شطرنج کی تین بازیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بارہ برس بعد گھورے کے بھی دن پھر جاتے ہیں۔ میں گھورے سے کچھ بہتر نکلا کہ پانچ برس بعد ہی دن پھرنے کا موقع آ گیا۔ ایسا ہی ایک دن تھا۔ بساط بچھائی تو دونوں جانب سے توقعات میں تبدیلی کا گمان نہیں تھا۔ کھیل آگے بڑھتا گیا۔ بہت سی اور بازیوں کی طرح یہ بازی بھی طویل ہوتی گئی۔ ابو کی بہترین چالیں اسپ کے ساتھ ہوتی تھیں اور ان کی شاگردی کا نتیجہ یہ تھا کہ میرا کھیل بھی اسپ کے گرد گھومتا تھا۔ ابو کی کوشش ہوتی تھی کہ جہاں کھیل پھنسے وہاں اپنا فیل اور میرا اسپ لڑا دیں۔ میں اسپ بچانے کی کوشش میں ہوتا اور شاید اسی کوشش میں کھیل اکثر میرے ہاتھ سے پھسل جاتا۔ کئی اور کھلاڑیوں سے کھیلنے کے بعد کھیل میں جو بہتری اور سوچ میں جو تبدیلی آئی تھی، وہ اس دن اس بازی میں کھلتی چلی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے اسپ سے توجہ ہٹا کر رخ اور فیل کے ساتھ حملے شروع کر دیے۔ قلعہ بنا تو اس میں نقب بھی لگ گئی۔ شاہ تھوڑی دیر ادھر ادھر پھرتا رہا پھر ایک کونے میں محصور ہونے پر مجبور ہو گیا۔ پیادے آگے بڑھے اور وہ راستہ بھی مسدود ہو گیا۔ ابو کا دفاع پر مجبور ہونا ان کے لیے غیر متوقع تھا۔ اسی میں وہ ایک غلطی کر بیٹھے۔ غلطی کے بعد میری جارحانہ پیش قدمی بڑھتی گئی۔ شروع سے لاتعلق اسپ باہر نکلا۔ ایک شہ۔ دوسری شہ۔ اور یہ شہ مات۔

کچھ دیر تو یقین ہی نہ آیا کہ یہ کیا معجزہ ہو گیا ہے۔ ابو دونوں ہاتھوں میں سر تھامے شاید پچھلی چالیں ذہن میں دوبارہ چل رہے تھے پر جو بے یقینی میری آنکھوں میں تھی، وہی ان کی عینک کے شیشوں کے پیچھے سے بھی صاف پڑھی جاتی تھی۔ یہ تو میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ شطرنج کی بساط پر ابو رشتے کا پاس رکھنے کا عادی نہیں تھے۔ زندگی میں ہر قدم پر وہ میری کامیابی سے شاداں ہوتے تھے۔ جب بھی کسی میدان میں میں ان سے آگے نکلا تو ان سے زیادہ خوش میں نے کسی کو نہیں پایا۔ البتہ شطرنج میں ان کے لیے میں بیٹا نہیں، ایک حریف تھا۔ ایک ایسا حریف جسے سکھایا بھی انہوں نے تھا سو ان کے لیے میرا ہارنا ان کی مہارت پر مہر تصدیق تھی پر میرا جیتنا کھیل پر ان کی گرفت کمزور ہونے کا اشارہ اور یہ ان کے لیے ناقابل قبول تھا۔

”ایک بازی اور“

اس سے پہلے کہ میں کمرے سے باہر نکل کر فتح کے جشن کا کوئی انتظام کرتا۔ اور کچھ نہیں تو صحن میں بھنگڑا ہی ڈال لیتا یا شمی کپور کی طرح یاہو کا نعرہ مستانہ لگاتا، ابو نے بساط پر مہرے لگانے شروع کر دیے۔ ان کے لیے میری جیت گویا ایک غیر معمولی واقعہ تھا، ایک معجزہ، ایک خلاف فطرت واقعہ، ایک سائنٹیفک اناملی۔ جسے درست کرنا ضروری تھا اور اس میں تاخیر تباہ کن ہو سکتی تھی۔

خیر صاحب۔ دوسری بازی لگی۔ اس دفعہ ابو نے ہر چال میں طویل وقفے لیے۔ شاید ہر چال سے پہلے پانچ چالیں آگے کی سوچیں تو مہرے کو ہاتھ لگایا۔ ہوتے ہوتے دوسری بازی بھی طویل ہوتی گئی۔ مہرے بساط پر رقص کناں تھے۔ فرزیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے، رخ فیل کے ناکام تعاقب پر مجبور، اسپ سرپٹ طوفان بنے ہوئے۔ ایک شاہ قلعہ بند تو دوسرا کھلے میدان میں خیمہ زن۔ پیادے بڑھتے گئے، گرتے گئے۔ بازی سمٹی تو نتیجے نے بتایا کہ فطرت نے ارتقا کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ ابو کی آنکھوں میں دوسری ہار کی بے یقینی پہلی ہار سے کم تھی، شک کی لو دھیمی تھی پر چراغ اب بھی جلتا تھا

”آخری بازی“

اب مجھے بھی جشن سے زیادہ اس میں دل چسپی تھی کہ میری نفسیاتی حد کیا واقعی مسمار ہو گئی ہے۔ کیا میرا یقین اپنے پر پہلے سے سوا ہونے کا لمحہ آ گیا ہے یا نہیں۔ ایک گھنٹے کی بات تھی۔ تیسری مسلسل فتح کے بعد شک کی گنجائش ختم ہو گئی۔ ابو نے بساط سمیٹی۔ مہرے ڈبے میں بند کیے۔ اٹھنے سے پہلے نظر بھر مجھے دیکھا اور بولے

”گڈ گیم، کل پھر کھیلتے ہیں“

اس کے بعد کئی کل آئے۔ کئی بازیاں سجیں لیکن شاید ابو کی مہارت ایک جگہ تھم گئی تھی اور میری سیکھ میں صرف بہتری ہی ممکن تھی۔ اس دن کے بعد ابو کبھی مجھ سے نہیں جیتے۔ ہماری بازی اب ایک نئی طرح کی ریت تھی جس میں فتح اور شکست نے اپنی نشستیں گویا ہمیشہ کے لیے تبدیل کر لی تھیں۔ جس طرح ابو نے شطرنج کی بساط پر مجھے کبھی رعایت نہیں دی تھی اسی طرح میں بھی یہ قرض لوٹاتا چلا گیا۔ بغیر کسی رو رعایت میرا کھیل جارحانہ ہوتا چلا گیا۔ رفتہ رفتہ بازیاں طویل کے بجائے مختصر ہو گئیں۔ میری فتح اور ابو کی شکست اب ایک ان لکھا اصول تھا جس کا سکرپٹ ہم بار بار دہراتے۔

وقت گزرتا گیا۔ سکول سے کالج، کالج سے یونیورسٹی، یونیورسٹی سے کام کی دنیا، شادی، بچے، لاہور سے ہجرت، واپسی، پھر ہجرت، ایک سوئے ہوئے شہر میں ہمکتی ہوئی زندگی کی تگ و دو اور اس کے بیچ شطرنج کے کچھ پرانے، کچھ نئے حریف، کم کم، کبھی کبھی، لو دھیمی ہو گئی پر چراغ جلتا رہا۔ زندگی کی مصروفیت کا بہانہ کہیے، محبتوں کی بدلتی رتوں کا زمانہ یا سود و زیاں کے نئے پیمانوں کا شاخسانہ، پر ابو کے ساتھ نشستیں کم سے کم ہوتی گئیں۔ بعض اوقات مہینوں بعد ملاقات ہوتی۔ وقت کم سے کم، پر اس وقت میں ابو ایک آدھ بازی کی گنجائش نکال ہی لیتے، اس آس پر کہ بیتا وقت شاید پھر لوٹ آئے، اس راہ نہ سہی، اس راہ سہی۔ پر پلوں کے نیچے اب پانی ایک ہی سمت بہتا تھا۔ نہ وقت کی رفتار الٹی نہ ہماری بازیوں کا میزان۔ ہر بازی کے بعد میری فتح کا تناسب اور ابو کی ہار کا بوجھ بڑھتا چلا گیا۔

ابو سے میرے رشتے میں ہمیشہ وہی جھجک اور وہی خلیج حائل رہی جو ہمارے معاشرے میں باپ کے احترام اور بیٹے کی فرمانبرداری کے نام پر ہمیشہ سے زندگی میں ایک دراڑ کی صورت موجود رہتی ہے۔ باپ اور بیٹا دریا کے وہ دو کنارے رہ جاتے ہیں جن کے بیچ محبت کا دریا اور شفقت کا پانی بہتا تو ہے لیکن کناروں کی دوری کو ملانے والا بے ساختگی، بے تکلفی اور دوستی کا پل کبھی نہیں بن پاتا۔

سوائے شطرنج کی بساط کے، ہم دونوں بھی زندگی بھر وہی دو کنارے رہے۔ محبت کہیں دبے پاؤں، دھیمے دھیمے کانوں میں سرگوشی کی صورت رہی، کبھی ایک خوش آہنگ نغمے میں نہ ڈھل سکی جس کی دھن پر ہم قدم ہو کر باپ بیٹا رقص کر سکتے۔ شطرنج کا کھیل البتہ دو ایسے حریفوں کے بیچ ہوتا جو ایک دوسرے کو برابر جانتے اور برابر سمجھتے ہوئے زور آزمائی کرتے۔ ان لمحوں میں تکلف کی سب دیواریں منہدم کر دی جاتیں۔ جھجک کے سب پردے اٹھا دیے جاتے۔ ہمارے درمیان دوستی کے بس یہی چند لمحے تھے، دشمنی کی بس یہی چند ساعتیں تھیں۔ شاید اسی لیے ہم اس کھیل سے ہمیشہ جڑے رہے۔

لاہور سے ہجرت ہوئی تو انہی دنوں میں ابو کی بیماری شدت اختیار کر گئی۔ بیماری لاعلاج تھی پر لوگ اس کے ساتھ بہت برس بھی گزار دیتے تھے۔ ابو کو لیکن سسک سسک کر جینے سے کوئی خاص دل چسپی نہیں تھی۔ زندگی انہوں نے اپنی شرطوں پر، بہت وقار سے گزاری تھی۔ خاندان کے بڑے بھی انہیں اپنے سے بڑا سمجھتے تھے۔ وہ ایک ایسا چھتنار درخت تھے جو صرف دوسروں کو سایہ دینے کے لیے تخلیق ہوا تھا۔ ہم تک آنے والی ہر بے مہر دھوپ اس درخت سے یوں چھنی تھی کہ ہم تک محض زندگی کی ضامن گرمائش ہی پہنچی۔ اس گھنے درخت کی گتھی ہوئی شاخوں نے ہر طوفان میں کھڑے ہو کر ہم تک بوندوں کی دل جو جلترنگ کا راستہ بنایا پر گرتی ہوئی کوئی بجلی، برستا ہوئی کوئی ژالہ ہم تک نہیں پہنچنے دیا۔ ابو کو شاید لگتا تھا کہ وہ عمر بھر اسی قد سے کھڑے رہیں گے۔ یہ نہ انہوں نے گمان کیا تھا نہ ہم نے سوچا تھا کہ درخت کو دیمک بھی لگ سکتی ہے۔

بیماری نے ایک دبنگ انسان کو نحیف ڈھانچہ بنانے میں دیر نہیں دکھائی۔ لیکن اس ڈھانچے کو ایک زندہ لاش میں ایک اور حادثے نے بدلا۔ امی اور ابو کا رشتہ بڑا غیر روایتی رشتہ تھا۔ دنیا میں ایک دوسرے کے وہ سب سے گہرے دوست بھی تھے اور ایک دوسرے کے سب سے بے رحم ناقد بھی لیکن ان کی محبت کی گہرائی کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوا جب ابو کی لاعلاج بیماری کا غم امی کو ان سے پہلے کھا گیا۔ ادھر امی گئیں، ادھر ابو نے جینے کی ہر خواہش چھوڑ دی۔ امی کے بعد ابو کے علاج کی ہر سبیل آزما لی گئی۔ چھوٹے بھائی نے اپنے جسم کا ایک حصہ ودیعت کر ڈالا کہ ابو کی ٹوٹتی سانسوں کو کچھ اور دن کی مہلت مل سکے، کون سا ہسپتال، کون سا طبیب، کون سی دوائی، کون سا آپریشن، امید کے ہر راستے پر ابو کو ہم اپنے کاندھوں پر اٹھائے گئے لیکن ابو نے کسی راہ پر پیر نہیں دھرے۔

امی کو گئے چھ ماہ ہو گئے تھے۔ ابو کے علاج کے لاحاصل کوششیں صبح دم میرے گھر کی دہلیز سے شروع ہوتی تھیں اور شام گئے اسی دہلیز پر اس آس پر دھری ملتی تھیں کہ شاید آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے بہتر ہو۔ کسی کسی دن ابو بس اتنی ہمت جٹا پاتے تھے کہ بستر سے اٹھ کر کچھ دیر کے لیے تکیوں کے سہارے لاؤنج کے صوفے پر نیم دراز ہو جاتے تھے۔ ہمارے لیے برے اور اچھے دن میں بس یہی فرق تھا۔ تو وہ بھی ایک اچھا دن تھا۔ ابو صوفے پر نیم دراز تھے اور میں ان کے سامنے کرسی پر بیٹھا تھا۔ ان دونوں ہمارے پاس کہنے سننے کو شاید کچھ بچا نہیں تھا اس لیے دونوں خاموش ایک دوسرے کو دیکھتے تھے، اس انتظار میں کہ شاید دوسرا شخص کہیں سے گفتگو کا کوئی سرا اٹھا لے۔

”ایک بازی ہو جائے“
مجھے لگا میرے کان بجے ہیں
”جی، آپ نے کچھ کہا“
”ہاں، ایک بازی ہو جائے“

ابو سے شاید آخری دفعہ مجھے کھیلے ایک یگ بیت گیا تھا یا شاید ایک جنم۔ لیکن اس حالت میں شطرنج۔ کھیل بساط کا ہی سہی پر ابو کے اندر اتنی رمق مجھے نظر نہیں آتی تھی پر انکار کیونکر کرتا۔ اندر گیا، بساط لایا اور میز پر بچھا دی۔ ابو کے پیچھے دو اور تکیے لگائے تاکہ وہ بساط کے اتنے قریب آ جائیں کہ مہرے چل سکیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 166 posts and counting.See all posts by hashir-irshad