گوا: انڈیا میں حیاتیاتی تنوع والے مقام کو محفوظ بنانے کی جہدوجہد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Locals walking across Ashvem Beach, Mandrem, Goa, India during sunset on November 28, 2014.
Getty Images
انڈیا کے مغربی ساحل پر ایک سرسبز و شاداب ریاست گوا ہے جو سیاحت کے لیے بہت مشہور ہے۔ مگر اب گوا کے لوگ تین نئے تعمیراتی منصوبوں کے خلاف چند ہفتوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ صحافی ڈیل ڈی سوزا کی خبر کے مطابق مقامی آبادی کو یہ ڈر ہے کہ ان منصوبوں سے گوا کی حیاتیاتی تنوع متاثر ہو گا اور سرسبز و شاداب علاقہ کوئلے کے مرکز میں بدل دیا جائے گا۔

ایک مقامی سماجی کارکن کلاڈ ایلوریس نے ایک شام گوا کے مشہور کوئریم ساحل پر ریت میں ملے ہوئے کوئلے کا ایک لمپ اپنی مٹھی میں اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ کالے پتھر کے ٹکڑے نے ریاست کے مرکز سے تقریباً 70 کلومیٹر کی دوری پر مورموگوا پورٹ ٹرسٹ (ایم پی ٹی) سے یہاں تک پہنچا۔

ان کے مطابق یہ کوئلہ بہت ہلکا ہے۔ یہ پانی بہہ گیا جہاں لہریں اسے گوا کی ساحلی پٹی تک لے آئیں۔

ان کے مطابق اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ آپ گوا کی کسی بھی ساحلی علاقے میں پیدل چل رہے ہیں تو آپ کے قدموں کے نیچے ایسا کوئلہ موجود ہو۔

گوا کی ایم پی ٹی بندرگاہ اب مظاہروں کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس وقت اس بندرگاہ پر تقریباً نو ملین ٹن درآمدی کوئلہ موجود ہے ہمسایہ ریاستوں سے سٹیل پلانٹس کے لیے سڑک اور ریل کے ذریعے یہاں تک پہنچایا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ادانی، جے ایس ڈبلیو اور وِڈانتا جیسی کمپنیوں اور گروپس کے لیے ایم پی ٹی پورٹ سے 2030 تک 51.6 ملین ٹن کوئلے کی دیگر ریاستوں کے لیے نقل و حمل گوا ریاست سے ہی ہونی ہے۔

جب حکومت نے تین نئے منصوبوں کا اعلان کیا، جس میں ہائی وے کی توسیع، ریلوے کی پٹڑی کی دو رویہ کرنا اور ایک ٹرانسمیشن پاور لائن بچھانا شامل ہے تو اس پر ماحولیات پر کام کرنے والوں نے کہا کہ یہ کوئلے کی نقل و حمل آسان بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

گوا کی حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ حکومت کے مطابق ان منصوبوں سے کوئلے کا کوئی تعلق نہیں بنتا ہے۔

ریاست کی حکومت کے مطابق پاور لائن سے ریاست کو بجلی کی فراہمی یقینی ہو سکے گی جو ایک دیرینہ مطالبہ تھا۔ اسی طرح ہائی وے کی توسیع سے ٹریفک کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور ریل کی اضافی پٹڑی سے مال بردار اور مسافر بردار مزید ٹرینیں چلائی جا سکیں گی۔

تاہم ماحولیات پر کام کرنے والوں کو اس پر تحفظات ہیں کیونکہ یہ تینوں منصوبے گوا کے جنوب میں ایک محفوظ کیے گئے جنگل سے ہو کر گز رہے ہیں اور ان کے مطابق یہ ہمالیہ سے بھی پرانے جنگلات کی بقا کے لیے خطرہ ہیں۔

ریاست کی سیاحت کی صنعت بھی اس سے بہت ہیجان میں ہے۔

گوا کے سرسبزوشاداب جنگلات اور پرلطف ساحل جو ملک کے اندر اور باہر سے لاکھوں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ حکام کے خیال میں ان منصوبوں پر سیاحت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

حیاتیاتی تنوع خطرے میں ہے

محفوظ کیا گیا علاقہ 240 سکوائر کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے، جسے یونیسکو نے بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ دنیا کے آٹھ گرم ترین حیاتیاتی تنوع والے مقامات میں سے ایک ہے۔

یہ بارویں صدی کے ہندو مندر کی بھی جگہ ہے، جہاں دلکش آبشاریں اور جنگلات موجود ہیں۔

یہ محفوظ کیا گیا جنگل کا علاقے میں 128 انواع کے مختلف اقسام کے درخت، پرندے، تتلیاں، چھپکلیاں اور کئی اقسام کے جنگلی دودھ پلانے والے جانور موجود ہیں، جس میں بنگال ٹائیگرز اور پینگولین بھی شامل ہیں۔

مجوزہ ریلوے پٹریوں کے قریب گوا میں ایک مقام پر ڈریگن فلائی کی ایک نوع ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ٹرانسمیشن لائن سائٹ ہندوستان میں صرف ان دو مقامات میں سے ایک ہے جہاں پردے میں چپھ کر رہنے والی چیونٹیاں پائی جاتی ہیں۔

ہیراپیٹولوجسٹ اور کنزرویشنسٹ نِرمل کُلکرنی کا کہنا ہے کہ ان جنگلات میں ہی انھیں سکول کی ایک پکنک کے دوران اپنے پہلے دورے پر سانپوں سے اپنی محبت کے بارے میں معلوم ہوا تھا۔

اس وقت یہ علاقہ محفوظ مقام بھی نہیں بنایا گیا تھا مگر اس کے باوجود انھیں یاد ہے کہ کیسے ’ایک چھوٹی سی شور مچاتی ندی کو آہستہ آہستہ گہرے زمرد جیسے ہرے بھرے جنگل میں بہتی تھی۔

A waterfall at the reserve

Getty Images

نرمل کے مطابق اس کے بعد وہ کئی بار مولم کے نیشنل پارک بھی گئے۔

ان بارانی جنگلات میں رینگنے والے جانوروں اور زمین اور پانی والیحیرت انگیز تنوع پائی جاتی ہے، جن میں سے کچھ دنیا میں کہیں بھی نہیں پائے جاتے ہیں اور یہی تنوع ہے، جس کی ہمیں حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔

ِنرمل سینکڑوں ایسے شہریوں، سائنس دانوں، کارکنوں، طلبا اور دیگر افراد میں شامل ہیں جنھوں نے انڈیا کے وزیر برائے ماحولیات پرکاش جاواڈیکر سمیت ریاست اور مرکزی حکومت کے نمائندوں کو لکھے گئے خطوط پر دستخط کیے ہیں اور اس پارک اور اس کے قریبی جنگلی حیات والے علاقوں کو درپیش خطرات کے پیش نظر منصوبوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مولم کے تحفظ کو یقینی بنانا

مقامی آبادی نے اس وقت احتجاج شروع کیا جب وزیر برائے ماحولیات نے ویڈیو کانفرنس پر ہی ان تمام منصوبوں کی منظوری دے دی۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب مارچ میں انڈیا میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے چند دن قبل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا۔

ان منصوبوں کے خلاف مہم چلانے والے اس منصوبوں کی منظوری کے لیے اختیار کے گئے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ اب وہ ان منصوبوں پر نظر ثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تاہم وزیر برائے ماحولیات نے گوا میں اپنے حالیہ دورے کے دوران اس متعلق پوچھے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ مقامی آبادی کے تحفظات سے متعلق انھوں نے صرف یہ کہا کہ وہ بالکل ان تحفظات کو پڑھیں گے اور اس پیٹشین پر بھی غور کریں گے جو انھیں بھیجی گئی ہے۔

Campaigners camped out on a railway line to protest its expansion

Chevon Rodrigues

اس دورے کے فوراً بعد ہی ہزاروں مظاہرین نے چاندور میں ریلوے ٹریک پر راتوں رات ڈیرے ڈال لیے اور اس ٹریک میں توسیع کے خلاف آواز اٹھائی۔

ان میں سے چھ پر ہنگامہ آرائی اور غیر قانونی اسمبلی کا الزام عائد کیا گیا تھا حالانکہ دیگر موجود افراد کا کہنا ہے کہ وہاں کوئی غیر مہذب رویہ اختیار نہیں کیا گیا اور انھوں نے ہنگامہ آرائی جیسے الزامات کی تردید کی ہے۔

احتجاج میں شریک شیری فرنینڈس کا کہنا ہے کہ ’ہم وبا کے دنوں میں جمع ہو کر اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں تا کہ حکومت ہماری طرف توجہ دے سکے۔‘ ان کے مطابق اس مسئلے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ شعور پیدا کرنے کے لحاظ سے یہ کامیابی تھی، لیکن ہمارے مطالبات کے لحاظ سے یہ کامیابی نہیں تھی اور جب تک حکومت ہماری بات نہیں مانی گی تب تک نہیں ہوگی۔‘

مظاہرین یہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان تینوں منصوبوں کو واپس لینے کا اعلان کرے اور کوئلے سمیت ان منصوبوں کے لیے کی جانے والی ہر طرح کی اشیا کی نقل و حرکت بند کر دے۔

کیا کوئلہ ہی اس توسیع کی وجہ ہے؟

گوا کے وزیر اعلیٰ پرامود ساونت نے حال ہی میں کہا تھا کہ ’ہم کوئلے سے پاک گوا اور آلودگی سے پاک ماحول بھی چاہتے ہیں۔‘ ان کے مطابق ’ہم کوئلے کے متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ ہم گذشتہ سالوں میں نقل و حمل کی جانے والی کوئلے کی مقدار کو کم کریں گے اور بالآخر اسے روکیں گے۔‘

تاہم مہم چلانے والے ان الفاظ سے راضی نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق بجلی کی طلب پوری کرنے سے متعلق حکومتی دعوے اعدادوشمار اور حقائق سے منافی ہیں۔

ان کے مطابق جنگلات کے علاقے سے کٹائی بھی وفاقی حکومت کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت دوسری ریاستوں سے ملانے کے لیے نئے پورٹس کی تعمیر شامل ہے۔

سماجی کارکن ابھیجت پرابودیسائی کے مطابق تمام دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ گوا کوئلے کا گڑھ بننے جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ہم نے پانچ ماہ قبل یہ دستاویزات حکومت کے ساتھ بھی شئیر کی تھیں اور حکومت اس حوالے سے ایک بھی ایسی دستاویز پیش نہیں کر سکی جو ہمارے دعوؤں کو رد کر سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17389 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp