نتن یاہو کے مبینہ دورہ سعودی عرب کی خبروں کے بعد سوشل میڈیا پر بحث: کیا پاکستان کو اپنی اسرائیل پالیسی میں تبدیلی لانی چاہیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان نتن یاہو
Getty Images
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی مبینہ ملاقات کی خبریں پاکستانی سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث کا محور بنی ہوئی ہیں۔

اس مبینہ ملاقات کے پاکستان پر ہونے والے اثرات پر آج پاکستان میں ٹاک شوز اور سوشل میڈیا پر پاکستانی و غیر ملکی صحافیوں کی جانب سے تبصرے سامنے آ رہے ہیں اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا پاکستان کو اپنی اسرائیل پالیسی میں تبدیلی لانی چاہیے؟

گذشتہ روز اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو اتوار کو خفیہ طور پر سعودی عرب گئے جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تاہم سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے ٹوئٹر پر ان خبروں کی تردید کی ہے۔

پاکستان کی اسرائیل سے متعلق پالیسی کے حوالے سے پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان کا ایک بیان بھی گذشتہ ہفتے سے گردش کر رہا ہے جس میں انھوں نے ایک نجی چینل جی این این کے پروگرام ’کلیش‘ میں کچھ ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ سے متعلق بات کی تھی۔ تاہم پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس بارے میں فوری تردید سامنے آئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

اسرائیلی وزیر اعظم اور سعودی ولی عہد کی ملاقات کی خبریں، سعودی عرب کی جانب سے تردید

کیا سعودی عرب، اسرائیل کے ساتھ تاریخی امن معاہدہ کرنے جا رہا ہے؟

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے بائیکاٹ کا قانون ختم کر دیا

کیا امارات، اسرائیل معاہدے میں ایک فلسطینی شہری کا بھی اہم کردار ہے؟

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستانی صحافی مبشر لقمان نے ایک اسرائیلی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اسرائیل ایک خواب نہیں، ایک حقیقت ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم ملک ہے اور اسرائیلی قوم ایک عظیم قوم ہے، مجھے اس میں کوئی شکوک و شبہات نہیں ہیں، یہ مقابلہ کرنے والے لوگ ہیں اور پاکستان قوم بھی ایک عظیم قوم ہے اس لیے جب وقت آئے گا تو یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خود ہی ہاتھ ملا لیں گے، ہمیں سعودی عرب یا امریکہ کی ضرورت نہیں ہو گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب انھوں نے گذشتہ برس جب عمران خان سے اسرائیل سے دوستی یا تعلقات معمول پر لانے سے متعلق بات کی تو انھوں نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔‘

ان کے علاوہ صحافی کامران خان کی جانب سے بھی گذشتہ روز ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کو اسرائیل سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرِثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

’پاکستانیوں کے لیے حرمین شریفین کے رکھوالوں (سعودی عرب) اور دیگر عرب ممالک کی جانب سے دیا جانے والا پیغام یہ ہے کہ ’قوموں کے مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے صرف مفادات ہوتے ہیں۔‘ پاکستان یہ فیصلے کرنے سے کیوں کترا رہا ہے؟‘

یاد رہے کہ رواں سال اگست میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا تھا کہ ان کے درمیان امن معاہدے اور سفارتی تعلقات کے قیام پر اتفاق ہو گیا ہے۔

اس کے بعد امارات کے سرکاری حکم نامے کے تحت اسرائیل کے بائیکاٹ کا قانون ختم کر دیا گیا تھا جس کے بعد اماراتی باشندے اور کمپنیاں اسرائیلی باشندوں اور کمپنیوں کے ساتھ مالی لین دین، روابط اور معاہدے قائم کر سکیں گی۔

اس کے بعد اکتوبر میں پہلے بحرین اور بعد میں سوڈان نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کا اعلان کر دیا۔ یہ تینوں معاہدے امریکہ کی زیرِ سرپرستی طے پائے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ انھیں اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے متعدد کتب کی لکھاری فاطمہ بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے آج تک صرف دو ممالک کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ ایک جنوبی افریقہ کو اس وقت جب وہ ریاست نسلی عصیبت کی بنیاد پر چل رہی تھی اور دوسرا اسرائیل جو غیرمعذرت خواہانہ طور پر نسلی عصیبت پر یقین رکھنے والی ریاست ہے۔

خارجی امور پر نظر رکھنے والے سداناند دھومے کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ اس ’غیرمنطقی تناؤ‘ کو ختم کرنے سے پاکستان کا ہی فائدہ ہو گا۔ اس سے یہ معلوم ہو گا کہ پاکستان میں دنیا کو اسی طرح دیکھنے کی قابلیت موجود ہے جیسے وہ ہے نہ کہ جیسے اسے نظریاتی افراد دیکھتے ہیں۔‘

اس موضوع پر بات کرتے ہوئے متعدد صارفین اور صحافیوں کی جانب سے اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے سے قبل اس پر بحث ہونی چاہیے۔

ان ہی خیالات کا اظہار صحافی رضا رومی نے بھی کیا جن کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مظلوم فلسطینیوں کے حوالے سے ایک طویل المدتی مؤقف رہا ہے اس لیے ہمیں اس پر بحث کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ریاست رائے عامہ کو کیسے تبدیل کرے گی جب گذشتہ 73 برسوں سے اس ملک میں ہونے والے ہر غلط عمل کو یہودی یا ہندو سازش گردانا جاتا رہا ہے۔‘

یوسف نظر نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے اور اس کے ساتھ تجارتی روابط قائم کرنے چاہییں جیسے ترکی جیسے دیگر مسلمان ممالک کر چکے ہیں۔ انھوں نے لکھا کہ پاکستان کو اس دوسری دنیا سے باہر آنا ہو گا اگر یہ دنیا میں اپنا اکیلا پن اور خود کو تباہ کرنے والے تنازعات کا خاتمہ چاہتا ہے۔‘

عزیر یونس نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’پاکستان کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا ایک راستہ یہ ہے کہ اگر فلسطین خود یہ کہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں بہتری اس کے لیے اہم ہے۔‘

’ایسے میں پاکستان میں اس حوالے سے تناؤ میں کمی لائی جا سکے گی۔ اس ضمن میں سعودی عرب پاکستان اور فلسطین کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات پہلا قدم ہو گا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17303 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp