ناسا کے زمینی عملے میں کام کرنے کا خواہشمند آئرش بچہ جس نے دنیا کے سائنسدانوں کے دل جیت لیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن میں آپ نے کبھی نہ کبھی خلا میں جانے کا خواب ضرور دیکھا ہو گا، لیکن اتنی چھوٹی عمر میں شاید کوئی بھی شخص واضح طور پر نہیں جانتا کہ وہ بڑا ہو کر دراصل کیا کام کرے گا۔

تاہم آئر لینڈ کے چھ سالہ ایڈم کنگ نے امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے ایک ایسے محکمے میں کام کرنے کا عندیہ دیا کہ سننے والے حیران اور متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

آئرش ٹی وی پر کرسمس کے سلسلے میں نشر کیے جانے والے خصوصی پروگرام ’دی لیٹ، لیٹ ٹوائے شو‘ میں مہمان کے طور پر آنے والے ایڈم سے جب پوچھا گیا کہ وہ بڑے ہو کر کیا کرنا چاہیں گے تو انھوں نے جھٹ سے جواب دیا کہ وہ ناسا کے خلائی مشن کے زمینی عملے میں ’کیپ کام‘ کے شعبے میں کام کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

’کیپ کام‘ سے مراد کیپسول کمیونیکیٹر یعنی خلائی جہاز کا فلائٹ کنٹرولر ہے جو زمینی عملے اور خلابازوں کے درمیان رابطہ قائم رکھتا ہے۔

جب ننھے ایڈم سے پوچھا گیا کہ ہر کوئی تو خلا باز بننے کا خواب دیکھتا ہے تو انھوں نے بڑے تحمل سے بتایا کہ چونکہ ان کی ہڈیاں کمزور ہیں اس لیے وہ خلائی سوٹ نہیں پہن پائیں گے تاہم وہ امریکی خلائی پروگرام کے ساتھ زمینی عملے کے رکن کے طور پر کام کرنا چاہیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

’مِس سچ سچ بتائیں، کیا واقعی خلا سے جواب آیا ہے‘

ضرورت برائے سٹاف! ناسا کو نئے خلاباز درکار ہیں

تھرپارکر میں کم عمر سائنسدانوں کا میلہ

یہ دل موہ لینے والا پروگرام جمعہ کو نشر ہوا جس کے بعد معذور طالب علم کو اعلیٰ درجے کے خلابازوں اور امریکی و یورپی خلائی ایجنسیوں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے۔

ناسا نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’ہم ایک دن اپنے خواب دیکھنے والوں کی ٹیم میں انھیں بھی شامل کرنے کے منتظر ہیں۔‘

’دی لیٹ، لیٹ ٹوائے شو‘ کا شمار آئرش ٹی وی پر چلنے والے سب سے پرانے پروگرامز میں ہوتا ہے اور ایڈم اسی شو کی کرسمس کے حوالے سے ریکارڈ کی گئی خصوصی قسط کا حصہ تھے۔

یہ شو بہت سے آئرش خاندانوں کے لیے ایک سالانہ روایت ہے اور اس میں بچوں کو تازہ ترین گیمز اور کھلونوں کی جانچ کرنے اور ان کے جائزے پیش کرنے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے، جو اکثر انتہائی ایماندار ہوتے ہیں۔

https://twitter.com/RTELateLateShow/status/1332473790740262920

اعلیٰ عزائم

کارک کاؤنٹی سے تعلق رکھنے والے ایڈم اس سال کے شو کے سٹار اُس وقت بنے جب انھوں نے اپنے کیریئر کے اعلیٰ عزائم کے بارے میں بات کی۔

’آپ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہو؟‘ میزبان نے پوچھا۔

ایڈم نے جواب دیا، ’ناسا میں کیپ کام۔‘

’کیا آپ نے کبھی خلاباز بننے کے بارے میں نہیں سوچا؟‘ میزبان نے استفسار کیا۔

’ویسے میں خلاباز نہیں بن سکتا کیونکہ میری ہڈیاں نازک ہیں۔‘

ایڈم نے وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ اس کے بجائے زمینی کنٹرول کے ساتھ مل کر کام کرنے کی امید کرتے ہیں۔

تب ایڈم نے یہ ہدایات دے کر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور میزبان نے گتے سے بنے راکٹ میں خلا میں جانے کی اداکاری کی۔

جب میزبان نے اپنے نوجوان مہمان سے مائیکروفون کی جانچ کرنے کے لیے تین تک گننے کو کہا تو ایڈم نے جلدی سے ان کی اصلاح کرتے ہوئے کہا کہ ’نہیں، اصل گنتی بارہ سے شروع ہوتی ہے۔‘

شو کے کلپس سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر ہوئے جس کے بعد ناسا نے بھی ٹویٹ کیا کہ ’ایڈم کے نرم دل اور بہادر جذبے نے ہمیں متاثر کیا ہے۔‘

’ناسا میں ہر ایک کے لیے گنجائش موجود ہے اور ہم اس وقت کا بےچینی سے انتظار کر رہے ہیں جب وہ ہماری ٹیم میں شامل ہو جائیں گے۔ جب وہ تیار ہوں گے تو ہم ان کے ساتھ ہوں گے۔‘

ان کی شاندار کاکردگی کے چرچے کینیڈا کے خلاباز کرس ہیڈ فیلڈ تک بھی پہنچے جنھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’ایڈم، میں اتنا خوش قسمت رہا کہ بہت سے خلائی سفر کے لیے کیپ کام کے فرائض سرانجام دیے۔ ہمیں مل کر خلا کے بارے میں باتیں کرنی چاہییں۔‘

https://twitter.com/Cmdr_Hadfield/status/1332501993907232768

برطانوی خلاباز ٹم پیک نے ایڈم کو ایک ’سپر اسٹار‘ قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ انھوں نے ’دلوں کو تب گرمایا جب ہمیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔‘

بیک نے یورپی خلائی ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں مشن کنٹرول میں آپ کی ضرورت ہے۔‘

امریکی خلاباز شین کیمبرو نے ایڈم کو جانسن سپیس سنٹر آنے کی دعوت دی۔

’ایڈم، میں آپ سے بہت متاثر ہوا اور آپ سے ملنے کا بے چینی سے انتظار کر رہا ہوں۔ مجھے اُمید ہے کہ آپ کو جلد ہی جانسن سپیس سنٹر میں ملوں گا۔‘

ایڈم ڈبلن کے ٹیمپل سٹریٹ چلڈرن ہسپتال میں زیر علاج رہ چکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17331 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp