بلیک لائیوز میٹر کی بانی خواتین: ’ہم نے تاریخ کا رُخ موڑ دیا، ہمارے کارنامے کتابوں میں درج ہوں گے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنہ 2020 کو بہت ساری چیزوں کے لیے یاد رکھا جائے گا۔ اور ان چیزوں میں پوری دنیا میں ’بلیک لائیوز میٹر‘ تحریک کا عروج بھی شامل ہے۔

اس تحریک نے نسل پرستی اور پولیس کی بربریت کے خلاف بڑی بڑی ریلیوں اور انتہائی اہم کیمپینز کا آغاز کیا ہے۔

اس تحریک کی بنیاد رکھنے والی تینوں خواتین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں اس تحریک نے سیاست کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

ایلیسیا گارزا کا کہنا ہے ’ہمارے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ سیاہ فام افراد تاریخ کا رُخ بدلنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور ہمیں کامیابی ملی۔‘

بی ایل ایم کی تین شریک بانیوں، ایلیسیا گارزا، پیٹریس کلرز اور اوپل توومیٹی نے بی بی سی 100 ویمن ماسٹرکلاس 2020 میں خطاب کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سٹیسی ابرامز: جو بائیڈن کی فتح میں کلیدی کردار ادا کرنے والی سیاہ فام خاتون

ٹرمپ کی مخالفت: واشنگٹن کے میئر نے وائٹ ہاؤس جانے والی سڑک کا نام تبدیل کر دیا

امریکہ کی پہلی خاتون اور غیر سفیدفام نائب صدر منتخب ہونے والی کملا ہیرس کون ہیں؟

ان تینوں نے سنہ 2013 میں غیر مسلح سیاہ فام نوعمر ٹریوون مارٹن کو گولی مار کر ہلاک کرنے والے پولیس اہلکار جارج زیمرمین کو بے قصور قرار دیے جانے والے فیصلے کے بعد امریکہ میں بلیک لائیوز میٹر نامی تحریک شروع کی تھی۔

رواں برس سیاہ فام جاج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد امریکہ میں دوبارہ مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

فلائیڈ، جن کی عمر 46 سال تھی، مینیاپولس شہر میں 25 مئی کو مبینہ طور پر جعلی نوٹوں سے سگریٹ خریدنے کی ایک شکایت کے بعد تحقیق کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

People take part in a protest on 8 July 2016 in New York City

Getty Images
2016 میں بھی پولیس افسران کے ہاتھوں سیاہ فام افراد کی ہلاکت کے بعد بلیک لائیوز میٹر تحریک کے تحت مظاہروں کی ابتدا کی گئی تھی

اس واقعہ کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ان کو گرفتار کرنے کے لیے ایک پولیس اہلکار ان کی گردن پر اپنا گھٹنا ٹیکے بیٹھا ہے جبکہ وہ درد سے کراہ رہے تھے اور پولیس اہلکار کو بتا رہے تھے کہ اُن کا دم گھٹ رہا ہے۔

اس واقعہ کے بعد سے امریکہ میں ملک گیر سطح پر عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

گارزا کہتی ہیں ’سات سالوں بعد بھی بلیک لائیوز میٹر واقعی اس ملک کے ڈی این اے اور یاداشت میں محفوظ ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کیسے ہماری کمیونٹی کے لوگوں، ہمارے خاندان کے افراد کو کیمرے کے سامنے قتل کیا جا رہا ہے۔‘

’لیکن جب اس تحریک کے تحت دوسری مرتبہ مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا، تو ابھی بھی بہت سارے طریقوں سے بڑے بڑے نشریاتی ادارے صرف اور صرف منفی خبروں پر توجہ دے رہے ہیں۔‘

’جب بار بار تشدد کیا جائے تو اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ذمہ داری ہم پر آن پڑتی ہے۔ لیکن کوئی بھی اس تشدد کے بارے میں بات نہیں کرتا جو ہماری کمیونٹی کے افراد کو ناصرف حکومت کی عدم توجہی بلکہ پولیس افسران کے ہاتھوں بھی سہنا پڑتا ہے۔‘

’اب اس میں ایک نیا عنصر شامل ہو گیا ہے اور وہ ہیں قانون کو ہاتھ میں لینے والے افراد اور خود کو برتر سمجھنے والے سفید فام افراد کی جانب سے کیے جانے والا تشدد۔‘

تشدد اور ناانصافی کے خلاف جاری رہنے والی جدوجہد کے باوجود، خاص طور پر جب امریکی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کے متعلق بات کی جائے تو بی ایل ایم کی بانی خواتین نے ایک مثبت تاثر چھوڑا ہے۔

اور صدارت کے امیدوار جو بائیڈن کی فتح میں اہم کردار ادا کرنے کا سہرا سیاہ فام خواتین کو دیا جا رہا ہے۔

بی ایل ایم کی ان تینوں سرکردہ خواتین نے کملا ہیرس کے لیے حمایت کا اعلان کیا تھا۔ نومنتخب نائب صدر کملا ہیرس نے امریکہ کی پہلی خاتون، پہلی سیاہ فام اور پہلی ایشیائی کی حیثیت سے تاریخ رقم کی ہے۔

لیکن بی ایل ایم کی بانی خواتین کا کہنا تھا کہ وہ ’صرف ایک علامت کے طور پر ان کی لابنگ نہیں کریں گی بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہماری کمیونٹیز کے حقوق کے لیے لڑیں۔‘

بی ایل ایم

Getty Images

اوپل توومیٹی کا کہنا تھا ’جس طرح سے ناصرف بی ایل ایم بلکہ دوسری تحریکیں سامنے آئی ہیں اوران کے نتیجے میں جس سیاسی فکر کو سامنے لایا گیا ہے، میں اس سے بہت خوش ہوں۔‘

’مجھے لگتا ہے کہ ہماری تحریکیں پوری طرح سے یہ دکھا رہی ہیں کہ ایک دوسرا راستہ بھی موجود ہے اور میں شکر گزار ہوں کہ میں ایسے وقت میں زندہ ہوں اور یہ سب ممکن ہوتے دیکھ رہی ہوں۔‘

رواں سال اس تحریک کے کردار میں کس طرح تبدیلی آئی ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے گارزا نے کہا کہ بی ایل ایم تیزی سے دنیا بھر میں رابطے قائم کر رہی ہے، جس میں نائجیریا میں پولیس تشدد کے خلاف #EndSars جیسے احتجاج کے لیے آواز اٹھانا بھی شامل ہے۔

انھوں نے کہا ’ہم سیاست کو تبدیل کر رہے ہیں لیکن ہم اقتدار اور اندازِ حکومت کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہی رہیں۔‘

پیٹریس کلرز کا کہنا تھا کہ سنہ 2020 میں بی ایل ایم کی جانب سے انجام دیے گئے کارنامے تاریخ کی کتابوں میں درج ہوں گے۔

’مجھے جس چیز سے بہت خوشی ملتی ہے، وہ یہ ہے کہ میرا بچہ اس بات پر فخر کر سکتا ہے کہ اس کی ماں نے دوسری سیاہ فام خواتین کے ساتھ مل کر ہر وہ کام کیا جو وہ کر سکتی تھی، اور ہم اس دنیا کو اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بہتر بنانا چاہتے ہیں۔‘

’میں بہت خوش ہوں کہ ہماری تاریخ اس طرح سے بتائی جائے گی۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17267 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp