جنگل میں بھٹکتے ہوئے – مکمل کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے اس جنگل میں گھومتے ہوئے دو گھنٹے ہو گئے تھے، شاید میں راستہ بھول چکا تھا۔ ٹھنڈ میری ہڈیوں میں سرایت کر رہی تھی اور خون رگوں میں جما ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ کچھ دیر پہلے تک سائیں سائیں کرتا ہوا جو جنگل مجھے رومانوی لگ رہا تھا اب اسی ویرانی سے مجھے وحشت ہو رہی تھی۔ شروع سے ہی مجھے ویران جگہوں پہ جانے کا شوق تھا مگر یہ جنگل کوئی ایسا ویران بھی نہیں تھا۔ یہ شہر کے نواح میں واقع تھا اور اس جنگل کی سیر کا مشورہ مجھے میرے ایک دوست نے دیا تھا، اس نے کہا تھا کہ اگر میں نے جنگل میں خیمہ لگا کر رات نہ گزاری تو سمجھو زندگی میں کوئی ایڈونچر نہیں کیا۔

مجھے ایڈونچر سے نفرت ہے، خاص طور پر ایسے ایڈونچر سے جس سے بچ نکلنے کا کوئی طریقہ نہ ہو۔ خیر اب کیا ہو سکتا تھا۔ شام ہو چکی تھی، کچھ ہی دیر میں اندھیرا چھانے والا تھا اور سردی بڑھتی جا رہی تھی۔ میں نے جیکٹ میں کے تمام بٹن ٹٹولے، سب اوپر تک بند تھے۔ خوش قسمتی سے میں چمڑے کے دستانے پہننا نہیں بھولا تھا اور سفری تھیلا بھی میرے پاس تھا جس میں چند ضروری ادویات اور چھوٹا سا پاور بینک بھی تھا۔ میں نے اپنے موبائل کی بیٹری چیک کی، اس کی طاقت تو ٹھیک تھی مگر رابطے کے سگنل مفقود تھے۔

دل میں سوچا کہ اگر اس جنگل میں بغیر آگ کے رات گزارنی پڑی تو کہیں میرا حال بھی جیک لنڈن کے افسانے To build a fire کے مرکزی کردار جیسا نہ ہو۔ مجھے ایک جھرجھری سی آ گئی۔ میں نے ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کی، اندھیرا آہستہ آہستہ بڑھتا جا رہا تھا۔ جنگل میں مکمل خاموشی تھی، فقط میرے جوتوں کے نیچے پتوں کے چرمرانے کی آواز سناٹے کا سینہ چیر رہی تھی۔ میں نے جیب سے ایک سگریٹ سلگا کر لگا لیا۔ لائٹر کی ہلکی سی آنچ نے ایک لمحے کے لیے خوشگوار حدت پیدا کی، میں نے سوچا کیوں نہ یہیں پتوں اور ٹہنیوں کو آگ لگا کر جسم کو تھوڑا گرما لیا جائے مگر پھر یہ ارادہ ترک کر دیا۔

مجھے اس جنگل سے جلد از جلد باہر نکل جانا چاہیے، میں نے سوچا اور پھر دل ہی دل میں اس وقت کو کوسنے لگا جب جنگل کی اس سیر کا منصوبہ بنایا تھا۔ آخر اس کی تک ہی کیا تھا! لوگ تفریح کے لیے بھری پری جگہوں پہ جاتے ہیں، شہر کی سڑکوں پر گھومتے ہیں، کیفے میں کھانا کھاتے ہیں، شاپنگ کرتے ہیں، تصویریں بناتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔ نہ جانے وہ کون سا منحوس لمحہ تھا جب میں نے جنگل میں قدم رکھا تھا۔

شام اب رات میں ڈھل چکی تھی۔ پہلی مرتبہ مجھے حقیقی معنوں میں خوف محسوس ہوا۔ اس سے پہلے میں کچھ حوصلے میں تھا، میرا خیال تھا کہ جنگل میں کوئی نہ کوئی مجھے ضرور مل جائے گا جو میری رہنمائی کر کے مجھے یہاں سے باہر نکال لے جائے گایا پھر مجھے یہ خوش فہمی تھی کہ میں کبھی بھٹک نہیں سکتا اور تھوڑی بہت پریشانی کے بعد مجھے راستہ ضرور نظر آ جائے گا مگر فی الحال تو دور دور تک کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں نے سوچا اگر میں یہاں مر گیا تو کیا ہوگا۔ میری تلاش کے لیے

پولیس کی ٹیمیں بھیجی جائیں گی، انہیں میرے دوست سے انہیں پتا چلے گا کہ میں اس جنگل کی سیر کے لیے نکلا تھا۔ کیا میرا دوست اب تک پریشان نہیں ہو گیا ہوگا؟ میں نے گھڑی پہ وقت دیکھا، مجھے اس جنگل میں گھسے ہوئے تین گھنٹے ہو چکے تھے۔ مجھے یاد آیا کہ میں نے اپنے دوست سے جنگل اور دریا کی سیر کا ذکر ضرور کیا تھا مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ میں کس دن اور کس وقت جاؤں گا۔ اب مجھے یاد آ رہا تھا کہ میرے دوست نے کہا تھا کہ وہ ویک اینڈ پر فارغ ہوگا تو اسی دن وہ میرے ساتھ جا سکے گا۔ مگر میں تو اسے بتائے بغیر ہی یہاں آ گیا تھا۔ اب کیا ہوگا؟ اس خیال نے مجھے مزید خوفزدہ کر دیا۔ پولیس بھی میری تلاش میں اسی وقت آئے گی جب میرے دوست کو تشویش ہوگی کہ میں کہیں کھو گیا ہوں۔ اسے کیا پتا کہ میں جنگل میں بھٹک رہا ہوں!

جنگل اور دریا ہمیشہ مجھے اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ جب مجھے اس جنگل کا علم ہوا کہ اس کے بیچوں بیچ دریا بہتا ہے تو میں نے فوراً یہاں آنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ سوچا تھا شام کو ہلکی ہلکی سردی میں دریا کے کنارے الاؤ روشن کر کے کافی پی جائے گی اور اگر ممکن ہوا تو آگ پر گوشت بھی بھونا جائے گا۔ آج سہ پہر کو جب میں جنگل میں داخل ہوا تھا تو اچھے خاصے لوگ دریا کی سیر کے لیے آئے ہوئے تھے، کچھ لوگوں کے پاس میں نے خیموں کا سامان بھی دیکھا تھا۔

آخر وہ لوگ بھی تو یہیں کہیں ہوں گے، انہوں نے بھی تو رات اسی جنگل میں بسر کرنی ہوگی، کاش کہیں کوئی خیمہ نظر آ جائے تو میری پریشانی کچھ کم ہو۔ میں نے ایک مرتبہ پھر اپنا موبائل فون نکال کر دیکھا، رابطے کا کہیں نشان نہیں تھا۔ میں نے مایوس ہو کر دوبارہ سگریٹ سلگا لیا۔ شکر ہے کہ لائٹر کی گیس کم نہیں ہوئی تھی۔ اگر کہیں آگ جلانی پڑی تو کام بن جائے گا۔ میں نے اونی مفلر کو اپنی گردن کے گرد لپیٹ کر اس بات کو یقینی بنایا کہ کہیں میری گردن کو سردی نہ لگے۔ لیکن فوراً ہی مجھے احساس ہوا کہ میری یہ کوشش ناکافی ہے کیونکہ ٹھنڈ یک دم ہی بڑھ گئی تھی۔ اس سے پہلے مجھے جنگل کی سردی کا کوئی تجربہ نہیں تھا، ویسے بھی یہ جنگل ملک کے ایسے حصے میں تھا جہاں گرمیوں میں بھی موسم کچھ سرد ہی رہتا ہے۔

موت کا خوف کیا ہوتا ہے، اس کا احساس مجھے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ میں نے موت کے بارے میں سوچا ضرور تھا مگر ایسی کسی موت کا کبھی تصور نہیں کیا تھا۔ شاید کوئی بھی ایسی موت کا تصور نہیں کرتا، اپنی نارمل زندگی میں ایک جیتا جاگتا انسان کیوں اذیت ناک موت کے بارے میں سوچے گا؟ اچانک مجھے ایک خوفناک احساس ہوا، مجھے لگا جیسے میں جنگل میں تنہا نہیں ہوں بلکہ میرے ساتھ لاکھوں روحیں یہاں موجود ہیں، ان تمام لوگوں کی روحیں جو ناگہانی اور سفاک موت کا شکار ہوئے۔

اس خیال نے میرے جسم پر کپکپی طاری کر دی، شدید سردی کے عالم میں بھی میرا جسم پسینے میں نہا گیا، میں نے اپنے ماتھے پر ہاتھ پھیرا مگر مجھے کسی قسم کے لمس کا احساس نہیں ہوا۔ مجھے لگا کہ میں مر چکا ہوں اور میری روح بھی ان لاکھوں کروڑوں بے بس لوگوں کی روح کے ساتھ جنگل میں بھٹک رہی ہے! اتنے میں اچانک مجھے سامنے کچھ روشنی دکھائی تھی، پہلے مجھے یوں لگا جیسے یہ وہم ہے، مگر تھوڑی دور چلنے کے بعد اس روشنی کا منبع واضح ہو گیا۔ یہ روشنی

ایک چھوٹے سے مکان سے چھن کر باہر آ رہی ہے۔ میں نے پوری قوت جمع کی اور تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے مکان کی طرف چل پڑا۔ یک دم نہ جانے کہاں سے مجھ میں تیز چلنی کی توانائی آ گئی تھی حالانکہ تھوڑی دیر پہلے تک میری کم ہمتی کا یہ عالم تھا کہ میں بے ہوش ہو کر گرنے والا تھا۔ اور اگر میں اس ٹھنڈ میں بیہوش ہو کر گر جاتا تو میری موت یقینی تھی۔ میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا اس مکان کے دروازے تک پہنچ گیا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔

یوں لگتا تھا جیسے اس کا مکین ابھی مکان میں داخل ہوا ہے۔ تاہم مکان میں کے اندر سے کسی بھی قسم کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ میں نے ہمت کر کے دستک دی، تھوڑی دیر بعد ایک ادھیڑ عمر شخص سیاہ رنگ کا لباس پہنے نمودار ہوا۔ اس کے چہرے کے تاثرات سے لگتا تھا جیسے اسے میرے آنے کا پیشگی علم ہو یا وہ مجھے پہلے سے جانتا ہو۔ مجھے کچھ حیرت تو ہوئی مگر میں نے اس بات کو بھی اپنا وہم جانا اور بغیر وقت ضائع کیے اس شخص سے جنگل سے باہر جانے کا راستہ پوچھا۔

میری بات سن کر اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے مجھے اندر آنے کا اشارہ کیا۔ نہ جانے کیوں مجھے اس کی مسکراہٹ بہت خوفناک لگی، تاہم میں ڈرتے ڈرتے اندر داخل ہوا اور پھر جس منظر پر میری نظر پڑی اس نے میرا دل دہلا دیا۔ مکان میں قطار اندر قطار کمرے بنے ہوئے تھے، کسی بھی کمرے کا کوئی دروازہ نہیں تھا اور ہر کمرے میں بے بسی کی تصویر بنے درجنوں لوگ موجود تھے جن کی شکل سے لگ رہا تھا جیسے وہ یہاں کئی برس سے قید ہیں۔ سیاہ لباس میں ملبوس شخص نے مجھے بھی ایک کمرے میں جانے کا اشارہ کیا، میں جانا نہیں چاہتا تھا مگر مجھے لگا جیسے کوئی زبردستی گھسیٹتے ہوئے لے جا رہا ہو۔ میں نے بہت ہاتھ پیر مارے مگر بات نہ بنی۔ اب میں بھی انہی لوگوں کی طرح جنگل کے اس مکان کا قیدی تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 174 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada