سائنسدانوں کا انتباہ: قطب شمالی و جنوبی میں سیٹلائٹس کی مدت ختم ہونے کے بعد نگرانی کی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ

جوناتھن آموس - نبی بی سی نامہ نگار برائے سائنس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Thwaites Glacier
Rob Larter/BAS
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کی اوپری سطح اور نچلے حصے پر موجود برف کی تہہ کی موٹائی ماپنے کے لیے ہماری صلاحیت میں کئی سالوں کا تعطل اور وقفہ پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ اس مقصد کے لیے موجود فقط دو سیٹلائٹس اپنی عمر کی مدت پوری کرنے کو ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس کی متبادل سیٹلائٹس نہ ملیں تو ہو سکتا ہے کہ زمین کے قطب جنوبی اور قطب شمالی کے بارے میں بالکل نہیں جان پائیں گےکہ وہاں موسم کی حدت کتنی ہو چکی ہے۔

محققین نے یورپین کمیشن اورخلا سے متعلق یورپین سپیس ایجنسی کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا ہے۔

ایک خط جس میں اس مسئلے کے بارے میں تمام تفصیلات اور ممکنہ حل بھی لکھے گئے ہیں رواں ہفتے ہی ان دونوں اداروں کے حکام کو ارسال کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس میں امریکی خلائی ایجنسی ناسا کو براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا تاہم انھیں اس بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔

یورپ کی کرائیو سیٹلائیٹ ٹو اور امریکہ کے آئس سیٹلائیٹ ٹو مشنز کی طویل عمری کا مسئلہ ہے۔

ان مصنوعی سیاروں میں مختلف آلات ہیں جنھیں آلٹمیٹرز کہا جاتا ہے جو برف کی ہیت اور ابھار کو ناپتے ہیں۔

یہ آلات سمندر میں برف کے حجم کے کم ہونے کا ریکارڈ رکھتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ گھٹنے کے عمل سے گزرنے والے گلیشیئرز کا بھی ریکارڈ رکھتے ہیں۔

CryoSat-2 and IceSat-2

ESA/NASA
CryoSat-2 (اوپر) اور IceSat-2 (نیچے) کے بارے میں امید ہے کہ وہ اس دہائی کے نصف تک اپنا کام کریں گی

ان سیٹلائٹس کے بارے میں غیر معمولی بات ان کا زمین کے گرد اپنے مداروں میں چکر لگانا ہے۔

یہ خط استوا پر شمال سے جنوب کی جانب 88 ڈگری کے زاویے پر اڑتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قطب جنوبی اور قطب شمالی کے تمام خطوں کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اس کے مقابلے میں بہت سی دیگر سیٹلائٹس عموماً 83 ڈگری سے اوپر کو نہیں جاتیں اور نتیجتاً وہ بہت کچھ دیکھ نہیں پاتیں مثال کے طور پر وسطی آرکٹک کی پٹی اور وہاں سمندر میں بہتے برف کے ٹکڑے۔

اب پریشانی کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں سیٹلائٹس اپنا کام کسی نئی سیٹلائٹس کے لانچ ہونے سے بہت پہلے چھوڑ دیں گی۔

کرائیو سیٹلائٹ ٹو پہلے ہی اپنی عمر سے پیچھے ہے۔ اسے سنہ 2010 میں خلا میں چھوڑا گیا تھا۔

امید یہ تھی کہ یہ ساڑھے تین برس کام کرے گی انجینئرز کا خیال ہے کہ وہ اسے پھر بھی سنہ 2024 تک کام لے سکتے ہیں لیکن بیٹری کے متاثر ہونے اور فیول کے اخراج سے یہ لگتا ہے کہ یہ زیادہ عرصے تک نہیں ہو سکے گا۔

آئس سیٹ ٹو کو سنہ 2018 میں لانچ کیا گیا تھا اور اس کی کارآمد رہنے کی عمر تین سال بتائی گئی جسے فیول کے ساتھ سنہ 2025 تک استعمال کیا جا سکتا تھا۔

اس میں بلندی کی پیمائش کرنے کے لیے لیزرز کا استعمال بھی کیا گیا جو کہ خلا میں موجود رہنے کے لیے ایک پیچیدہ ٹیکنالوجی ہے۔

Data hole

ESA
جو سیٹلائٹس وہاں چکر لگاتی ہیں وہ قطب پر اپنی پیمائش میں بہت چھوٹا سوراخ چھوڑتی ہیں poles

اس کے لیے کامیابی کے بغیر قطبی سیٹلائٹس کے درمیان دو سے پانچ سال کا فاصلہ آئے گا۔

سائنس دانوں نے اس خط میں بتایا ہے کہ یہ فاصلہ حتمی طور پر ایک طویل وقفہ ہو گا ایک لمبے عرصے کے لیے جس میں زمین کے قطبی حصوں پر برف کی تہوں اور موٹائی کو ریکارڈ کیا جا سکے۔

اس کے نتیجے میں ہماری موسم کی بہتری کے بارے میں اندازہ لگانے کی صلاحیت میں کمی آ جائے گی۔

اس وقت ممکنہ طور پر موجود مصنوعی سیارے کا واحد متبادل EC / Esa مشن ہے جس کا کوڈ نام کردہ کرسٹل ہے۔

یہ کریوسات کی طرح ہوگا ، اگرچہ اس میں ڈبل فریکوئنسی ریڈار الٹائمٹر کی بدولت زیادہ صلاحیت موجود ہے۔

صنعتی سطح پر خلائی گاڑی پر کام کا آعاز ہو چکا ہے لیکن اسے پھر بھی سنہ 2027 یا 2028 تک کام میں نہیں لایا جا سکے گا ہو سکتا ہے اس کی لانچنگ میں اس سے بھی زیادہ دیر ہو جائے۔ کیونکہ اس کی اب تک مکمل طور پر فنڈنگ نہیں ہوئی۔

ڈاکٹر جوزف آسکبیچر جو ای ایس اے میں زمین کی نگرانی سے متعلق شعبے کے ڈائریکٹر ہیں کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ اس وقفے کو کم کرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ کورونا کے باوجود اور ہر کسی کی جانب سے ویڈیو کانفرنس کی صورت میں کام کے بوجھ کے باوجود جس قدر وہ کر سکتے ہیں کرسٹل کی تیزی سے تیاری کے لیے انھوں نے اپنے منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا اندازہ ہے کہ ستمبر کے آغاز تک کرسٹل اپنا کام کر دے گا۔

IceBridge plane

NASA
یورپ کے لیے ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ امریکہ کی مانند سٹاپ گیپ لیزر آلٹمیٹر یا جہازوں کا استعمال کرے

اس خط پر دستخط کرنے والے 600 سائنس دانوں میں سے 10 فیصد سے اوپر امریکی ہیں۔

ڈاکٹر تھامس زربچن ناسا میں سائنسی امور کے سربراہ ہیں۔ انھیں یہ خط نہیں بھجوایا گیا کیونکہ اس میں زیادہ تک یورپی ممالک کے سائنس دان شامل ہیں۔ تاہم وہ اس خط کے مندرجات سے آگاہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ پرامید ہیں کہ قطبی فرق کم کیا جا سکے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ میرے خیال سے اس وقت بہت سے آپشنز ہیں جن کی تعیناتی ہم ان پر کر سکتے ہیں پاٹنرشپ کی صورت میں اور طرح سے۔

اس میں سے ایک حل یہ ہے کہ یورپ ناسا کے آیس بریج پراجیکٹ کو استعمال کرے۔

یہ فضائی پیلٹ فارم ہے جو امریکی ایجنسی نے آٹھ سال استعمال کیا ہے۔ سنہ 2010 کے آئس سیٹ مشن اور 2018 کے آئس سیٹ مشن ٹو کے درمیان کے عرصے میں۔

اس میں ہوتا یہ ہے کہ ایک جہاز اڑتا ہے اور اس کے ذریعے قطب شمالی اور جنوبی پر لیزر آلٹمیٹر کی مدد سے محدود ڈیٹا اکھٹا کیا جاتا ہے۔

بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ یورپ کا کرائیو بریج کرائیو سیٹ ٹو اور کرسٹل کے درمیان آنے والے عرصے کو کم کرنے کے لیے ایک بہت ہی مناسب آپشن ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ فضا میں آلٹمیٹر ریڈار کی تیاری کے لیے شاید ساڑھے چار ملین پاؤنڈ لگیں۔

لیکن اس کی تیاری میں دو سال لگ سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ نستباً جلدی چلایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کو عمل طور پر چلانے کے لیے بجٹ کی ضرورت ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17241 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp