شعیب اختر کی نیوزی لینڈ بورڈ کے پاکستانی ٹیم کو واپس بھیجنے کے بیان پر سخت تنقید اور سوشل میڈیا صارفین کا ردِعمل

عبدالرشید شکور، منزہ انوار - بی بی سی اردو ڈاٹ کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر ایک ایسے کرکٹر ہیں جو اپنے کریئر میں بھی شہ سرخیوں میں رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنی شعلہ بیانی کی وجہ سے سب کی توجہ حاصل کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

گذشتہ روز سابق فاسٹ بولر نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں انھوں نے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستانی ٹیم کے چھ کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے اور ایس اور پیز کی مزید خلاف ورزی کی صورت میں دورہ کینسل کر کے پاکستانی ٹیم کو وطن واپس بھیجنے والے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

شعیب اختر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پی سی بی نے اس معاملے میں کمزوری دکھائی ہے۔

شعیب اختر کا کہنا تھا کہ اگر وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جگہ ہوتے تو نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کو جواب دیتے کہ ہم بھی آپ سے پانچ سال تک کھیلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی کھلاڑیوں نے کورونا پروٹوکول کی مبینہ خلاف ورزی کیسے کی؟

کیا پاکستانی ٹیم کے ساتھ نیوزی لینڈ میں وہی ہو گا جو انڈیا کے ساتھ ہوا

پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے والے نئے چہرے کون ہیں

https://twitter.com/TheRealPCB/status/1331116534274682881

شعیب اختر نے کیا کہا؟

شعیب اختر نے اپنے یوٹیوب چینل پر نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ کسی کلب کی ٹیم نہیں ہے بلکہ پاکستان کی قومی ٹیم ہے۔ آپ یہ بیان کیسے دے سکتے ہیں کہ ہم دورہ کینسل کر دیں گے۔ اور ایک انٹرنیشنل ٹیم کو دورے کے بیچ کیسے واپس بھیج سکتے ہیں۔‘

شعیب اختر کا کہنا تھا کہ ’ہمیں آپ کی ضرورت نہیں ہے، ہماری کرکٹ ختم نہیں ہو رہی، بلکہ آپ کو پاکستان کرکٹ ٹیم کی ضرورت ہے کیونکہ براڈکاسٹنگ کے پیسے آپ کو ملیں گے ہمیں نہیں۔‘

انھوں نے نیوزی کرکٹ بورڈ سے کہا کہ آپ کو ہمارا مشکور ہونا چاہیے کہ ہم ان نازک حالات میں بھی آپ کے ملک کا دورہ کر رہے ہیں۔

شعیب اختر نے پاکستان کرکٹ بورڈ پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی کو کمرشل فلائٹ کے بجائے چارٹرڈ فلائٹ سے کھلاڑیوں کو نیوزی لینڈ بھیجنا چاہیے تھا جیسا کہ انگلینڈ کے دورے میں کیا گیا تھا۔

شعیب اختر نے کووڈ ایس او پیز کی خلاف ورزی اور جہاز میں ناک سے نیچے ماسک پہن کر ویڈیو بنانے اور اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر پاکستانی کھلاڑیوں پر بھی تنقید کی۔

یاد رہے پاکستان کرکٹ ٹیم کے چند کھلاڑیوں نے دورانِ سفر ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی جس میں کھلاڑیوں نے مناسب انداز میں ماسک ناک تک نہیں پہن رکھے تھے، پی سی بی نے بھی یہ ویڈیو ٹویٹ کی تاہم کھلاڑیوں کے مثبت ٹیسٹ آنے اور نیوزی لینڈ بورڈ کی وارننگ کے بعد اسے سوشل میڈیا سے ہٹا دیا گیا ہے۔

شعیب اختر کا کہنا تھا کہ چھ پاکستانی کرکٹرز کے مثبت کورونا ٹیسٹ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کرکٹرز نے فلائٹ کے دوران وڈیو بنائی جس میں انھوں نے ماسک ناک سے نیچے کیے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ فلائٹ دبئی اور کوالالمپور سے ہوتی ہوئی آکلینڈ گئی تھی جہاں ممکن ہے کہ لوگوں سے رابطے کی وجہ سے بھی کرکٹرز کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

یاد رہے جہاں تک چارٹرڈ فلائٹ کے بارے میں شعیب اختر کی تنقید کا تعلق ہے تو انگلینڈ کے دورے میں پاکستانی ٹیم کی چارٹرڈ فلائٹ کے تمام تر اخراجات انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اٹھائے تھے اور اس وقت کی انتہائی غیرمعمولی صورتحال کے پیش نظر انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے ایسا کیا تھا جبکہ اس کے بعد ویسٹ انڈیز کی ٹیم کمرشل فلائٹ کے ذریعے نیوزی لینڈ پہنچی ہے اور زمبابوے کی ٹیم بھی کمرشل فلائٹ سے پاکستان آئی تھی۔

پاکستانی کرکٹرز جس فلائٹ سے نیوزی لینڈ گئے ہیں وہ لاہور سے براستہ دبئی آکلینڈ پہنچی تھی۔ سنگاپور ایئرپورٹ پر جہاز صرف ایندھن لینے کے لیے کچھ دیر رکا تھا لیکن کسی بھی مسافر کو جہاز سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

یہاں یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نیوزی لینڈ میں کووڈ پروٹوکول کی خلاف ورزی کے بارے میں پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہاں کووڈ 19 کے تمام معاملات نیوزی لینڈ کی حکومت کے ہاتھوں میں ہیں لہذا پاکستان کرکٹ بورڈ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے جمعرات کی صبح پاکستانی کرکٹرز اور منیجمنٹ کو آڈیو پیغام میں تاکید کی تھی کہ وہ ایس او پیز کا خاص خیال رکھیں کیونکہ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ اور نیوزی لینڈ کی حکومت کورونا کی صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے ایک ایسی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں جس میں وہ کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔

نیوزی لینڈ کی ویسٹ انڈیز کو بھی وارننگ

پاکستان میں ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کی پاکستانی ٹیم کو وطن واپس بھیجنے والی وارننگ پر کافی بحث کی جا رہی ہے تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے اس طرح کا کوئی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے اسی طرح کی سخت تنبیہ ویسٹ انڈیز کو بھی کی تھی جب ویسٹ انڈین کرکٹرز نے چودہ روز کی قرنطینہ مدت کے دوران ایس او پیز کی خلاف ورزی کی تھی۔

نیوزی لینڈ کی وزارت صحت نے بتایا تھا کہ اس نے ویسٹ انڈیز ٹیم کی کرائسٹ چرچ کے ہوٹل کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی ہے جس میں کھلاڑی قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے ہیں۔ یہ سب کچھ پبلک مقام پر نہیں بلکہ ہوٹل میں ہوا تھا جس کے بعد ویسٹ انڈیز کی ٹیم کی ٹریننگ کو معطل کردیا گیا تھا۔

ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ نے اس تمام صورتحال پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار اپنے کھلاڑیوں کو قرار دیا تھا۔

ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو جانی گریوو نے کہا تھا کہ انھیں افسوس ہے کہ ان کے کھلاڑیوں نے خود کو اور نیوزی لینڈ کے لوگوں کو خطرے میں ڈالا انھوں نے اس موقع پر اس معاملے کی تحقیقات کا بھی اعلان کیا تھا۔

شعیب اختر کے بیان پر سوشل میڈیا پر ردعمل

شعیب اختر کے یوٹیوب چینل پر دیے گئے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر خاصی بحث جاری ہے اور ملے جلے تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔

وریندر نامی صارف لکھتے ہیں ’اگر شعیب اختر کہتے ہیں کہ پاکستان ٹیم کسی کلب کی ٹیم نہیں ہے تو پھر کھلاڑی کلب کے کھلاڑیوں کی طرح برتاؤ کیوں کر رہے ہیں؟ انھیں میزبان ملک کے تیار کردہ قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کے لیے کہیں۔‘

شعیب سے اتفاق کرتے ہوئے طحہٰ نامی صارف لکھتے ہیں ’شعیب نے ٹھیک کہا ہے، ہم ہمیشہ معذرت خواہانہ رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں، پی سی بی کو تھوڑی جرات کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘

تاہم شعیب کے بیان سے اختلاف کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ ایک صارف لکھتے ہیں ’نیوزی لینڈ والوں نے ٹھیک کہا ہے، شعیب اختر کو لگتا ہے کہ پوری دنیا پاکستان کی طرح ہے جہاں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے، بھائی انھوں نے جہاز میں ڈال کر واپس بھیج دینی ہے ٹیم پھر کیا کریں گے؟‘

شعیب بٹ نامی صارف نے لکھا ’پاکستان بورڈ کو چاہیے کہ کیوی بورڈ سے معافی منگوائے۔ وہاں ہمارے کرکٹرز کے ساتھ رویہ بھی ہتک آمیز ہے، انھوں نے کیسے بولا کہ ٹیم واپس بھیج دیں گے؟ ہم وہاں جاکر کھیل رہے ہیں مشکل حالات میں، بجائے احسان مند ہونے کے وہ ہمیں دھمکا رہے ہیں۔ افسوسناک رویہ ہے اور ہم کیوں بھیگی بلی بن رہے ہیں؟‘

اس پر زینب نامی صارف نے انھیں جواب دیا ’پاکستانی کھلاڑیوں بایوسیکیوریٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور ہمدردی کی امید بھی کرتے ہیں؟ ہمیں شرمندہ ہونا اور معافی مانگنی چاہیے۔ مثبت ٹیسٹ کسی کے اختیار میں نہیں لیکن قرنطینہ پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنا غلط ہے اور اس پر ان کا دفاع نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

علی گوہر نامی صارف نے شعیب کو آڑے ہاتھوں لیتے لکھا ’ہر ملک پیسوں کے لیے نہیں کھیلتا۔۔۔ یہ زندگیاں بچانے کی بات ہے۔ پاکستانیوں کا ہر چیز کو پیسوں سے جوڑنے والا رویہ ہی اصل مسئلہ ہے۔‘

علی نے مزید لکھا کہ نیوزی لینڈ کے اپنے ملک کو محفوظ رکھنے کے فیصلے کے بجائے ہمارے سکواڈ کے اقدامات کی واضح مذمت کرنی چاہیے۔

پاکستانی ٹیم کے رویے میں بہتری

نیوزی لینڈ کی وزارت صحت نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بارے میں کہا ہے کہ ٹیم کے رویے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ وزارت صحت کا یہ ردعمل اس بین کے 24 گھنٹے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے پاکستانی ٹیم کو کووڈ 19 ایس او پیز کی خلاف ورزی کے بعد سختی سے متنبہ کیا تھا۔

نیوزی لینڈ کی وزارت صحت کےحکام نے ٹیم کے ارکان کے انٹرویو بھی لیے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17879 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp