مولانا کلبِ صادق: شیعہ سنی اتحاد کے نقیب معروف سکالر کی لکھنؤ میں وفات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

            آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر اور معروف شیعہ عالمِ دین مولانا کلبِ صادق منگل کے روز رات گئے لکھنؤ میں وفات پا گئے ہیں۔

کینسر، شدید نمونیا اور انفیکشن میں مبتلا مولانا کلبِ صادق تقریباً ڈیڑھ ماہ تک ہسپتال میں زیر علاج رہے۔

مولانا کلبِ صادق دنیا بھر میں اپنی روشن خیال اور رواداری کے لیے مشہور تھے۔

مولانا کلبِ صادق کے بیٹے کلبِ سبطین نوری نے بی بی سی کو بتایا: ‘انھوں نے لکھنؤ کے ایرا ہسپتال میں رات دس بجے کے قریب آخری سانس لی۔ انھیں گذشتہ منگل کو ہسپتال کے آئی سی یو میں داخل کروایا گیا تھا، لیکن ان کی حالت بگڑتی گئی۔ تمام تر کوششوں کے باوجود انھیں بچایا نہیں جاسکا۔‘

مذہبی رہنما کے طور پر مختلف پہچان

نہ صرف لکھنؤ بلکہ پوری دنیا میں شیعہ عالم دین کی حیثیت سے اپنی ایک الگ پہچان رکھنے والے مولانا کلبِ صادق پوری زندگی تعلیم کے فروغ اور مسلم معاشرے سے روایتی اور فرسودہ سوچ کے خاتمے کے لیے کوشاں رہے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر میں شیعہ سنی اتحاد کا انوکھا مظاہرہ

’محرم کے جلوس کی اجازت دی تو مخصوص برادری پر وبا پھیلانے کے الزامات لگیں گے‘

مولانا کلب صادق سنہ 1939 میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم مدرسے سے حاصل کی۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔

ایک مسلمان مذہبی استاد ہونے کے علاوہ مولانا کلبِ صادق ایک معاشرتی مصلح بھی تھے۔ وہ تعلیم کے بارے میں بہت سنجیدہ تھے اور انھوں نے لکھنؤ میں بہت سے تعلیمی ادارے قائم کیے۔

لکھنؤ کے رہائشی محمد آصف، جو انھیں اچھی طرح جانتے ہیں، کہتے ہیں کہ ’مولانا کلبِ صادق نے سنہ 1982 میں توحید المسلمین کے نام سے ایک ٹرسٹ قائم کیا اور اتحاد کالج کی بنیاد رکھی۔ انھوں نے معاشرے کی تعلیم کے لیے سخت محنت کی۔ تعلیم اور شیعہ سنی اتحاد پر مولانا صاحب نے بہت کام کیا۔ وہ پہلے ایسے مولانا تھے جنھوں نے شیعہ اور سنی دونوں فرقوں کو ایک ساتھ نماز پڑھنے کی ترغیب دی اور ان کی امامت بھی کی۔‘

لکھنؤ میں سینیئر صحافی سدھارتھ کلہنس کا کہنا ہے کہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ انھوں نے انگریزی تعلیم بھی حاصل کی اور اس میں مہارت حاصل کی جس کی وجہ سے لوگ پوری دنیا میں ان کی باتیں سنتے تھے۔

چاند دیکھ کر عید کی تاریخوں کا اعلان نہیں کرتے تھے

سدھارتھ کلہنس وضاحت کرتے ہیں: ’مولانا صاحب نہ صرف مسلم معاشرے میں ترقی کے حق میں تھے بلکہ انھوں نے اس کے لیے بہت زیادہ کام بھی کیا۔ انھوں نے لوگوں میں بیک وقت تین طلاق کے خلاف مہم سے لے کر مانع حمل ذرائع کے استعمال تک کے لیے خواتین میں بیداری پیدا کی۔’

ان کا کہنا ہے کہ سائنسی عہد میں مولانا کلبِ صادق عید کے موقع پر چاند کا اعلان کرنے کے بجائے رمضان کے آغاز میں عید اور بقر عید کی تاریخوں کا اعلان کرتے تھے۔ تاہم ان نظریات کی وجہ سے انھیں کئی بار اپنے ہی معاشرے میں مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

مسلم معاشرے میں بہت سے بیانات ناپسند کیے گئے

اپنی صفائی ستھرائی کے لیے مشہور مولانا کلب صادق نے ایسے بہت سے بیانات دیے جن کو مسلم معاشرے کے لوگ پسند نہیں کرتے تھے لیکن انھوں نے کہا کہ سچائی یہی ہے۔

سنہ 2016 میں ایک پروگرام کے دوران انھوں نے کہا: ‘مسلمانوں کو خود جینے کا طریقہ معلوم نہیں اور وہ نوجوانوں کو مذہب کا راستہ دکھاتے ہیں۔ انھیں پہلے اپنی اصلاح کرنی ہوگی تاکہ مسلم نوجوان ان کی راہ پر گامزن ہوسکیں۔ آج مسلمانوں کو مذہب سے زیادہ اچھی تعلیم کی ضرورت ہے۔’

مولانا کلبِ صادق نہ صرف لکھنؤ میں شیعہ سنی اتحاد کے لیے مشہور تھے بلکہ ہندو مسلم اتحاد کے لیے بھی ہمیشہ کوشش کرتے تھے۔

وہ منگل کے روز کئی بار بھنڈارے یعنی مفت کھانے کی تقسیم کا اہتمام کیا کرتے تھے۔

سدھارتھ کلہنس کہتے ہیں کہ ’اپنے ترقی پسند نظریات کی وجہ سے انھیں بعض اوقات مسلم برادری کے اندر بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ساکھ لکھنؤ سے دنیا تک پھیلی لیکن ان کے اپنے معاشرے میں ان کی مقبولیت کم ہوگئی۔‘

مولانا کلبِ صادق نے پچھلے سال انڈیا میں نافذ کیے جانے والے شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے کی بھی مخالفت کی تھی۔

لکھنؤ کے گھنٹا گھر میں سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ کالا قانون ہے اور اسے واپس لیا جانا چاہیے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17867 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp