محسن فخری زادہ کی ہلاکت: ایران انتقام کے لیے کن آپشنز پر غور کر سکتا ہے؟

فرینک گارڈنر - بی بی سی، سکیورٹی نامہ نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محسن
Getty Images
اسلامی جمہوریہ ایران اس بات پر غور کر رہا ہو گا کہ وہ گذشتہ جمعے کو ہونے والے اپنے ایک اعلی پائے کے ایٹمی سائنسدان کے متنازع قتل کا جواب کس طرح دے سکتا ہے؟

محسن فخری زاداہ کو دارالحکومت تہران کے باہر ایک سڑک پر پراسرار حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا اور سوموار کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ ان کی تدفین کر دی گئی۔ کسی بھی ملک یا گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن ایران کے رہنماؤں نے اسرائیل کو مورد الزام ٹھہرایا ہے اور بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

تو جواب کے لیے ایران کے پاس کیا آپشنز ہیں اور اس پر عملدرآمد میں انھیں درپیش رکاوٹیں کیا ہیں؟

پہلا آپشن: جوہری پروگرام کو تیز کریں

ایران پہلے ہی اپنا ابتدائی جواب دے چکا ہے۔ حملے کے 72 گھنٹوں کے اندر ہی ایرانی پارلیمان نے اپنے سول جوہری پروگرام میں ’تیزی‘ لانے کی منظوری دے دی ہے جس سے ’جے سی پی او اے‘ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ایران نے دنیا کے چھ ممالک کے ساتھ جوہری سمجھوتہ کیا تھا جس کے تحت ایران ایک مخصوص حد تک یورینیم کی افزودگی کر سکتا ہے مگر اس منظوری کے بعد یورینیم افزودگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

محسن فخری زادہ کے قتل کے پیچھے کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟

ایران اور اسرائیل کا مسئلہ ہے کیا؟

ایران: ’محسن فخری زادہ کو ریموٹ کنٹرول ہتھیار کے ذریعے ہلاک کیا گیا‘

خیال رہے کہ اس معاہدے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 2018 میں ترک کر دیا تھا۔

فخری زادہ نہ صرف ایک اہم جوہری سائنسدان تھے بلکہ ان کا دفاعی نظام میں بھی اہم کردار تھا جس کا اندازہ ان کے جنازے میں فوجی شخصیات کی تعداد اور شرکت سے ہوتا ہے۔

ایٹمی پروگرام کو تیز کرنا دنیا کے سامنے ایران کی مزاحمت کا ایک طریقہ ہے کہ اس قتل کے باوجود ایران کی ایٹمی سرگرمیاں جاری رہ سکتی ہیں۔ اگرچہ یورینیم کی افزودگی میں کسی بھی اضافے سے یہ شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں کہ ایران جوہری بم بنانے کی کوشش کر سکتا ہے لیکن ان کے اس قدم کو کسی حد تک واپس لوٹایا جا سکتا ہے؟

محسن

Getty Images

دوسرا آپشن: پراکسی کا استعمال

ایران کے پاس بہت ساری ’پراکسی‘ ملیشیا ہیں جنھیں وہ لبنان، عراق، شام اور یمن سمیت پورے مشرق وسطی میں فنڈ دیتا ہے اور تربیت و اسلحہ فراہم کرتا ہے۔

جب ستمبر سنہ 2019 میں سعودی عرب کے تیل پروسیسنگ کے کارخانوں پر ڈرون اور کروز میزائلوں کے پے در پے حملے ہوئے تو ایران کا یہ مؤقف تھا کہ وہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے ہیں حالانکہ وہ شمال سے آئے تھے۔

مغربی ممالک کی انٹیلیجنس نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ یہ ایران کی جانب سے کیا جانے والا حملہ تھا جو کہ سعودی عرب کو خبردار کرنے کے لیے کیا گیا تھا کہ اور یہ بتانے کے لیے کہ وہ سعودی عرب کی معیشت کو کتنا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایران کے پاس اب بہت سارے متبادل موجود ہیں جسے وہ سرگرم کر سکتا ہے۔ وہ لبنان میں حزب اللہ کو یا غزہ میں حماس کو اسرائیل پر راکٹ فائر کرنے کے لیے کہہ سکتا ہے۔

وہ عراق میں شیعہ ملیشیا کو وہاں موجود امریکیوں کی کم ہوتی ہوئی موجودگی کو نشانہ بنانے کے لیے کہہ سکتا ہے یا پھر وہ یمن کے حوثیوں کو سعودی عرب پر اپنے حملوں میں اضافہ کرنے کے لیے کہہ سکتا ہے۔ لیکن ان سب کے ساتھ خطرہ یہ ہے کہ ان کے خلاف جوابی کارروائی ہو سکتی ہے۔

جوہری پروگرام

EPA

تیسرا آپشن: جان کا بدلہ جان

ایران کے لیے یہ زیادہ خطرناک راستہ ہو گا کہ وہ محسن فخری زادہ کے ہم پلہ کسی اسرائیلی شخصیت کے قتل کی کوشش کرے۔

ایران پہلے بھی یہ مظاہرہ کر چکا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کی سرحدوں سے باہر بھی حملہ کرنے کی اچھی صلاحیت رکھتا ہے۔ سنہ 2010 اور سنہ 2012 کے درمیان چار ایرانی جوہری سائنسدانوں کی پراسرار ہلاکتوں (یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان ہلاکتوں کے پس اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد تھی) کے بعد ایران کے اتحادی حزب اللہ کو سنہ 2012 میں بلغاریہ میں اسرائیلی سیاحوں سے بھری ایک بس پر خودکش بم حملہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

اس سے کئی سال قبل حزب اللہ اور ایران کو ارجنٹائن میں اسرائیلی مفادات پر مہلک حملوں کا الزام لگایا گیا تھا۔ ابھی حال ہی میں یورپ میں ایرانی ایجنٹوں پر ایران سے برگذشتہ افراد کو نشانہ بنانے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس میں خفیہ کارروائیوں میں خصوصی طور پر تربیت یافتہ ٹیمیں ہیں جن میں قتل کرنے والی ٹیم بھی ہے۔

لیکن محسن فخری زادہ کے حفاظتی گھیرے میں ایسی واضح کمی سے ظاہر ہوتا ہے ان کے قاتلوں کو نہ صرف ان کے راستے کا صحیح علم تھا بلکہ ان کی روانگی کا وقت بھی معلوم تھا۔ ایسے میں ایران کو اپنے ہی ملک میں موجود کمزوریوں کی یاد دہانی ہوتی ہے۔

ایران یہ بھی جانتا ہے کہ اگر وہ اسرائیل کو براہ راست نشانہ بناتا ہے تو اس کے جواب میں اس کو زیادہ نقصان دہ حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسرائیل اب عرب دشمنوں سے گھری ہوئی کوئی تنہا ریاست نہیں۔ آج متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ قریبی تعاون کے ساتھ ان کے خوشگوار تعلقات بھی ہیں اگرچہ ابھی سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات پوشیدہ و مخفی ہیں۔

لہذا ایران کے فوجی منصوبہ ساز محتاط انداز میں سوچ رہے ہوں گے کہ کس طرح سے ایسا کامیاب جواب دیا جائے کہ جس سے قومی فخر بحال ہو لیکن اس کی وجہ سے ایران پوری طرح سے جنگ میں بھی نہ جائے اور اس کے فوجی انفراسٹرکچر پر تباہ کن ہوائی حملے نہ ہوں۔

احتجاج

EPA
محسن فخری زادہ کے قتل کے خلاف تہران میں طلبہ کا مظاہرہ

چوتھا آپشن: کچھ نہ کریں

یہ بظاہر غیر متوقع لگتا ہے لیکن کم از کم ابھی کے لیے اس آپشن پر بھی غور کیا جا رہا ہو گا۔ اگرچہ لندن میں ایران کے سفیر نے ہمیشہ کہا ہے کہ امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج سے ان کی حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ سے اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ تہران کے ساتھ تعلقات کی تجدید کرے۔

بائیڈن کے وائٹ ہاؤس میں معتدل آوازیں ہوں گی، بطور خاص وزارت خارجہ اور تجارتی دنیا کے تعلق سے جو کہ ضبط کے مظاہرے کی بات کریں گے یا پھر کم از کم کسی بھی رد عمل میں تاخیر سے کام لیں گے تاکہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی معاہدے کو کامیابی کا موقع فراہم ہو۔

نو منتخب صدر جو بائیڈن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکہ کو جوہری معاہدے میں واپس لانا چاہتے ہیں جسے صدر ٹرمپ نے ترک کر دیا تھا۔ ایران کے لیے اس کا مطلب پابندیوں کا ختم ہونا اور اربوں ڈالر کی آمد ہے۔

انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کے ایمایل ہوکایم کا کہنا ہے کہ ’اصل رکاوٹ یہ ہے کہ اگر ایران لڑنے کے لیے نکل پڑتا ہے تو اس بات کا امکان کم ہو جائے گا کہ وہ آنے والی بائيڈن انتظامیہ کے ساتھ کوئی معاہدہ کر سکے۔‘

ایران میں بھی جون میں انتخابات ہونے والے ہیں جن میں سخت گیروں کو اچھی کارکردگی کی امید ہے۔ بلندوبانگ بیان بازیوں کے باوجود کچھ احتیاط برتی جائیں گی تاکہ انتخابات میں انھیں ناکامی کا منہ نہ دیکھنا پڑے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17284 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp