پڑتی تھی تو حکومت اسے پرائیویٹ شعبے کے حوالے کر دیتی تھی۔

ڈاکٹر قیصر نے بتایا کہ اس ماڈل نے پاکستان میں انڈسٹریلائزیشن کو بہت زیادہ تقویت دی اور پاکستان میں آج جتنی بھی انڈسٹریلائزیشن ہے وہ اسی ماڈل کی وجہ سے ہے۔

ان کے مطابق ملک میں موجودہ پی پی پی ماڈل کا تصور نیا ہے اور اس پر کام کچھ سال پہلے شروع ہوا۔

ڈاکٹر عابد سلہری کے مطابق حکومت اور پرائیوٹ سیکٹر کی درمیان منصوبوں پر اشتراک مختلف صورت میں رہا ہے۔ اگر موجودہ پی پی پی ماڈل سے پہلے دیکھا جائے تو ملک میں توانائی کے شعبے میں نجی شعبے نے بجلی کے کارخانے لگائے تھے، جن سے حکومت بجلی خریدنے کی پابند تھی۔

انھوں نے کہا پاکستان میں پی پی پی ماڈل کے تحت منصوبوں پر کام کامیابی سے چل رہا ہے۔

پاکستان میں پی پی پی ماڈل کے چند نمایاں منصوبے کون سے ہیں؟

پاکستان میں پی پی پی ماڈل کے تحت منصوبے کا آغاز اور ان کی تکیمل کے سلسلے میں منصوبوں کا ذکر کیا جائے تو ایسے منصوبوں کی ایک طویل فہرست ہے۔

پبلک پرائیوٹ پاڑٹنرشپ اتھارٹی کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق اس ماڈل کے تحت مکمل ہونے والے منصوبوں میں کراچی حیدرآبادہائی وے کی چھ لین موٹر وے میں تبدیلی، لاہور سیالکوٹ موٹروے کی تعمیر، اسلام آباد لاہور موٹر وے کی تزئین نو اور حیات آباد پشاور فلائی اوور کی تعمیر شامل ہیں۔

اس طرح زیر تکیمل منصوبوں میں سکھر حیدرآباد کا منصوبہ سب سے نمایاں ہے۔

صوبہ پنجاب میں اس ماڈل کے تحت انفراسٹرکچر اور سماجی شعبے میں چالیس منصوبے مختلف مراحل میں ہیں۔

صوبہ سندھ میں اس ماڈل کے تحت آٹھ منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں جب کہ انیس منصوبوں پر کام اور منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔

پاکستانی کرنسی

AFP

پی پی پی ماڈل فائدہ مند یا نقصان دہ ہے؟

پی پی پی ماڈل کے تحت منصوبے ملک کے لیے سود مند ہیں یا اس کا کوئی نقصان ہے کہ بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس ماڈل کے تحت کس طرح کا معاہدہ کیا جاتا ہے اور کس طرح کی شرائط حکومت اور پرائیوٹ پارٹی کے درمیان طے کی جاتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سندھ میں اگرحیدرآباد میر پورخاص ہائی وے کی تعمیر اس ماڈل کے تحت ایک اچھا منصوبہ ہے تو اسی طرح صحت کے شعبے میں بنیادی مراکز صحت کو نجی شعبے کے حوالے کرنا کا منصوبہ ایک ناکام منصوبہ ہے۔

ان کے مطابق عمموماً انفراسٹرکچر کے شعبوں میں یہ ماڈل زیادہ کامیاب نظر آتا ہے کہ جہاں ایک پرائیویٹ پارٹی ایک منصوبے میں پیسہ لگانے کے بعد کچھ عرصے تک اس منصوبے کو چلا کر اپنے پیسے وصول کرتی ہے اور پھر اسے حکومت کے حوالے کر دیتی ہے۔

ان کے مطابق سماجی شعبے میں شاید یہ اتنا زیادہ کامیاب نہ ہو تاہم ہر کیس میں ایسا بھی نہیں ہے جس کی مثال بدین میں سرکاری ہسپتال کا انتظام ایک پرائیوٹ ادارے کے حوالے کرنا ہے کہ جو بڑی کامیابی سے اسے چلا رہے ہیں۔

ڈاکٹر بنگالی نے کہا کہ پاکستان جیسے ملکوں میں اس ماڈل کی ضرورت ہے کیونکہ ایک ایسا ملک جس کے پاس وسائل کی کمی ہو اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے بجٹ میں گنجائش نہ ہو تو پھر اس ماڈل کے تحت ہی منصوبے مکمل کیے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر عابد سلہری نے اس سلسلے میں بتایا کہ یہ ماڈل پاکستان جیسے ملک کے لیے فائدہ مند ہے تاہم ایک خاص منصوبہ کی افادیت یا اس کے نقصان دہ ہونے کا تعین ان شرائط سے ہوتا ہے جو حکومت کسی پرائیوٹ پارٹی سے کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کا کام صرف منصوبہ پرائیوٹ سیکٹر کے حوالے کرکے ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اس کی ذمہ داری ہے کہ اگر منصوبہ مکمل ہوتا ہے تو اس کی کوالٹی چیک کرے اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں شفافیت کو بھی یقینی بنائے۔

اگر ایک خاص منصوبہ نجی شعبہ مکمل کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے تو پھر یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے مکمل کرے۔

ڈاکٹر سلہری نے کہا پی پی پی ماڈل کے تحت کسی منصوبے سے ملک اور لوگوں کو فائدہ یا نقصان ہونے کا سارا دارو مدار معاہدے کی شرائط پر ہے کہ حکومت کس طرح یہ معاہدہ کرتی ہے کہ وہ ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے سود مند ثابت ہو۔

ملک میں حکومتی منصوبوں میں پرائیوٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے کردار سے متعلق بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سلہری نے کہا کہ اس کا انحصار بھی ان شرائط سے ہے کہ جو معاہدے میں شامل ہوتی ہیں۔

اگر کسی پرائیوٹ پارٹی کو دانستہ طور پر مراعات دے کر اسے یہ منصوبہ دے دیا جاتا ہے تو لازماً اس میں نیب آئے گا۔

ڈاکٹر سلہری نے بتایا کہ ابھی تک یہ ماڈل پاکستان میں کامیابی سے نافذ ہوا ہے اور اس کے تحت کچھ منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں اور کچھ پر عمل درآمد جاری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16658 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp