ٹیسلا کے مالک ایلون مسک: سکول میں ہراسانی کا شکار بننے والا لڑکا دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص کیسے بنا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے مالک ایلون مسک رواں ہفتے مائیکرو سافٹ کے مالک بل گیٹس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ایلون مسک کو سکول میں ساتھی طلبا نے اتنا مارا کہ انھیں ہسپتال میں ایک ہفتہ گزارنا پڑا۔

بلومبرگ بلین ایئرز انڈیکس کے مطابق دنیا کے امیر ترین شخص ایمازون کے بانی جیف بیزوس ہیں۔

49 سالہ ایلون مسک کی اس وقت مجموعی دولت کا تخمینہ 128 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ مگر یہاں تک پہنچنے میں انھیں زندگی میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مجھے اتنا مارا گیا کہ میں مرنے والا تھا

ایلون مسک جنوبی افریقہ کے شہر پریٹوریہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک انجینیئر تھے جبکہ ان کی والدہ ایک ماڈل تھیں۔ ایلون کا اپنے والد کے ساتھ رشتہ کشیدگی کا شکار رہا۔ خبر رساں ادارے سی بی ایس کو سنہ 2018 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے اپنے پچپن کے بارے میں کہا کہ ’وہ بالکل اچھا نہیں‘ تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’سڑک کا نیا بادشاہ‘

ایلون مسک کا فراڈ، ٹیسلا کے چیئرمین نہیں رہ سکیں گے

’ٹیسلا کی سستی ترین الیکڑک کار آئندہ تین سال میں تیار ہو گی‘

ایلون مسک کے مطابق ان کے والد ایک اچھے شخص نہیں تھے اور والد کی وجہ سے وہ نفسیاتی تشدد کا شکار رہے۔

بچپن میں ایلون مسک کو کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ خاص طور پر سائنس فکشن پر مبنی کامک بکس۔ انھیں کتابوں سے اس قدر لگاؤ ہے کہ ایک مرتبہ انھوں نے کہا تھا کہ ’مجھے کتابوں نے پالا ہے۔ پہلے کتابوں نے پھر میرے والدین نے۔‘

ایلون مسک

Reuters

وہ اپنی کتابوں میں اس قدر گم ہو جاتے تھے کہ ایک دفعہ تو ان کے والدین کو شک ہو گیا کہ وہ بہرے ہیں۔ ان کے والدین نے ڈاکٹروں سے ان کی قوتِ سماعت کا ٹیسٹ بھی کروایا مگر آخر میں یہی سمجھ آئی کہ ایلون اپنے خیالات میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ جیسے وہ ایک علیحدہ دنیا میں چلے جاتے ہیں۔

سکول میں بھی ایلون مسک کا وقت اتنا آسان نہ تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ بچپن میں وہ اپنی کلاس میں سب سے زیادہ پڑھاکو اور جسامت میں سب سے چھوٹے تھے اور کھیلوں کے بجائے کتابوں میں زیادہ مشغول رہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ کلاس کے دوسرے بچے انھیں تنگ کیا کرتے تھے۔

یہ معاملہ اس قدر سنگین ہو گیا کہ ایک مرتبہ ایلون مسک کو سکول کے لڑکوں نے اتنا مارا کہ انھیں ہسپتال میں ایک ہفتہ گزارنا پڑا۔

اپنے سی بی ایس انٹرویو میں ایلون کہتے ہیں کہ ’مجھے اتنا مارا گیا کہ میں مرنے والا تھا۔‘

رولنگ سٹونز جریدے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سکول میں لڑکوں کے گینگ ان کا باقاعدہ ’شکار‘ کرتے تھے۔ مگر یہ سب تب بدل گیا جب وہ پندرہ سال کی عمر کو پہنچے۔ انھوں نے اپنی کتابیں چھوڑیں اور جوڈو کراٹے سیکھنا شروع کر دیا۔ جلد ہی وہ اپنا دفاع خود کرنے کے قابل ہو گئے۔

اپنے اس انٹرویو میں وہ کہتے ہیں ’مجھے جتنا مارا جا رہا تھا میں نے اسی انداز میں جواب دینا شروع کر دیا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ایک دفعہ ان کی اپنے سکول کے سب سے بدمعاش لڑکے سے لڑائی ہو گئی اور انھوں نے اس کے ناک پر مکا دے مارا۔ اس کے بعد انھیں کبھی اس لڑکے نے تنگ نہیں کیا۔

ایلون مسک

Reuters

ایلون مسک میں بچپن ہی سے کاروباری صلاحیت تھی

ان کے بارے تحقیق سے ایسا معلوم ہوتا ہے ایلون مسک کی شخصیت میں پہلے دن سے کاروبار کرنے کی صلاحیتیں موجود تھیں۔ انھوں نے بارہ سال کی عمر میں ہی ایک ویڈیو گیم بنائی جو کہ انھوں نے پانچ سو ڈالرز میں فروخت کی۔ سولہ سال کی عمر میں انھوں نے اپنے بھائی اور کزن کے ساتھ مل کر ایک آرکیڈ بنانے کی کوشش بھی کی۔ مگر 17 سال کی عمر میں ایلون مسک جنوبی افریقہ چھوڑ کر کینیڈا چلے گئے جہاں سے انھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

اس کے بعد انھوں نے زپ ٹو نامی کمپنی بنائی، پھر پے پال، سپیکس ایکس وغیرہ وغیرہ۔ وہ کہانی تو سبھی جانتے ہیں کہ انھوں نے کیا کیا کارنامے کر ڈالے۔

خوابوں کو حقیت کا رنگ دینے کی کوشش

مگر ایلون مسک کے کاروباروں میں ایک چیز مشترک ہے۔ ان کی کمپنیوں کے عزائم ہمیشہ بلند ہوتے ہیں اور وہ روزمرہ کے مسائل کو اس انداز میں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے خوابوں کو حقیت کا رنگ دینا ان کا بنیادی ہدف ہے۔

ایلون مسک اس وقت کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ حل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ وہ اپنے خیال میں انسانیت کو لاحق تین خطرات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ پہلا مسئلہ ماحولیاتی آلودگی کا، جس کا مقابلہ وہ ٹیسلا کی ماحول دوست کاروں سے کرنا چاہ رہے ہیں۔

دوسرا مسئلہ انسانیت کی بقا کا ہے، ان کے خیال میں اگر ہم اس سیارے تک ہی محدود رہ گئے تو کوئی تباہ کن واقعہ انسانیت کو حتم کر سکتا ہے۔ اسی لیے سپیس ایکس مریخ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تیسرا خطرہ وہ جس کا مقابلہ کر رہے ہیں وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت ہے جس سے ان کے خیال میں انسانوں کو کافی سنجیدہ خطرہ ہے۔ اسی لیے انھوں نے سنہ 2015 میں ایک فلاحی تنظیم اوپن اے آئی بنائی جو کہ مثبت انداز کی مصنوعی ذہانت کے فروغ کا کام کرتی ہے۔

ایلون مسک کے متنازع بیانات بھی منظرِ عام پر آتے رہتے ہیں۔ انھوں نے ٹوئٹر کو کئی بار استعمال کرتے ہوئے ایسی باتیں کی ہیں جو کہ بہت سے لوگوں کو ناپسند آئیں۔

مگر آپ ان کو پسند کرتے ہوں یا ناپسند، آپ کو یہ ماننا ضرور پڑے گا کہ وہ دنیا کے ان چند افراد میں سے ایک ہیں جن کی نہ صرف نظریں ستاروں کی جانب ہیں بلکہ ان کے قدم بھی اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17314 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp