سمارٹ فون کا استعمال: آپ اپنا موبائل فون بار بار کیوں استعمال کرتے ہیں؟

کرسٹینا کرڈل - ٹیکنالوجی رپورٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موبائل
Getty Images
لندن سکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹکل سائنس (ایل ایس ای) کی ایک تحقیق کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ سمارٹ فون کے استعمال کی لت کی وجہ ایپس پر موصول ہونے والے پیغامات کے نوٹیفیکیشن ہیں۔

ایل ایس ای میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق 89 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ اپنے موبائل فونز کو اس وقت بھی استعمال کر رہے ہوتے ہیں جب اس پر کوئی پیغام یا نوٹیفکیشن نہ بھی ہوں جبکہ 11 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ کسی پیغام یا نوٹیفکیشن کے موصول ہونے پر اس کو استعمال کرتے ہیں۔

اس تحقیق میں شامل جواب دہندہ افراد کا کہنا تھا کہ مخلتف ایپس میں گروپ چیٹس بھی ‘بے چینی یا پریشانی کی ایک وجہ’ ہے۔

اس تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کے فیس بک اور انسٹاگرام میں ٹائم لائن پر سکرولنگ جیسے فیچر بھی موبائل فون کے زیادہ استعمال کی ایک وجہ ہیں۔

اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ‘کسی بھی فرد کے لیے اپنے موبائل فون کو استعمال کرنے کی خواہش تقریباً ایسی ہی بے ساختہ ہے جیسے کسی تمباکو نوش کے لیے اپنا سگریٹ سلگانا ہوتا ہے۔’

اس تحقیق میں برطانیہ، جرمنی اور فرانس سے تعلق رکھنے والے 37 افراد کے موبائل فونز کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ ان تمام افراد کی عمریں 25 برس ہیں۔ ان تمام افراد کو ایک کیمرہ دیا گیا تھا تاکہ ان کی روز مرہ زندگی کی عکس بندی کی جا سکے۔

سائنس ڈائریکٹ جریدے میں شائع ہونے والی میکسی ہیٹ میئر اور پروفیسر سادی لاہلو کی اس تحقیق میں مجموعی طور پر 1130 ایسے مواقعوں کا جائزہ لیا گیا جب صارفین اپنا موبائل فون استعمال کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

‘موبائل فونز سے پڑھائی متاثر ہوتی ہے’

’موبائل فون جسم اور بستر سے دور رکھیں‘

کیا آپ اپنے موبائل فون سے دوری برداشت کر سکتے ہیں؟

موبائل فونز خفیہ ریکارڈنگ اشتہاری مہمات

Press Association

لوگ اپنا موبائل فون بار بار کیوں استعمال کرتے ہیں؟

اس تحقیقی مطالعے میں شامل افراد کے مطابق ان کے موبائل فون کے زیادہ استعمال کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں۔

  • بائیس فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ واٹس ایپ کی وجہ سے زیادہ فون استعمال کرتے ہیں۔
  • 17 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ بار بار موبائل فون خاص طور پر اس وقت دیکتھے ہیں جب سکرین لاک ہو کہ آیا کوئی نیا پیغام یا نوٹیفیکیشن تو موصول نہیں ہوا۔
  • سولہ فیصد افراد کے لیے ان کے استعمال کی وجہ انسٹاگرام ہے
  • تیرہ فیصد نے فیس بک کو وجہ قرار دیا
  • چھ فیصد نے کہا کہ وہ ای میل کی وجہ سے سمارٹ فون کی عادت کا شکار ہیں۔ جبکہ صرف ایک فیصد نے فون کالز کو اس کے استعمال کی وجہ بتایا۔
  • البتہ گروپ چیٹس کو بے چینی کی ایک وجہ قرار دیا ہے اور صارفین کا کہنا ہے کہ ان گروپ چیٹس میں موجود پیغامات زیادہ تر بہت غیر اہم ہوتے ہیں۔
  • جبکہ ای میل نوٹیفکیشنز کو صارفین نے سب سے اہم قرار دیا۔

اس تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ صارفین اپنے موبائل فون کا سب سے کم استعمال اس وقت کرتے ہیں جب وہ دیگر افراد کے ساتھ ہوتے ہیں اور موبائل فون کا سب سے زیادہ استعمال پبلک ٹرانسپورٹ میں دوران سفر یا گھر میں ہوتا ہے۔

موبائل فون کو استعمال کرنے کی خواہش سے بچنا

اس تحقیقی مطالعے میں شامل افراد کے لیے اس کے موبائل فون کو استعمال کرنے کی خواہش کا بے ساختہ یا خود بخود ہونا بہت حیران کن تھا۔

اس مطالعے میں شامل ایک صارف کا کہنا تھا ’یہ نتائج دیکھنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ مجھے پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب میں اپنا موبائل فون استعمال کے لیے اٹھاتا ہوں اور میرے خیال میں میں جتنا سمجھتا تھا میں اس سے زیادہ فون استعمال کرتا ہوں۔’

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ‘مجھے یاد نہیں کہ میں جیب سے اپنا موبائل فون کب نکالتا ہوں، جب میں نے وہ لمحہ دیکھا اس دوران بھی مجھے یاد نہیں آیا کہ میں نے ایسا کب کیا تھا، یہ میرے لیے حیران کن ہے کہ میں بار بار اپنا فون دیکھتا رہتا ہوں۔’

یہ تحقیق کرنے والے پروفیسر سادی لاہلو کہتے ہیں کہ بہت سے افراد کے لیے موبائل فون بار بار چیک کرنے کا عمل ایک ضرورت اور عادت بن چکا ہے

ان کا کہنا ہے کہ ‘یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے خصوصاً بچوں کے لیے اور ہم، اس مسئلہ کو بنا جانے کہ یہ کیسے ہماری زندگیوں کو تبدیل کر رہا ہے، اندھیری گلی میں چلے جا رہے ہیں۔’

وہ کہتے ہیں کہ ‘ہمیں ایسے حربے سیکھنے ہوں گے کہ جب ہم کسی بات پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کریں یا اپنے سماجی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ہم اس کے بار بار استعمال کی خواہش سے بچ سکیں۔

فون

AFP

ایسا کرنے کے لیے ہمیں وہ ہی طریقہ اپنانا ہوگا جیسا کاؤ بوائز اپنی بندوقوں کے ساتھ اپناتے ہیں جب وہ کسی سیلون میں داخل ہوتے ہیں تو اپنی بندوقیں باہر چھوڑ جاتے ہیں، ہم بھی اس کو کم از کم بند کر سکتے ہیں۔

پروفیسر سادی کا کہنا ہے کہ ‘بہت اہم اور نہایت جلدی میں کرنے والی چیزیں بہت ہی کم ہوتی ہیں، بہت سے چیزیں کچھ دیر انتظار کر سکتی ہیں اور ایسا کرنے سے آپ کا کچھ کا ادھورا رہ نہیں جائے گا۔’

ایج ہل یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کی ڈاکٹر لنڈا کائی کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ جانا جا سکے کہ لوگوں کے بے جا موبائل فون استعمال کرنے کی وجہ کوئی خاص عمل ہے یا صرف ایک عادت ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘اس سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ موبائل صارفین کی جانب سے اس کے زیادہ استعمال کی وجہ انسانی ضرورت ہے اور یہ عادت ان ضروریات کو کیسے پورا کرتی یا تسکین پہنچاتی ہے یا یہ عادت صرف ان کی اپنی پیدا کردہ ہے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17327 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp