افغانستان: غزنی میں فوجی اڈے پر خودکش حملہ، 21 افراد ہلاک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغانستان
AFP
افغانستان کے صوبے غزنی کے نواح میں واقع قلعہ جوز کے علاقے میں فوجی اڈے پر کار بم حملے میں کم از کم 21 افراد ہلاک اور 17 زخمیوں کی اطلاعات ہیں۔

غزنی پولیس کے ترجمان احمد خان سیرت نے حملے کی تصدیق کی ہے لیکن ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرین کا کہنا ہے کہ ایک خودکش بمبار نے غزنی کے ضلع دہ یاک میں اپنی بارود سے بھری گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا۔

ان کے مطابق یہ حملہ اتوار کی صبح 7:30 بجے ہوا۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ حملے کا مقصد کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کابل یونیورسٹی حملہ: افغانستان میں سوگ، اشرف غنی کا بدلہ لینے کا اعلان

کابل میں تعلیمی مرکز پر خود کش حملے میں 24 افراد ہلاک

افغانستان میں امن کے لیے افغانستان سے مشاورت پر اتفاق

غزنی ہسپتال کے ڈائریکٹر باز محمد ہمت نے بی بی سی کے نمائندے محمد پاکنیہ کو بتایا کہ اس واقعے میں کم از کم 21 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق تمام متاثرین فوجی ہیں۔

ابھی تک کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

قلعہ جوز کا علاقہ جہاں یہ واقعہ پیش آیا، غزنی شہر کے جنوب مشرق میں 12 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ ضلع دہ یک کی سمت ہے۔ یہ غزنی کے سب سے غیر محفوظ اضلاع میں سے ایک ہے، جہاں حکومت نے ایک سال قبل دارالحکومت کا کنٹرول سنبھال لیا تھا لیکن طالبان دوسرے علاقوں میں سرگرم ہیں۔

اس علاقے میں ایک پولیس سٹیشن بھی ہوا کرتا تھا، جو اب اے این اے فورسز کے کنٹرول میں ہے۔ یہ ایک فوجی علاقہ ہے اور شہری آبادی سے دوری پر واقع ہے۔

کابل یونیورسٹی

EPA
اسی مہینے کابل یونیورسٹی پر حملے میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے

دوحہ معاہدے کے بعد جنگ میں تیزی

رواں برس فروری میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد طالبان نے امریکہ پر حملے نہ کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم افغان فوج اور حکومت کے خلاف طالبان کے حملوں شدید اضافہ ہوا ہے۔

اکتوبر کی 21 تاریخ کو افغانستان کے شمال میں صوبہ تخار میں طالبان کے ایک حملے میں کم از کم 34 افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ صوبہ ہلمند اور قندھار میں طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی کی وجہ سے سینکڑوں گھرانے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

رواں ماہ نومبر میں کابل یونیورسٹی پر حملے میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

افغانستان کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات کے ساتھ ساتھ اُدھر دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کی مذاکراتی ٹیموں میں کئی ملاقاتوں کے بعد بھی ابھی تک باضابطہ طور پر بین الافغان مذاکرات شروع نہیں ہوئے ہیں۔

ایسی پرتشدد کارروائیاں طالبان اور افغان حکومت میں دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کو متاثر کر سکتی ہیں۔ امریکہ کی طویل جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد افغان شہریوں کے خوف میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17713 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp